پنجاب بلدیاتی انتخابات کا شیڈول کیوں طے نہ ہو سکا؟ غیر یقینی صورتحال برقرار

پنجاب بلدیاتی انتخابات سے متعلق الیکشن کمیشن کی تیاریوں کی تصویر
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کب ہوں گے؟ شیڈول تاحال طے نہ ہو سکا

پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد سے متعلق غیر یقینی صورتحال بدستور برقرار ہے اور تاحال انتخابات کے شیڈول کا اعلان نہیں کیا جا سکا۔ صوبے میں مقامی حکومتوں کے قیام کا عمل مسلسل تاخیر کا شکار ہے، جس کے باعث اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کا آئینی و جمہوری مقصد بھی متاثر ہو رہا ہے۔ تازہ ترین پیش رفت کے مطابق پنجاب حکومت نے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے مزید وقت مانگنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے لیے درکار قانونی اور انتظامی تقاضے ابھی تک مکمل نہیں ہو سکے۔ بلدیاتی الیکشن رولز کی تیاری، حد بندیوں (ڈیمارکیشن) اور حلقہ بندیوں کا عمل تاحال نامکمل ہے، جس کے باعث انتخابات کے انعقاد میں مزید تاخیر کا خدشہ بڑھتا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صوبائی حکومت نے فوری طور پر انتخابات کرانے کے بجائے الیکشن کمیشن سے اضافی وقت لینے کی حکمت عملی اپنائی ہے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پنجاب حکومت کو 22 جنوری کو طلب کر لیا ہے، جہاں بلدیاتی انتخابات سے متعلق پیش رفت، قانونی معاملات اور انتظامی تیاریوں پر تفصیلی غور کیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت اس اجلاس میں کم از کم ایک ماہ کا اضافی وقت مانگے گی تاکہ الیکشن رولز کو حتمی شکل دی جا سکے اور حد بندیوں کے عمل کو مکمل کیا جا سکے۔

ذرائع کے مطابق بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کی سب سے بڑی وجہ حلقہ بندیاں نہ ہونا ہے۔ الیکشن کمیشن کے ضوابط کے مطابق بلدیاتی انتخابات کے لیے نئی حد بندیاں ضروری ہیں، تاہم یہ عمل ابھی شروع نہیں ہو سکا۔ حد بندیوں کے بغیر حلقہ بندیاں ممکن نہیں، اور جب تک حلقہ بندیاں مکمل نہ ہوں، انتخابی شیڈول جاری نہیں کیا جا سکتا۔

آئینی ماہرین کے مطابق حلقہ بندیاں کروانا الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری ہے، تاہم اس کے لیے صوبائی حکومت کی جانب سے درست اور مکمل ڈیٹا کی فراہمی بھی لازمی ہوتی ہے۔ پنجاب حکومت کی جانب سے بلدیاتی نظام میں تبدیلیوں، نئی یونین کونسلز اور وارڈز کی تعداد کے تعین میں تاخیر نے بھی اس عمل کو متاثر کیا ہے۔

بلدیاتی الیکشن رولز پر الیکشن کمیشن کی جانب سے متعدد اعتراضات عائد کیے گئے تھے، جن میں انتخابی شفافیت، نتائج کی تیاری اور اپیل کے طریقہ کار سے متعلق نکات شامل تھے۔ تاہم ذرائع کے مطابق فارم 45 اور فارم 47 سے متعلق اعتراضات دور کر دیے گئے ہیں، جو انتخابی نتائج کے اجراء میں بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ اسی طرح ڈپٹی میئر کے انتخاب کا طریقہ کار بھی واضح کر دیا گیا ہے، جس سے شہری حکومتوں کے ڈھانچے سے متعلق ابہام میں کسی حد تک کمی آئی ہے۔

اس کے علاوہ مخصوص نشستوں، جن میں خواتین، اقلیتوں اور دیگر طبقات کی نشستیں شامل ہیں، ان کے انتخابات کے طریقہ کار کو بھی حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ الیکشن کمیشن نے ان ترامیم اور وضاحتوں کے بعد بلدیاتی الیکشن رولز کی سمری دوبارہ پنجاب حکومت کو بھجوا دی ہے، تاکہ صوبائی کابینہ کی منظوری کے بعد اسے نافذ کیا جا سکے۔

سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات میں تاخیر سے جمہوری عمل متاثر ہو رہا ہے اور مقامی سطح پر ترقیاتی کام شدید متاثر ہیں۔ بلدیاتی نمائندوں کی عدم موجودگی کے باعث شہری مسائل کے حل میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں، جبکہ انتظامی اختیارات بیوروکریسی کے پاس مرکوز ہو چکے ہیں، جس پر مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

اپوزیشن جماعتوں کا مؤقف ہے کہ صوبائی حکومت دانستہ طور پر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کر رہی ہے تاکہ سیاسی دباؤ اور ممکنہ انتخابی نتائج سے بچا جا سکے۔ دوسری جانب پنجاب حکومت کا کہنا ہے کہ وہ شفاف، منصفانہ اور آئین کے مطابق بلدیاتی انتخابات کرانے کے لیے پرعزم ہے، تاہم قانونی اور تکنیکی تقاضوں کو پورا کیے بغیر انتخابات کرانا ممکن نہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر 22 جنوری کے اجلاس میں پنجاب حکومت کو مزید وقت دے دیا گیا تو بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ایک بار پھر غیر معینہ مدت تک مؤخر ہو سکتا ہے۔ تاہم اگر الیکشن کمیشن سخت مؤقف اختیار کرتا ہے تو حکومت کو حد بندیوں اور حلقہ بندیوں کا عمل تیز کرنا پڑے گا۔

واضح رہے کہ آئینِ پاکستان کے مطابق صوبوں میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ایک آئینی ذمہ داری ہے، اور سپریم کورٹ بھی ماضی میں اس معاملے پر سخت ریمارکس دے چکی ہے۔ اس تناظر میں الیکشن کمیشن اور پنجاب حکومت پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے کہ وہ جلد از جلد بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنائیں۔

مجموعی طور پر پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کا مستقبل تاحال غیر یقینی دکھائی دیتا ہے۔ 22 جنوری کو ہونے والا اجلاس اس حوالے سے فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے، تاہم موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے یہی کہا جا سکتا ہے کہ پنجاب کے عوام کو بلدیاتی نمائندوں کے انتخاب کے لیے مزید انتظار کرنا پڑے گا۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]