انسدادِ پولیو مہم کا آغاز، حکومت کی ترجیحات میں سرفہرست قرار

انسدادِ پولیو مہم پاکستان
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

آج سے ملک بھر میں انسدادِ پولیو مہم شروع، پولیو ورکرز ہی خاتمے کی اصل طاقت ہیں: عائشہ رضا

ملک بھر میں آج سے انسدادِ پولیو مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے، جس کا مقصد پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو جیسے موذی مرض سے محفوظ بنانا ہے۔ یہ مہم حکومتِ پاکستان کی صحتِ عامہ سے متعلق ترجیحات میں سرفہرست ہے اور اس کے ذریعے ہر بچے تک پولیو کے قطرے پہنچانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔ وزیرِ اعظم کی فوکل پرسن برائے انسدادِ پولیو عائشہ رضا نے اس موقع پر کہا کہ پولیو کے خاتمے کے لیے جاری یہ مہم وزیرِ اعظم اور موجودہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عائشہ رضا کا کہنا تھا کہ پولیو کا مکمل خاتمہ اسی صورت ممکن ہے جب تمام ادارے، طبقات اور شہری مل کر اس قومی مہم کو کامیاب بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیو کے خلاف جنگ میں سب سے اہم کردار پولیو ورکرز کا ہے جو شدید گرمی، سردی اور بعض اوقات خطرات کے باوجود گھر گھر جا کر بچوں کو حفاظتی قطرے پلاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ورکرز قوم کے حقیقی ہیرو ہیں اور پولیو کے خاتمے کا سہرا انہی کی محنت، لگن اور قربانیوں کو جاتا ہے۔

عائشہ رضا نے کہا کہ پولیو ورکرز نہ صرف بچوں کو قطرے پلاتے ہیں بلکہ والدین میں آگاہی بھی پیدا کرتے ہیں، ان کے خدشات دور کرتے ہیں اور انہیں یہ باور کراتے ہیں کہ پولیو کے قطرے محفوظ اور ضروری ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت پولیو ورکرز کو ہر ممکن سہولت اور تحفظ فراہم کرے گی تاکہ وہ بلا خوف و خطر اپنی ذمہ داریاں انجام دے سکیں۔

انہوں نے عالمی اداروں یونیسیف اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا جنہوں نے انسدادِ پولیو مہم میں تکنیکی، مالی اور انتظامی معاونت فراہم کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی اداروں کے تعاون سے پاکستان میں پولیو کے کیسز میں نمایاں کمی آئی ہے، جو ایک حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔

عائشہ رضا نے والدین سے خصوصی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ انسدادِ پولیو مہم میں بھرپور تعاون کریں اور اپنے بچوں کو ہر بار پولیو کے قطرے ضرور پلوائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پولیو ایک لاعلاج مرض ہے، جس سے بچاؤ کا واحد طریقہ بروقت اور بار بار پولیو ویکسین کا استعمال ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک بھی بچہ اگر پولیو ویکسین سے محروم رہ جائے تو وہ پورے معاشرے کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

انہوں نے علمائے کرام، اساتذہ اور معاشرے کے بااثر افراد سے بھی اپیل کی کہ وہ انسدادِ پولیو مہم کے حق میں اپنی آواز بلند کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ علماء اور اساتذہ معاشرے میں اعتماد اور رہنمائی کا اہم ذریعہ ہیں، اگر یہ طبقات پولیو کے خلاف پیغام عام کریں تو والدین کے خدشات دور کرنے میں بڑی مدد مل سکتی ہے۔

تقریب سے خطاب میں عائشہ رضا نے میڈیا کے کردار کو بھی نہایت اہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ انسدادِ پولیو مہم میں میڈیا کا کردار ناگزیر ہے کیونکہ میڈیا عوام تک درست معلومات پہنچانے، افواہوں کا سدِباب کرنے اور حکومتی کوششوں کو اجاگر کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکٹرانک، پرنٹ اور ڈیجیٹل میڈیا اگر ذمہ داری کے ساتھ آگاہی مہم چلائے تو پولیو کے خاتمے کا خواب جلد حقیقت بن سکتا ہے۔

ماہرینِ صحت کے مطابق پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں پولیو کے کیسز اب بھی رپورٹ ہو رہے ہیں، تاہم حالیہ برسوں میں مربوط حکمتِ عملی، مسلسل ویکسینیشن مہمات اور عالمی تعاون کے باعث نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ رفتار اور عزم برقرار رکھا گیا تو پاکستان بھی جلد پولیو فری ممالک کی فہرست میں شامل ہو سکتا ہے۔

انسدادِ پولیو مہم کے دوران سکیورٹی کے خصوصی انتظامات بھی کیے گئے ہیں تاکہ پولیو ورکرز محفوظ ماحول میں اپنی خدمات انجام دے سکیں۔ حکومت کی جانب سے متعلقہ اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ مہم کے دوران کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اور ہر بچے تک پولیو کے قطرے پہنچانا یقینی بنایا جائے گا۔

آخر میں عائشہ رضا نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پولیو کے خاتمے کے لیے حکومت، عالمی ادارے، پولیو ورکرز، والدین، علماء، اساتذہ اور میڈیا سب کو مل کر کردار ادا کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پولیو فری پاکستان صرف حکومت کا نہیں بلکہ پوری قوم کا خواب ہے، اور یہ خواب اسی وقت پورا ہو گا جب ہر شہری اپنی ذمہ داری کو سمجھے اور انسدادِ پولیو مہم میں بھرپور تعاون کرے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]