22 بڑے آپریشنز کے بعد امن کی کیا ضمانت، ناکام پالیسی کی تبدیل کرنے کا کہیں تو دہشت گردوں کا حامی کہا جاتا، وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی
خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ 22 بڑے اور 14 ہزار سے زائد چھوٹے آپریشنز کے باوجود یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ آخر امن کی ضمانت کون دے گا۔ انہوں نے کہا کہ ناکام پالیسیوں پر سوال اٹھانے اور تبدیلی کا مطالبہ کرنے والوں کو دہشت گردوں کا حامی قرار دیا جاتا ہے، جو انتہائی افسوسناک ہے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی وادی تیرہ میں آپریشن سے متاثرہ افراد سے ملاقات کے لیے پہنچے، جہاں انہوں نے متاثرین کے مسائل سنے اور ان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ تیرہ کے عوام کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ ناقابل قبول ہے، لیکن بار بار ناکامی کے باوجود بند کمروں میں کیے گئے فیصلوں سے باز نہیں آیا جا رہا۔
انہوں نے کہا کہ اگر مشاورت کی بات کی جائے تو الزام لگایا جاتا ہے کہ اسمگلروں سے تعلق ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ میں اور میری حکومت اپنے عوام کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں۔ سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ انہی پالیسیوں کی مخالفت کی وجہ سے انہیں اور ان کی قوم کو نشانہ بنایا جا رہا ہے کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ میرے سینے میں اپنے عوام کے لیے درد ہے۔

وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی نے واضح کیا کہ ان کی حکومت پہلے دن سے امن کے حق میں اور آپریشن کے خلاف رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کل بھی ان ناکام پالیسیوں کے خلاف تھے، آج بھی ہیں اور آئندہ بھی عوام کو تباہ کرنے والی کسی پالیسی کا حصہ نہیں بنیں گے۔
انہوں نے متاثرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ ہی میں سے ہوں اور مرتے دم تک پہاڑ کی طرح آپ کے ساتھ کھڑا رہوں گا۔ زور زبردستی اور بدمعاشی کے ذریعے آپریشن شروع کیا گیا، اعلان کر کے عوام کو مشکلات میں جھونک دیا گیا اور پھر انہیں بے سہارا چھوڑ دیا گیا۔
وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی نے کہا کہ تیرہ کے متاثرین کا تحفظ اور عزت اب میری براہ راست ذمہ داری ہے اور اس معاملے میں کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ متاثرہ عوام کی مشکلات فوری کم کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں۔
وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی نے کہا کہ جگہ جگہ عوام کو روکنا، قطاروں میں کھڑا کر کے تذلیل کرنا ناقابل برداشت ہے۔ انہوں نے رجسٹریشن کے عمل کو تیز کرنے کے لیے نادرا کے مزید دفاتر ہنگامی بنیادوں پر قائم کرنے کی ہدایت دی۔
ان کا کہنا تھا کہ عوام سے وعدہ ہے کہ بندوق کو قلم سے بدلا جائے گا، اور مستقل و پائیدار امن کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے متفقہ پالیسی ہی واحد حل ہے۔
میں بار بار کہہ چکا ہوں کہ اس وقت تیراہ کا آپریشن اور لوگوں کا زبردستی انخلأ بند کمروں کا فیصلہ ہے جس کا مقصد دہشتگردی ختم کرنا نہیں سیاسی عزائم پورے کرنا ہے۔
تیراہ میرا گھر ہے۔ وہ لوگ میرے ہیں۔ میں اُن سے ہوں اور وہ مجھ سے ہیں۔ وہاں پر آج جو کچھ کروایا جا رہا ہے وہ صرف مجھے… pic.twitter.com/DAorasmdRo
— Sohail Afridi (@SohailAfridiISF) January 15, 2026