سونے کی قیمت میں کمی، پاکستان میں آج سونے اور چاندی کے تازہ نرخ

سونے کی قیمت میں کمی – پاکستان صرافہ بازار
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

سونے کی قیمت میں کمی: صرافہ بازار میں فی تولہ سونا 800 روپے سستا

سونے کی قیمت میں گزشتہ کئی روز سے جاری تاریخی اضافے کے بعد بالآخر آج کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس نے سرمایہ کاروں، صرافہ بازار اور عام خریداروں کو کسی حد تک اطمینان کا موقع فراہم کیا ہے۔ مسلسل مہنگائی کے باعث سونا عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا تھا، تاہم آج کی کمی کو مارکیٹ میں ایک وقتی ریلیف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

صرافہ بازار ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کردہ تازہ بیان کے مطابق ملک بھر میں سونے کی قیمت میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ اعلامیے کے مطابق سونے کی فی تولہ قیمت میں 800 روپے کی کمی کی گئی ہے، جس کے بعد فی تولہ سونا 5 لاکھ 6 ہزار 362 روپے سے کم ہو کر 5 لاکھ 5 ہزار 562 روپے کی سطح پر آ گیا ہے۔ اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی 686 روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے بعد 10 گرام سونا 4 لاکھ 34 ہزار 123 روپے سے کم ہو کر 4 لاکھ 33 ہزار 437 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔

یہ کمی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ چند ہفتوں کے دوران سونے کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح کو چھو رہی تھیں۔ مسلسل اضافے نے نہ صرف زیورات کے خریداروں کو متاثر کیا بلکہ شادی بیاہ اور دیگر تقریبات کے لیے سونا خریدنا بھی انتہائی مشکل ہو گیا تھا۔ صرافہ مارکیٹ سے وابستہ تاجروں کے مطابق قیمتوں میں اس بے تحاشا اضافے کی بڑی وجوہات میں عالمی مالیاتی دباؤ، ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ، مہنگائی کی بلند شرح اور عالمی منڈی میں سونے کی طلب میں اضافہ شامل تھا۔

چاندی کی قیمت میں بھی آج معمولی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ صرافہ بازار کے مطابق چاندی کی فی تولہ قیمت 30 روپے کم ہو کر 9 ہزار 933 روپے سے 9 ہزار 903 روپے ہو گئی ہے۔ اگرچہ چاندی کی قیمت میں کمی سونے کے مقابلے میں نسبتاً کم ہے، تاہم اس کا اثر بھی مارکیٹ پر واضح طور پر دیکھا جا رہا ہے، خصوصاً ان صارفین کے لیے جو چاندی کو سرمایہ کاری یا صنعتی استعمال کے لیے خریدتے ہیں۔

دوسری جانب عالمی منڈی میں بھی قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی ہے۔ عالمی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 8 ڈالر کی کمی کے بعد 4 ہزار 840 ڈالر سے کم ہو کر 4 ہزار 832 ڈالر ریکارڈ کی گئی ہے۔ اسی طرح عالمی سطح پر چاندی کی قیمت میں بھی کمی دیکھنے میں آئی ہے اور فی اونس چاندی 30 سینٹ سستی ہو کر 94 ڈالر 28 سینٹ کی سطح پر آ گئی ہے۔

ماہرین معاشیات اور صرافہ مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں آنے والی اس کمی کے اثرات مقامی مارکیٹ پر بھی مرتب ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق عالمی سطح پر شرح سود سے متعلق خدشات، امریکی ڈالر کی قدر میں بہتری اور کچھ ممالک کی جانب سے سونے کے ذخائر خریدنے کی رفتار میں کمی جیسے عوامل نے قیمتوں کو نیچے لانے میں کردار ادا کیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگرچہ آج کی کمی خریداروں کے لیے خوش آئند خبر ہے، تاہم اسے مستقل رجحان قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ عالمی اقتصادی حالات، جغرافیائی سیاسی کشیدگیاں اور مالیاتی پالیسیوں میں کسی بھی قسم کی تبدیلی سونے کی قیمتوں کو دوبارہ اوپر لے جا سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں اور مارکیٹ کی سمت کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔

صرافہ بازار کے تاجروں کے مطابق قیمتوں میں کمی کے بعد مارکیٹ میں خریداروں کی دلچسپی میں معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے، تاہم خریداری کا حجم اب بھی توقعات سے کم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر قیمتوں میں مزید استحکام یا کمی آتی ہے تو زیورات کی خریداری میں واضح اضافہ ہو سکتا ہے، خاص طور پر شادی کے سیزن کے پیش نظر۔

عوامی سطح پر بھی سونے کی قیمت میں کمی کو مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند ہفتوں میں قیمتیں اس قدر بڑھ گئی تھیں کہ سونا خریدنا تقریباً ناممکن ہو گیا تھا۔ آج کی کمی اگرچہ بہت زیادہ نہیں، لیکن اس سے امید پیدا ہوئی ہے کہ شاید آنے والے دنوں میں قیمتیں مزید نیچے آ سکیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سونا ہمیشہ سے ایک محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا رہا ہے، خاص طور پر غیر یقینی معاشی حالات میں لوگ سونے کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ تاہم قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ عام صارفین کے لیے مشکلات پیدا کرتا ہے۔ ایسے میں قیمتوں میں توازن نہ صرف مارکیٹ بلکہ مجموعی معیشت کے لیے بھی ضروری ہے۔

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ سونے اور چاندی کی قیمتوں میں آج کی کمی ایک اہم پیش رفت ہے، لیکن مستقبل کا دارومدار عالمی اور مقامی معاشی حالات پر ہوگا۔ سرمایہ کاروں اور خریداروں کو چاہیے کہ وہ مارکیٹ کے رجحانات پر نظر رکھیں اور سوچ سمجھ کر فیصلے کریں۔ اگر عالمی منڈی میں استحکام آتا ہے تو ممکن ہے کہ مقامی سطح پر بھی قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں مزید بہتری دیکھنے میں آئے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]