تعلیمی اداروں کی چھٹیاں کم کرنے کا فیصلہ: پنجاب میں نیا تعلیمی کیلنڈر تیار

تعلیمی اداروں کی چھٹیاں
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

پنجاب حکومت کا بڑا اقدام: ’تعلیمی اداروں کی چھٹیاں‘ کم کر کے 190 تعلیمی دن لازمی قرار

پنجاب بھر کے اسکولوں اور کالجوں کے طلبہ و طالبات کے لیے ایک اہم اور بڑی خبر سامنے آئی ہے۔ حکومتِ پنجاب نے لاہور ہائیکورٹ کے احکامات کی روشنی میں تعلیمی نظام میں بڑی تبدیلی لانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت تعلیمی اداروں کی چھٹیاں کم کر دی جائیں گی تاکہ بچوں کی تعلیم کا حرج نہ ہو۔

190 روز کا یکساں تعلیمی کیلنڈر

لاہور ہائیکورٹ کے راولپنڈی بینچ کی ہدایات پر قائم کی گئی خصوصی کمیٹی نے اپنی سفارشات پیش کر دی ہیں۔ ان سفارشات کے مطابق پنجاب بھر کے تمام اسکولوں اور کالجوں میں اب سالانہ کم از کم 190 تعلیمی دن مکمل کرنا لازمی ہوں گے۔ اس فیصلے کا مقصد صوبے بھر میں تعلیم کے معیار کو یکساں بنانا اور تعلیمی اداروں کی چھٹیاں ایک مقررہ حد تک محدود کرنا ہے۔

موسمِ گرما کی تعطیلات میں بڑی کٹوتی

کمیٹی کی جانب سے پیش کردہ تجاویز میں سب سے اہم نکتہ موسمِ گرما (سمر ویکیشن) سے متعلق ہے۔ اب تک پنجاب میں موسمِ گرما کی تعطیلات دو ماہ پندرہ دن تک ہوتی تھیں، لیکن نئے منصوبے کے تحت انہیں صرف 6 ہفتوں تک محدود کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ تعلیمی اداروں کی چھٹیاں کم ہونے سے موسمِ گرما کا طویل وقفہ اب ماضی کا حصہ بن جائے گا، اور طلبہ کو اپنی پڑھائی پر زیادہ توجہ دینے کا موقع ملے گا۔

سالانہ 175 تعطیلات کا نیا فارمولا

نئے تعلیمی ڈھانچے کے تحت، صوبے کے تعلیمی اداروں کو سال بھر میں مجموعی طور پر 175 تعطیلات ملیں گی۔ ان میں ہفتہ وار چھٹیاں، مذہبی تہوار اور قومی ایام کی چھٹیاں شامل ہوں گی۔ اس سے قبل تعلیمی اداروں کی چھٹیاں غیر منظم ہونے کی وجہ سے اکثر تعلیمی سیشن بروقت مکمل نہیں ہو پاتے تھے۔ اب 190 دن کی لازمی تدریس سے اساتذہ کو نصاب مکمل کرنے میں آسانی ہوگی۔

نجی اسکول ایسوسی ایشنز کی حمایت

حیرت انگیز طور پر، پنجاب بھر کی نجی اسکول ایسوسی ایشنز نے بھی اس تجویز کی مکمل تائید کی ہے۔ پرائیویٹ سیکٹر کا ماننا ہے کہ تعلیمی اداروں کی چھٹیاں حد سے زیادہ ہونے کی وجہ سے بچوں کا تعلیمی تسلسل ٹوٹ جاتا ہے۔ یکساں کیلنڈر آنے سے سرکاری اور نجی دونوں طرح کے اداروں میں تعلیمی سال کا آغاز اور اختتام ایک ہی وقت پر ممکن ہو سکے گا۔

سیکریٹری اسکول ایجوکیشن کی ہدایات

صوبائی اسکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے اسپیشل سیکریٹری محمد اقبال نے اس معاملے پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حکام کو ہدایت دی ہے کہ تین روز کے اندر یکساں تعلیمی کیلنڈر کو حتمی شکل دی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں کی چھٹیاں کم کرنے کا مقصد کسی کو مشکل میں ڈالنا نہیں بلکہ تعلیمی عمل کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالنا ہے۔

تعلیمی کارکردگی پر منفی اثرات کا خاتمہ

کمیٹی کی رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ چھٹیوں کی بھرمار سے طلبہ کی مجموعی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے۔ خصوصاً میٹرک اور انٹرمیڈیٹ جیسی بڑی کلاسوں میں نصاب ادھورا رہ جاتا تھا، جسے پورا کرنے کے لیے اساتذہ کو اضافی کلاسیں لینا پڑتی تھیں۔ تعلیمی اداروں کی چھٹیاں باقاعدہ بنانے سے اب نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں کے لیے متوازن وقت میسر ہوگا۔

اعلیٰ کلاسوں کے لیے خوشخبری

سینئر کلاسز کے وہ طلبہ جو ہر سال نصاب مکمل نہ ہونے کی شکایت کرتے تھے، اب ان کے لیے کافی وقت ہوگا۔ چھٹیاں محدود کرنے سے امتحانات کی تیاری کے لیے زیادہ دن ملیں گے۔ ماہرینِ تعلیم کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں کی چھٹیاں کم کرنے کا یہ ماڈل اگر کامیابی سے نافذ ہو گیا تو پنجاب کی تعلیمی درجہ بندی میں نمایاں بہتری آئے گی۔

پنجاب کے تعلیمی اداروں میں چھٹیوں میں توسیع نہیں ہوگی، وزیر تعلیم کی وضاحت

پنجاب حکومت کا یہ فیصلہ صوبے میں تعلیمی انقلاب کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ تعلیمی اداروں کی چھٹیاں کم ہونے سے اگرچہ طلبہ کو تفریح کے کم مواقع ملیں گے، لیکن طویل مدت میں یہ ان کے بہتر مستقبل اور کیریئر کے لیے انتہائی سودمند ثابت ہوگا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ محکمہ تعلیم اس کیلنڈر پر عمل درآمد کو کس حد تک یقینی بناتا ہے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]