صدر آزاد کشمیر بیرسٹر سلطان محمود کا انتقال، آزاد کشمیر میں سوگ

صدر آزاد کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

آزاد جموں و کشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کا انتقال، تین روزہ سوگ کا اعلان

آزاد جموں و کشمیر کے صدر، ممتاز قانون دان اور سینئر سیاسی رہنما بیرسٹر سلطان محمود چوہدری طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ ان کے انتقال کی خبر نے نہ صرف آزاد کشمیر بلکہ پاکستان بھر میں گہرے رنج و غم کی فضا قائم کر دی ہے۔ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کئی ماہ سے علیل تھے اور اسلام آباد میں زیر علاج تھے، جہاں وہ جگر کے کینسر جیسے موذی مرض کے باعث زندگی کی جنگ لڑ رہے تھے۔ بدقسمتی سے وہ یہ جنگ نہ جیت سکے اور 71 برس کی عمر میں اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔

مرحوم بیرسٹر سلطان محمود چوہدری ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ وہ نہ صرف ایک کامیاب سیاست دان تھے بلکہ ایک ممتاز قانون دان اور مسئلہ کشمیر کے سرگرم وکیل بھی سمجھے جاتے تھے۔ ان کی پوری زندگی جدوجہد، عوامی خدمت اور مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں گزری۔ ان کے انتقال کو آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک بڑا خلا قرار دیا جا رہا ہے جس کا پر ہونا بظاہر مشکل دکھائی دیتا ہے۔

بیرسٹر سلطان محمود چوہدری اگست 2021 میں آزاد جموں و کشمیر کے صدر منتخب ہوئے تھے۔ اپنے دورِ صدارت کے دوران انہوں نے آئینی ذمہ داریوں کو وقار اور سنجیدگی کے ساتھ نبھایا۔ وہ ہمیشہ اس بات پر زور دیتے رہے کہ آزاد کشمیر کو ایک مضبوط، باوقار اور خودمختار ریاست کے طور پر آگے بڑھنا چاہیے، جبکہ مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر مؤثر انداز میں اجاگر کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

مرحوم صدر آزاد کشمیر کا تعلق میرپور ڈویژن سے تھا اور وہ کشمیری سیاست میں ایک جانا پہچانا نام تھے۔ وہ اس سے قبل آزاد کشمیر کے وزیر اعظم بھی رہ چکے تھے اور مختلف ادوار میں انہوں نے اہم سیاسی اور سفارتی کردار ادا کیا۔ خاص طور پر مسئلہ کشمیر پر ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ وہ متعدد بار یورپ، امریکہ اور دیگر ممالک میں جا کر کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی آواز بلند کرتے رہے۔

بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نہایت اصول پسند، صاف گو اور باوقار سیاست دان سمجھے جاتے تھے۔ ان کی گفتگو میں دلیل، شائستگی اور تدبر نمایاں ہوتا تھا۔ وہ اختلاف رائے کو جمہوریت کا حسن سمجھتے تھے اور ہمیشہ مکالمے پر یقین رکھتے تھے۔ ان کی شخصیت نوجوان سیاست دانوں کے لیے ایک مثال تھی جنہوں نے سیاست کو ذاتی مفاد کے بجائے عوامی خدمت کا ذریعہ سمجھا۔

ان کے انتقال کی خبر سامنے آتے ہی سیاسی، سماجی اور مذہبی حلقوں کی جانب سے تعزیت کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ آزاد کشمیر، پاکستان اور بیرون ملک مقیم کشمیری رہنماؤں نے ان کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعظم آزاد کشمیر، کابینہ کے اراکین، اپوزیشن رہنماؤں اور مختلف سیاسی جماعتوں نے مرحوم کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کا انتقال آزاد کشمیر کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔

صدر آزاد کشمیر کی نمازِ جنازہ کل دن 3 بجے کھڑی شریف، میرپور میں ادا کی جائے گی، جہاں عوام، سیاسی رہنماؤں اور سرکاری شخصیات کی بڑی تعداد کی شرکت متوقع ہے۔ ان کی تدفین آبائی علاقے میں کی جائے گی۔ نماز جنازہ کے موقع پر سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب آزاد کشمیر حکومت نے صدر آزاد کشمیر کے انتقال پر تین روزہ سرکاری سوگ کا اعلان کر دیا ہے۔ سوگ کے دوران قومی پرچم سرنگوں رہے گا جبکہ سرکاری دفاتر میں تعزیتی تقریبات منعقد کی جائیں گی۔ حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے آزاد کشمیر کے وقار، آئینی استحکام اور مسئلہ کشمیر کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں جنہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

مرحوم کی زندگی جدوجہد، اصول پسندی اور عوامی خدمت کی روشن مثال تھی۔ انہوں نے اپنی سیاست کو ذاتی فائدے کے بجائے قومی مفاد کے تابع رکھا۔ ان کا شمار ان رہنماؤں میں ہوتا تھا جنہوں نے مشکل حالات میں بھی اپنے مؤقف پر ثابت قدمی دکھائی۔ ان کا خلا مدتوں محسوس کیا جاتا رہے گا۔

بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کے اہل خانہ، عزیز و اقارب اور چاہنے والوں سے اظہارِ تعزیت کیا جا رہا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے اور لواحقین کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]