وزیراعلیٰ پنجاب کا بڑا اقدام: مختلف محکموں میں ہزاروں ’پنجاب میں سرکاری بھرتیاں‘ کرنے کا فیصلہ
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا 32واں اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے بڑے مواقع پیدا کرنے کا اعلان کیا گیا۔ اس اجلاس کا سب سے اہم پہلو مختلف سرکاری محکموں میں خالی آسامیوں کو پُر کرنا تھا، جس کے تحت پنجاب میں سرکاری بھرتیاں ہنگامی بنیادوں پر شروع کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔
کابینہ کے 32ویں اجلاس کے کلیدی فیصلے
پنجاب کابینہ کے اس اجلاس میں انتظامی ڈھانچے کو بہتر بنانے اور بے روزگاری کے خاتمے کے لیے متعدد محکموں میں نئی آسامیوں کی تخلیق اور پرانی آسامیوں پر تقرریوں کی اجازت دی گئی۔ پنجاب میں سرکاری بھرتیاں کرنے کا مقصد سرکاری محکموں کی کارکردگی کو تیز کرنا اور عوام کو بروقت خدمات فراہم کرنا ہے۔ مریم نواز شریف نے واضح کیا کہ تمام بھرتیاں میرٹ پر مبنی ہوں گی۔
محکمہ ایکسائز اور نارکوٹکس میں کانسٹیبلز کی تقرری
اجلاس میں محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول کے لیے 216 خالی آسامیوں پر کانسٹیبل بھرتی کرنے کی منظوری دی گئی۔ یہ فیصلہ منشیات کے خاتمے اور ٹیکس وصولی کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ پنجاب میں سرکاری بھرتیاں نہ صرف امن و امان کے قیام میں مددگار ثابت ہوں گی بلکہ اس سے محکمہ ایکسائز کی افرادی قوت میں بھی اضافہ ہوگا۔
کرائم کنٹرول اور ٹورازم پولیس کے لیے بڑی خوشخبری
کابینہ نے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کے لیے 1000 نئی آسامیوں کی منظوری دے کر جرائم کے خلاف جنگ میں ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، مری میں سیاحوں کے تحفظ اور سہولت کے لیے ‘مری ٹورازم پولیس’ میں 980 نئی آسامیوں کی منظوری دی گئی ہے۔ ان محکموں میں پنجاب میں سرکاری بھرتیاں ہونے سے مری جیسے سیاحتی مقامات پر نظم و ضبط بہتر ہوگا۔
آئی ٹی اور انوویشن ڈیپارٹمنٹ میں نئی آسامیاں
جدید دور کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ انوویشن ڈیپارٹمنٹ میں بھی نئی آسامیوں کی منظوری دی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کا وژن ہے کہ صوبے کو ڈیجیٹلائز کیا جائے، اور اس مقصد کے لیے پنجاب میں سرکاری بھرتیاں ماہرینِ تعلیم اور ٹیکنالوجی کے ماہرین کے لیے بہترین موقع فراہم کریں گی۔
محکمہ سیاحت اور آثارِ قدیمہ میں پابندی کا خاتم
اجلاس کے دوران ٹورازم، آرکیالوجی، میوزیم اور اس سے ملحقہ دیگر محکموں میں بھرتیوں پر لگی پابندی میں نرمی کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ ٹی ڈی سی پی (TDCP) میں کنٹریکٹ کی بنیاد پر آسامیوں کی منظوری دی گئی ہے۔ ان اقدامات سے سیاحت کے شعبے میں نئی روح پھونکی جائے گی اور پنجاب میں سرکاری بھرتیاں صوبے کے ریونیو میں اضافے کا سبب بنیں گی۔
صحت اور تعلیم کے شعبے میں اہم اقدامات
اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے آئی سی ٹی (ICT) سیل کے ملازمین کی ملازمتیں جاری رکھنے کی بھی منظوری دی گئی۔ کابینہ نے سرکاری میڈیکل یونیورسٹیز کے وائس چانسلرز کی سلیکشن کے لیے نئے اور سخت قواعد و ضوابط کی منظوری دی تاکہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں بہترین قیادت لائی جا سکے۔ پنجاب میں سرکاری بھرتیاں تعلیمی معیار کو بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کریں گی۔
محکمہ اوقاف میں زرعی اصلاحات
ایک منفرد فیصلے کے تحت محکمہ اوقاف میں ‘ڈائریکٹر ایگریکلچر’ کی نئی آسامی تخلیق کرنے کی منظوری دی گئی۔ اس کا مقصد اوقاف کی زمینوں کو جدید زرعی خطوط پر استوار کرنا ہے۔ مریم نواز کی حکومت کی کوشش ہے کہ پنجاب میں سرکاری بھرتیاں ہر شعبے میں توازن اور بہتری پیدا کریں۔
شفافیت اور میرٹ کی یقین دہانی
وزیراعلیٰ مریم نواز نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ پنجاب میں سرکاری بھرتیاں مکمل طور پر شفاف طریقے سے ہونی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی مرحلے پر سفارش یا اقربا پروری برداشت نہیں کی جائے گی۔ نوجوانوں کو ان کی قابلیت کی بنیاد پر روزگار فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
بسنت تہوار آفیشل لوگو جاری، پنجابی ثقافت اور رنگوں کی بھرپور عکاسی
مجموعی طور پر پنجاب کابینہ کا یہ اجلاس صوبے کی ترقی کے لیے سنگِ میل ثابت ہوگا۔ پنجاب میں سرکاری بھرتیاں شروع ہونے سے ہزاروں خاندانوں کو معاشی استحکام ملے گا۔ حکومت کا یہ عزم ہے کہ آنے والے مہینوں میں مزید محکموں میں بھی خالی آسامیوں کو پُر کیا جائے گا تاکہ انتظامی مشینری مکمل استعداد کے ساتھ کام کر سکے۔