سپریم کورٹ: بانی پی ٹی آئی سے فوری ملاقات کی درخواست مسترد، رپورٹ طلب

سپریم کورٹ میں بانی پی ٹی آئی سے فوری ملاقات کی درخواست پر سماعت
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

سپریم کورٹ: بانی پی ٹی آئی سے فوری ملاقات کی درخواست مسترد، رپورٹ طلب، بغیر نوٹس جاری کیے ملاقات سے متعلق کوئی حکم نہیں دیا جا سکتا

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے بانی پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) سے فوری ملاقات کرانے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کر دیا ہے، جبکہ بانی پی ٹی آئی کی جیل میں موجودہ صورتحال سے متعلق تفصیلی رپورٹ بھی طلب کر لی گئی ہے۔

سپریم کورٹ میں بانی پی ٹی آئی کے خلاف زیرِ التوا 13 مقدمات کی سماعت چیف جسٹس پاکستان یحیٰ آفریدی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔

دورانِ سماعت عدالت نے بانی پی ٹی آئی سے فوری ملاقات کرانے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ملاقات سے متعلق استدعا پر وفاقی حکومت کو کل کے لیے نوٹس جاری کر دیا۔ عدالت نے ہدایت کی کہ بانی پی ٹی آئی کی جیل میں موجودہ حالت اور سہولیات سے متعلق تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے۔

چیف جسٹس یحیٰ آفریدی نے ریمارکس دیے کہ بغیر نوٹس جاری کیے بانی پی ٹی آئی سے فوری ملاقات سے متعلق کوئی حکم نہیں دیا جا سکتا۔ پہلے یہ طے کرنا ہوگا کہ درخواست قابلِ سماعت ہے یا نہیں، جبکہ بانی پی ٹی آئی کے خلاف مقدمات دیگر عدالتوں میں بھی زیرِ التوا ہیں۔

چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بظاہر یہ کیس غیر مؤثر ہو چکا ہے، کیونکہ یہ 24 اگست 2023 کے حکم نامے کے خلاف دائر کیا گیا تھا۔ عدالت کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ آیا یہ کیس اب بھی قابلِ سماعت ہے یا نہیں۔

سماعت کے دوران عدالت نے 9 مئی کے مقدمات میں بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کے خلاف دائر درخواستوں پر تین رکنی بینچ تشکیل دینے کا حکم دے دیا۔

اسی طرح سائفر کیس اور ضمانت منسوخی سے متعلق درخواستوں پر سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

عدالت نے ہتکِ عزت کے کیس میں وزیرِاعظم شہباز شریف کے خلاف بانی پی ٹی آئی کی درخواست پر بھی تین رکنی بینچ تشکیل دینے کا حکم دیتے ہوئے سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]