ایران میں خواتین کو موٹر سائیکل چلانے کی باضابطہ اجازت، قوانین میں بڑی ترمیم
تہران (5 فروری 2026): ایران میں خواتین پر عائد متعدد سماجی اور قانونی پابندیوں کے باوجود خواتین کے حقوق کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت سامنے آ گئی ہے، جہاں قوانین میں ترمیم کے بعد ایرانی خواتین کو باضابطہ طور پر موٹر سائیکل چلانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
ایران میں خواتین کے حقوق کے لیے ماضی میں متعدد مظاہرے اور احتجاج دیکھنے میں آئے ہیں، تاہم اب خواتین کو آزادانہ موٹر سائیکل چلانے کی اجازت دے کر حکام نے ایک نمایاں قدم اٹھایا ہے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق خواتین کو موٹر سائیکل چلانے کی اجازت کے مقصد کے لیے کئی دہائیوں پرانے ٹریفک قوانین میں واضح ترمیم کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایرانی صدر کے نائب اول محمد رضا عارف نے ٹریفک کوڈ میں ترمیم پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے بعد ایرانی خواتین کو موٹر سائیکل چلانے کی تربیت حاصل کرنے، تحریری و عملی امتحان دینے اور باضابطہ ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنے کا قانونی حق مل گیا ہے۔
خواتین کو موٹر سائیکل چلانے کی اجازت کے اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کو معاشی دباؤ اور سماجی احتجاجات کا سامنا ہے۔ بعض ناقدین اس فیصلے کو خواتین کے حقوق کے حوالے سے اصلاحات کی جانب ایک محدود مگر مثبت قدم قرار دے رہے ہیں۔
واضح رہے کہ ایران میں اگرچہ قانونی طور پر خواتین کے موٹر سائیکل چلانے پر کوئی واضح پابندی موجود نہیں تھی، تاہم عملی طور پر پولیس خواتین کو موٹر سائیکل لائسنس جاری نہیں کرتی تھی، جس کے باعث خواتین اس حق سے محروم تھیں۔
With the approval of the Iranian government, the #police was allowed to start formal training and issuing motorcycle licenses for women using female instructors.#Iran pic.twitter.com/gZk2Ati11Y
— Islamic Republic of Iran Broadcasting (IRIB) (@iribnews_irib) January 28, 2026
One Response