قومی اسمبلی کی کمیٹی کی سفارشات: بارہ ربیع الاول پر پارلیمانی وفد کو روضۂ رسول ﷺ بھیجا جائے گا، ھانے پینے، رہائش اور ٹرانسپورٹ کے تمام اخراجات بھی قومی اسمبلی کے ذمہ
اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور نے وزارت مذہبی امور کو تحریری سفارشات ارسال کی ہیں کہ ہر سال بارہ ربیع الاول کے موقع پر دس رکنی پارلیمانی وفد کو سرکاری خرچ پر مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ بھیجا جائے تاکہ وفد روضۂ رسول ﷺ پر حاضری دے اور پاکستانی عوام کی جانب سے درود و سلام پیش کرے۔

سفارشات کے مطابق دس رکنی پارلیمانی وفد کے ہوائی ٹکٹوں کے اخراجات قومی اسمبلی سیکریٹریٹ برداشت کرے گا۔ مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ میں قیام کے دوران کھانے پینے، رہائش اور ٹرانسپورٹ کے تمام اخراجات بھی قومی اسمبلی کے ذمہ ہوں گے۔
وفد کا سعودی عرب میں قیام سات روز پر مشتمل ہوگا اور طبی سہولتیں بھی سرکاری خرچ پر فراہم کی جائیں گی۔ ہر پارلیمانی جماعت سے کم از کم ایک رکن وفد میں شامل ہوگا۔
سفارشات میں یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ وفد کے ساتھ ایک پروٹوکول افسر اور پارلیمنٹ ہاؤس کی جامع مسجد کے خطیب کو بطور گائیڈ شامل کیا جائے۔ سفارشات رکن قومی اسمبلی شگفتہ جمانی کی سربراہی میں چار رکنی زیلی کمیٹی نے تیار کی ہیں۔
وزارت مذہبی امور ان سفارشات کو حتمی منظوری کے لیے اسپیکر قومی اسمبلی کو بھیجے گی، جس کے بعد ہر سال یہ روایت نافذ العمل ہوگی اور پاکستانی پارلیمنٹ کی طرف سے بارہ ربیع الاول کے موقع پر پارلیمانی وفد کو روضۂ رسول ﷺ کی زیارت کرے گا۔
سرکاری خرچ پر پارلیمانی وفد کے عمرے یا حج پر جانے سے متعلق شائع ہونے والی خبروں پر ترجمان قومی اسمبلی کی وضاحت
سرکاری خرچ پر قومی اسمبلی کے ممبران کو حج یا عمرے کی کوئی سہولت حاصل نہیں اور نہ ہی یہ سہولت دی جاسکتی ہے, ترجمان قومی اسمبلی
قومی اسمبلی میں نومبر 2016 میں منظور…
— National Assembly 🇵🇰 (@NAofPakistan) January 27, 2026
One Response