سی پیک کا گیٹ وے ’سوست ڈرائی پورٹ‘ اربوں روپے کا ریونیو اور عوام کے لیے بڑا ٹیکس ریلیف
پاکستان اور چین کے درمیان زمینی تجارت کے لیے کلیدی حیثیت رکھنے والا سوست ڈرائی پورٹ اس وقت قومی معیشت اور علاقائی ترقی کے ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے۔ گلگت بلتستان میں واقع یہ پورٹ نہ صرف سی پیک (CPEC) کا اہم تجارتی گیٹ وے ہے بلکہ یہ پاک چین دوستی اور معاشی تعاون کی جیتی جاگتی مثال بھی ہے۔ حالیہ حکومتی اقدامات کے بعد اس پورٹ کی اہمیت میں مزید اضافہ ہوا ہے، جس سے مقامی عوام کے لیے خوشحالی کے نئے دروازے کھل رہے ہیں۔
قومی سپلائی چین کی ریڑھ کی ہڈی
حکام کے مطابق سوست ڈرائی پورٹ گلگت بلتستان سے لے کر کراچی تک پھیلے ہوئے قومی سپلائی چین اور تجارتی نظام میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ چین سے آنے والا تمام زمینی مال اسی راستے سے پاکستان کی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔ اس تجارتی راستے کی فعالیت ملکی معیشت کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے، کیونکہ یہ کم ترین وقت اور لاگت میں بین الاقوامی تجارت کا موقع فراہم کرتا ہے۔
اربوں روپے کا ریونیو اور معاشی استحکام
گزشتہ سال کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ سوست ڈرائی پورٹ نے ملکی خزانے کو بھرنے میں غیر معمولی کردار ادا کیا ہے۔ اس پورٹ سے تقریباً 22 ارب روپے کا ریونیو حاصل کیا گیا، جو ملکی معیشت کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔ تجارت کے حجم میں اضافے کے ساتھ ساتھ یہ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے سالوں میں یہ ریونیو مزید بڑھے گا، جس سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ترقیاتی کاموں کے لیے فنڈز میسر آئیں گے۔
گلگت بلتستان کے عوام کے لیے تاریخی ٹیکس ریلیف
حکومت نے گلگت بلتستان کے عوام کے دیرینہ مطالبات کو تسلیم کرتے ہوئے سوست ڈرائی پورٹ کے ذریعے آنے والی اشیاء پر سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں تقریباً 4 ارب روپے کے بڑے ریلیف کا اعلان کیا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد خطے میں مہنگائی کو کنٹرول کرنا اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں کمی لانا ہے۔ یہ ریلیف براہ راست غریب اور متوسط طبقے کو مالی فائدہ پہنچانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
مقامی تجارت اور روزگار کے نئے مواقع
سوست ڈرائی پورٹ پر بڑھتی ہوئی سرگرمیاں صرف درآمدات تک محدود نہیں بلکہ اس سے مقامی تجارت کو بھی زبردست فروغ مل رہا ہے۔ پورٹ کی بہتر سہولیات اور ٹیکسوں میں کمی کی وجہ سے مقامی تاجروں کے لیے کاروبار کرنا آسان ہو گیا ہے۔ اس عمل سے ٹرانسپورٹ، ہوٹلنگ اور گودام سازی (Warehousing) جیسے شعبوں میں روزگار کے ہزاروں نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں، جو گلگت بلتستان کے نوجوانوں کے لیے ایک امید کی کرن ہے۔
سی پیک کا گیٹ وے اور بین الاقوامی اہمیت
دنیا بھر میں سی پیک کو گیم چینجر قرار دیا جا رہا ہے، اور سوست ڈرائی پورٹ اس منصوبے کا پہلا اور اہم ترین لینڈ پورٹ ہے۔ چین کے ساتھ براہ راست زمینی رابطے کی وجہ سے یہ مقام وسطی ایشیائی ریاستوں تک رسائی کا بھی بہترین ذریعہ بن سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس پورٹ کو مزید جدید بنایا جائے تو یہ خطے کا سب سے بڑا تجارتی مرکز بن کر ابھر سکتا ہے۔
عوامی سہولیات اور حکومتی وژن
حکام کا کہنا ہے کہ سوست ڈرائی پورٹ پر فراہم کیا گیا ٹیکس ریلیف کسی مخصوص طبقے یا سرمایہ داروں کے لیے نہیں بلکہ اس کا ثمر عام آدمی تک پہنچے گا۔ اشیاء کی قیمتوں میں کمی اس بات کا ثبوت ہوگی کہ حکومت عوامی فلاح و بہبود کے لیے سنجیدہ ہے۔ پورٹ پر کسٹمز اور دیگر کلیئرنس کے نظام کو بھی ڈیجیٹلائز کیا جا رہا ہے تاکہ تاجروں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
مستقبل کا لائحہ عمل اور ماہرین کی رائے
معاشی ماہرین کے مطابق سوست ڈرائی پورٹ کی مکمل فعالیت پاکستان کی معاشی خود مختاری کے لیے ضروری ہے۔ اس امر کو یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے کہ پورٹ سے حاصل ہونے والے ریونیو کا ایک حصہ مقامی انفراسٹرکچر کی بہتری پر بھی خرچ کیا جائے۔ سڑکوں کی تعمیر اور بجلی کی مسلسل فراہمی سے اس تجارتی گیٹ وے کی افادیت کو چار چاند لگ جائیں گے۔
سوست پورٹ ہڑتال، شرپسند عناصر کے ذاتی مفاد اور اصل حقائق
مختصر یہ کہ سوست ڈرائی پورٹ صرف ایک بندرگاہ نہیں بلکہ پاکستان کی ترقی کا روشن راستہ ہے۔ ٹیکس ریلیف، روزگار کی فراہمی اور اربوں روپے کا ریونیو اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ یہ منصوبہ درست سمت میں گامزن ہے۔ اگر اسی تسلسل کے ساتھ اقدامات جاری رہے تو وہ دن دور نہیں جب گلگت بلتستان معاشی سرگرمیوں کا عالمی مرکز بن جائے گا۔