مہنگے ڈش واشرز کو بھول جائیں! برتنوں کی صفائی کے لیے کوئلہ استعمال کرنے کے 5 حیرت انگیز فائدے
ایک صاف ستھرا اور چمکدار کچن نہ صرف گھر کی خوبصورتی میں اضافہ کرتا ہے بلکہ وہاں کھانا پکانے والے کے موڈ کو بھی خوشگوار بنا دیتا ہے۔ اکثر خواتین کچن کی صفائی کے لیے بازار میں دستیاب مہنگے ترین کیمیکلز اور کلینرز کا انتخاب کرتی ہیں، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ ہمارے بزرگوں کے پاس اس کا ایک بہت ہی سادہ اور سستا حل موجود تھا؟ جی ہاں، برتنوں کی صفائی کے لیے کوئلہ ایک ایسا قدیم راز ہے جو آج کے جدید دور میں بھی اپنی افادیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔
ماضی کی حکمت اور کوئلے کا استعمال
پرانے وقتوں میں جب نہ تو مائع صابن (Liquid Soap) دستیاب تھے اور نہ ہی ڈش واشنگ بار، تب کچن کی تمام تر صفائی کا دارومدار قدرتی اشیاء پر ہوتا تھا۔ اس دور میں برتنوں کی صفائی کے لیے کوئلہ سب سے زیادہ قابلِ بھروسہ سمجھا جاتا تھا۔ چونکہ پہلے زمانے میں کھانا لکڑیوں یا کوئلے پر پکایا جاتا تھا، اس لیے پتیلوں کے نیچے کالک جم جانا ایک عام بات تھی۔ حیرت انگیز طور پر، اسی کالک کو دور کرنے کے لیے کوئلے کا ہی سہارا لیا جاتا تھا۔
کوئلے میں چھپی سائنسی خصوصیات
ماہرین کا کہنا ہے کہ کوئلے میں قدرتی طور پر کاربن اور ہائیڈرو کاربن پائے جاتے ہیں۔ یہ عناصر چکنائی، زنگ اور سخت ترین میل کو کاٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ جب ہم برتنوں کی صفائی کے لیے کوئلہ استعمال کرتے ہیں، تو یہ ایک قدرتی کھرچنے والے (Abrasive) ایجنٹ کے طور پر کام کرتا ہے جو دھات کو نقصان پہنچائے بغیر اسے چمکاتا ہے۔
جلے ہوئے پتیلوں کو نئے جیسا بنائیں
اگر آپ کا کوئی قیمتی پتیلا یا کڑھائی جل گئی ہے، تو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ برتنوں کی صفائی کے لیے کوئلہ لیں اور اسے باریک پیس کر پاؤڈر بنا لیں۔ اس پاؤڈر میں تھوڑا سا پانی ملا کر پیسٹ بنائیں اور جلے ہوئے حصے پر لگا کر 10 منٹ کے لیے چھوڑ دیں۔ اس کے بعد کسی بھی عام اسکرب سے اسے رگڑیں، آپ دیکھیں گے کہ جلی ہوئی تہہ منٹوں میں غائب ہو جائے گی اور برتن نئے جیسا چمکنے لگے گا۔
اوون اور گرل کی صفائی کا طریقہ
اوون کے اندرونی حصے اور گرل پر جمی ہوئی چکنائی کو صاف کرنا ایک مشکل کام ہے۔ یہاں بھی برتنوں کی صفائی کے لیے کوئلہ جادوئی اثر دکھاتا ہے۔ کوئلے کا پاؤڈر اوون کی جالیوں پر چھڑک کر تھوڑی دیر بعد گیلے کپڑے سے صاف کر لیں۔ یہ طریقہ نہ صرف میل کچیل دور کرتا ہے بلکہ اوون کے اندر سے آنے والی ناگوار بو کا بھی خاتمہ کر دیتا ہے۔
کچن کی دیواروں اور کیبنٹس کی چمک
باورچی خانے کی دیواروں اور ٹائلوں پر جمی چکنائی کے لیے ایک خاص محلول تیار کیا جا سکتا ہے۔ نیم گرم پانی میں سرکہ اور تھوڑا سا کوئلہ شامل کریں۔ اس محلول سے دیواریں صاف کرنے پر تیل کے ضدی نشان فوراً ختم ہو جاتے ہیں۔ برتنوں کی صفائی کے لیے کوئلہ استعمال کرنے کا یہ طریقہ لکڑی کے کیبنٹس پر بھی آزمایا جا سکتا ہے، بشرطیکہ اسے بہت ہلکے ہاتھ سے استعمال کیا جائے۔
کیمیائی کلینرز کے مقابلے میں کوئلے کے فوائد
آج کل کے کیمیکل کلینرز نہ صرف مہنگے ہیں بلکہ ان میں موجود تیزاب ہاتھوں کی جلد کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔ اس کے برعکس، برتنوں کی صفائی کے لیے کوئلہ مکمل طور پر قدرتی اور محفوظ ہے۔ یہ ماحول دوست ہے اور اس کے استعمال سے کسی قسم کے زہریلے بخارات پیدا نہیں ہوتے۔
جدول: کوئلہ بمقابلہ جدید کلینرز
| خصوصیات | کوئلہ (قدیم طریقہ) | جدید کیمیکل کلینرز |
| قیمت | نہایت سستا | مہنگا |
| اثر | دیرپا اور قدرتی چمک | عارضی چمک |
| جلد پر اثر | محفوظ | الرجی کا خدشہ |
| ماحول | ماحول دوست | کیمیکل آلودگی |
ضدی زنگ کا خاتمہ
لوہے کے برتنوں یا چھریوں پر اکثر زنگ لگ جاتا ہے۔ ایسی صورت میں برتنوں کی صفائی کے لیے کوئلہ بہترین حل پیش کرتا ہے۔ کوئلے کے ٹکڑے کو متاثرہ جگہ پر رگڑنے سے زنگ کی تہہ اکھڑ جاتی ہے اور دھات کی اصل رنگت واپس آ جاتی ہے۔
میکسیکو میں چوکور انسانی کھوپڑی دریافت، قدیم رسومات پر حیران کن انکشاف
جدید مصنوعات کی چمک دھمک میں ہم اکثر ان سادہ نسخوں کو بھول جاتے ہیں جو نہ صرف کارآمد ہیں بلکہ ہمارے بجٹ پر بھی بوجھ نہیں ڈالتے۔ برتنوں کی صفائی کے لیے کوئلہ ایک ایسی ہی نعمت ہے جسے اپنا کر آپ اپنے کچن کو مثالی بنا سکتے ہیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے مہمان آپ کے چمکدار برتنوں کی تعریف کریں، تو آج ہی سے برتنوں کی صفائی کے لیے کوئلہ استعمال کرنا شروع کریں۔