گلگت بلتستان میں زلزلہ: غذر، ہنزہ اور نگر میں خوف و ہراس، لوگ گھروں سے باہر نکل آئے
گلگت بلتستان کے ضلع غذر اور اس سے ملحقہ علاقوں میں شدید زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جس کے باعث پورے خطے میں خوف و ہراس کی فضا قائم ہو گئی۔ زلزلے کے اچانک جھٹکوں نے شہریوں کو بری طرح خوفزدہ کر دیا اور لوگ گھروں، دفاتر، تعلیمی اداروں اور دیگر عمارتوں سے باہر نکل آئے۔ زلزلے کے جھٹکے اتنے شدید تھے کہ کئی مقامات پر عمارتیں لرز اٹھیں اور لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے کھلے مقامات کی طرف دوڑتے دکھائی دیے۔
اطلاعات کے مطابق ضلع غذر کے مختلف علاقوں کے علاوہ ہنزہ، نگر اور گرد و نواح کے علاقوں میں بھی زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔ بعض مقامی افراد کا کہنا ہے کہ زلزلے کے جھٹکے چند سیکنڈ تک جاری رہے تاہم ان کی شدت نے لوگوں کو خوف میں مبتلا کر دیا۔ زلزلے کے فوراً بعد موبائل فون نیٹ ورکس پر شہری ایک دوسرے سے رابطہ کرتے رہے تاکہ اپنے عزیز و اقارب کی خیریت معلوم کر سکیں۔
زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوتے ہی شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ کئی علاقوں میں لوگ اپنے گھروں سے باہر نکل کر سڑکوں، میدانوں اور کھلے مقامات پر جمع ہو گئے۔ بعض افراد نے خدشہ ظاہر کیا کہ کہیں آفٹر شاکس نہ آ جائیں، جس کے باعث لوگ کافی دیر تک عمارتوں میں واپس جانے سے گریز کرتے رہے۔ والدین اپنے بچوں کو سینے سے لگائے خوف زدہ نظر آئے جبکہ بزرگ شہری مسلسل دعا کرتے رہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس زلزلے کے نتیجے میں کسی قسم کے جانی یا مالی نقصان کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی، جو کہ ایک اطمینان بخش امر ہے۔ تاہم متعلقہ ادارے صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ کسی ممکنہ نقصان یا خطرے کا بروقت اندازہ لگایا جا سکے۔ ضلعی انتظامیہ نے تمام متعلقہ محکموں کو الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق زلزلے کی شدت اور اس کے مرکز کے حوالے سے مزید معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔ ابتدائی طور پر اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر قابلِ ذکر رہی، تاہم حتمی تصدیق ڈیٹا مکمل ہونے کے بعد ہی کی جا سکے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان چونکہ زلزلہ خیز خطے میں واقع ہے، اس لیے یہاں وقتاً فوقتاً زلزلے آتے رہتے ہیں، تاہم شہریوں کو احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا نہایت ضروری ہے۔
ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں نے فوری طور پر مختلف علاقوں میں ٹیمیں روانہ کر دی ہیں تاکہ عمارتوں، پلوں اور دیگر حساس مقامات کا معائنہ کیا جا سکے۔ ریسکیو 1122، پولیس اور مقامی انتظامیہ کے اہلکار الرٹ ہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔ اسپتالوں میں بھی ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے، اگرچہ اب تک کسی زخمی کے رپورٹ ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
ضلعی انتظامیہ کے ترجمان کے مطابق عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور صرف مستند ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات پر ہی یقین کریں۔ اس کے علاوہ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ زلزلے کے بعد آنے والے ممکنہ آفٹر شاکس کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کریں، کمزور عمارتوں میں غیر ضروری قیام سے گریز کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر متعلقہ اداروں سے رابطہ کریں۔
ماہرین ارضیات کے مطابق گلگت بلتستان کا خطہ قدرتی طور پر زلزلہ خیز ہے کیونکہ یہ علاقہ مختلف ٹیکٹونک پلیٹس کے سنگم پر واقع ہے۔ اسی وجہ سے یہاں زلزلوں کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ عمارتوں کی تعمیر میں زلزلہ مزاحم اصولوں کو مدنظر رکھا جانا چاہیے تاکہ مستقبل میں کسی بڑے نقصان سے بچا جا سکے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس زلزلے سے کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا، لیکن اس نے ایک بار پھر اس حقیقت کی یاد دہانی کرا دی ہے کہ قدرتی آفات کسی بھی وقت آ سکتی ہیں۔ عوام نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ زلزلہ سے نمٹنے کے لیے آگاہی مہمات شروع کی جائیں، ایمرجنسی پلانز کو مزید مؤثر بنایا جائے اور دیہی علاقوں میں ریسکیو سہولیات کو بہتر کیا جائے۔
آخر میں، صورتحال اب مکمل طور پر قابو میں ہے اور معمولاتِ زندگی بتدریج بحال ہو رہے ہیں۔ تاہم ضلعی انتظامیہ، محکمہ موسمیات اور ریسکیو ادارے مسلسل نگرانی کر رہے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بروقت نمٹا جا سکے۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ پرسکون رہیں، احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور اللہ تعالیٰ سے حفاظت کی دعا کرتے رہیں۔


One Response