نواز شریف اور مریم نواز سے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم کی ملاقات، دو طرفہ تعلقات پر گفتگو
مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیراعظم پاکستان نواز شریف اور وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے حال ہی میں ایرانی سفیر، جناب رضا امیری مقدم، کے ساتھ ایک اہم ملاقات کی، جس میں پاک ایران تعلقات، دوطرفہ تجارت، توانائی کے شعبے اور خطے کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ یہ ملاقات دونوں ممالک کے درمیان مضبوط اور دیرپا تعلقات کو مزید فروغ دینے کی کوششوں کا عکاس تھی اور اس موقع پر دونوں فریقین نے ایک دوسرے کے ساتھ شراکت داری بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
ذرائع کے مطابق ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور پر کھلے اور دوستانہ انداز میں تبادلہ خیال ہوا۔ وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ایرانی سرمایہ کاروں کو خصوصی طور پر پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دی اور کہا کہ پنجاب کے مختلف شعبوں خصوصاً زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، صنعتی ترقی اور دیگر اہم شعبوں میں ایرانی سرمایہ کاری کے لیے بہترین مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت پنجاب سرمایہ کاروں کے لیے دوستانہ ماحول فراہم کر رہی ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات مضبوط ہوں اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں میں تعاون کو فروغ ملے۔
اس موقع پر نواز شریف نے بھی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہنا چاہیے کیونکہ باہمی مذاکرات سے بڑے سے بڑے مسائل بھی حل کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران کے لیے نیک خواہشات اور دعائیں ہمیشہ رہیں گی اور ایرانی عوام پاکستان کے دل میں خاص مقام رکھتے ہیں۔ نواز شریف نے اس امر پر بھی زور دیا کہ پاکستان اور ایران کی دیرینہ قربت اور بھائی چارے کو مضبوط رکھنے کے لیے سیاسی قیادت اور عوامی تعلقات دونوں اہم ہیں۔
ایرانی سفیر رضا امیری نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان اور ایران دو جسم، ایک روح کی طرح ہیں، اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں قربت اور اعتماد قائم رکھنے کے لیے قائدانہ کردار انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے نواز شریف کی قیادت کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات کو فروغ دینے اور عالم اسلام میں قیادت کے کردار کو مستحکم کرنے کے لیے نواز شریف جیسے لیڈر کی ضرورت ہے۔ سفیر نے مزید کہا کہ ایرانی عوام اور حکومت سمجھتی ہیں کہ ایسے اہم معاملات نواز شریف کے علم میں لانا ضروری ہیں، کیونکہ وہ پاکستان کی حفاظت کرنے والے ستون کے طور پر جانے جاتے ہیں۔
ملاقات کے دوران دونوں فریقین نے پاک ایران تعلقات کے تاریخی پہلوؤں اور ثقافتی، معاشرتی و اقتصادی روابط پر بھی بات کی۔ اس موقع پر یہ واضح کیا گیا کہ دوطرفہ تعلقات صرف حکومتی سطح تک محدود نہیں بلکہ عوامی سطح پر بھی مضبوط ہونا چاہیے۔ ایرانی سفیر نے کہا کہ عوامی تعلقات اور تجارتی شراکت داری دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہیں اور اس سے خطے میں اقتصادی استحکام اور ترقی کو فروغ مل سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق ملاقات میں توانائی کے شعبے پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی، خاص طور پر گیس اور بجلی کے شعبوں میں ممکنہ تعاون کے حوالے سے۔ وزیرِ اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ پاکستان ایران کے ساتھ توانائی کے شعبے میں مشترکہ منصوبوں کو ترجیح دے رہا ہے، اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان توانائی کے شعبے میں وابستگی کو بڑھایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے نہ صرف دونوں ممالک کی اقتصادی ترقی کو فروغ ملے گا بلکہ خطے میں توانائی کے مسائل میں بھی کمی آئے گی۔
نواز شریف نے ملاقات میں اس امر پر زور دیا کہ پاک ایران تعلقات کو صرف موجودہ چیلنجز کی بنیاد پر نہیں بلکہ تاریخی اور ثقافتی تعلقات کی روشنی میں مضبوط بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا تسلسل برقرار رکھنے سے خطے میں دیرپا امن اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سیاسی قیادت اور عوام کے درمیان اعتماد قائم رکھنے کے لیے باہمی تعلقات میں شفافیت اور دوستانہ رویہ انتہائی ضروری ہے۔
ایرانی سفیر رضا امیری نے ملاقات کے دوران نواز شریف کی سیاسی بصیرت اور قیادت کے کردار کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور پاکستان کے تعلقات میں موجود چیلنجز کو دور کرنے کے لیے تجربہ کار قیادت کی ضرورت ہے، اور نواز شریف کے مشورے اور رہنمائی اس سلسلے میں نہایت اہمیت رکھتے ہیں۔ سفیر نے مزید کہا کہ ایرانی حکومت اور عوام دونوں نواز شریف کو پاکستان کا مضبوط ستون سمجھتے ہیں، اور ان کی رہنمائی میں پاک ایران تعلقات میں مزید بہتری کی توقع رکھتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ملاقات کے دوران علاقائی صورتحال، دہشت گردی کے خلاف تعاون، اور بین الاقوامی سیاسی و اقتصادی امور پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ دونوں فریقین نے اس بات پر زور دیا کہ پاک ایران تعلقات صرف دوطرفہ سطح تک محدود نہیں بلکہ خطے میں استحکام اور امن کے لیے بھی کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس موقع پر واضح کیا گیا کہ دونوں ممالک اقتصادی، تجارتی اور ثقافتی تعاون کے ذریعے خطے میں مثبت تبدیلیوں کے لیے مل کر کام کر سکتے ہیں۔
ملاقات کا اختتام دوستانہ اور مثبت انداز میں ہوا، اور دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاک ایران تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مستقل بنیادوں پر مشاورت اور تعاون جاری رکھا جائے گا۔ وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا کہ ایرانی سرمایہ کار پاکستان میں خوش آمدید ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ ترقی کے منصوبے بروقت اور مؤثر طریقے سے عمل میں لائے جائیں گے۔
مجموعی طور پر یہ ملاقات نہ صرف دوطرفہ تعلقات میں تعاون کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے بلکہ اس بات کا بھی مظہر ہے کہ سیاسی قیادت اور سفارتی روابط کس طرح خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے لیے کردار ادا کر سکتے ہیں۔ نواز شریف اور مریم نواز کی قیادت میں ہونے والی یہ ملاقات پاک ایران تعلقات کی مضبوط بنیاد رکھنے اور اقتصادی، ثقافتی اور توانائی کے شعبوں میں مشترکہ مفاد کے لیے ایک مثبت قدم ثابت ہوگی۔

