‫PSL Players Auction 2026 مکمل: نسیم شاہ اور ڈیرل مچل سب سے مہنگے کھلاڑی‬

PSL Players Auction 2026
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

‫PSL Players Auction 2026: لاہور میں تاریخی نیلامی، 103 کھلاڑی فروخت‬

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پلیئرز آکشن کا انعقاد ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوا۔ لاہور کے ایکسپو سینٹر میں منعقد ہونے والی یہ شاندار تقریب کئی گھنٹوں تک جاری رہی جہاں کرکٹ کے شائقین، فرنچائز مالکان، کوچز اور ماہرین کی نظریں ہر بولی پر جمی رہیں۔ آٹھوں فرنچائزز نے بھرپور حکمتِ عملی اور جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیا اور مجموعی طور پر 103 کھلاڑیوں کو نیلامی کے ذریعے اپنے اسکواڈ کا حصہ بنایا۔ اس عمل کے بعد تمام ٹیموں کے مجموعی کھلاڑیوں کی تعداد 141 ہوگئی اور ہر فرنچائز نے 16 سے 20 رکنی متوازن اسکواڈ تشکیل دے لیا، جو آئندہ سیزن میں سنسنی خیز مقابلوں کی نوید دے رہا ہے۔
نیلامی کی سب سے نمایاں جھلک راولپنڈی کے فاسٹ بولر نسیم شاہ کی رہی، جو 8 کروڑ 65 لاکھ روپے میں فروخت ہو کر سب سے مہنگے پاکستانی کھلاڑی بنے۔ ان کے ساتھ ہی ان کے غیر ملکی ساتھی ڈیرل مچل 8 کروڑ 5 لاکھ روپے میں خریدے گئے اور یوں وہ اس آکشن کے مہنگے ترین غیر ملکی کھلاڑی قرار پائے۔ ان خطیر رقوم نے واضح کیا کہ فرنچائزز جیت کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں اور معیاری کھلاڑیوں پر سرمایہ کاری کرنے سے گریز نہیں کریں گی۔
پی ایس ایل 11 کے لیے تیار کیے گئے اسکواڈز میں تجربہ اور نوجوان ٹیلنٹ کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔ حیدرآباد ہیوسٹن کنگزمین نے ڈائریکٹ سائننگ کے ذریعے آسٹریلیا کے مارنس لبوشین کو 5 کروڑ 88 لاکھ روپے میں حاصل کر کے سب کو چونکا دیا۔ ٹیم نے صائم ایوب کو پلاٹینم کیٹیگری میں 12 کروڑ 60 لاکھ روپے میں برقرار رکھا، جو اس آکشن کی بڑی ریٹینشن میں سے ایک تھی۔ عثمان خان، عاکف جاوید اور معاذ صداقت کو مختلف کیٹیگریز میں برقرار رکھتے ہوئے ٹیم نے اپنے کور گروپ کو مستحکم رکھا۔ نیلامی کے دوران محمد علی، کوشال پریرا، محمد عرفان خان نیازی، رائلی میریڈتھ اور دیگر کھلاڑیوں کی شمولیت نے اسکواڈ کو مزید مضبوط بنایا۔ تجربہ کار اور ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کا یہ امتزاج حیدرآباد کو ایک خطرناک حریف بناتا ہے۔
راولپنڈی کی ٹیم نے اگرچہ ڈائریکٹ سائننگ نہیں کی، تاہم محمد رضوان، سیم بلنگز، زمان خان اور یاسر خان کو برقرار رکھ کر تسلسل کو ترجیح دی۔ نیلامی میں نسیم شاہ، ڈیرل مچل اور محمد عامر جیسے بڑے نام شامل کر کے ٹیم نے اپنی بولنگ اور بیٹنگ دونوں شعبوں کو مضبوط بنایا۔ آصف آفریدی، لوری ایونز اور کامران غلام جیسے کھلاڑی ٹیم کو گہرائی فراہم کرتے ہیں۔ راولپنڈی کا اسکواڈ متوازن دکھائی دیتا ہے جس میں تجربہ، جارحیت اور نوجوان صلاحیت سب شامل ہیں۔
اسلام آباد یونائیٹڈ نے نیوزی لینڈ کے ڈیوون کونوے کو 6 کروڑ 30 لاکھ روپے میں ڈائریکٹ سائن کر کے اپنی بیٹنگ لائن اپ کو تقویت دی۔ شاداب خان کی قیادت اور فہیم اشرف کی 8 کروڑ 50 لاکھ روپے کی شمولیت نے ٹیم کو آل راؤنڈ طاقت فراہم کی۔ مارک چیپمین، محمد وسیم جونیئر، عماد وسیم اور حیدر علی جیسے کھلاڑی اسلام آباد کے اسکواڈ کو ہمہ جہت بناتے ہیں۔ ٹیم نے نوجوان ٹیلنٹ اور بین الاقوامی تجربے کو یکجا کر کے ایک متوازن کمبی نیشن تیار کیا ہے۔
پشاور زلمی نے آسٹریلوی آل راؤنڈر آرون ہارڈی کو 6 کروڑ 30 لاکھ روپے میں ڈائریکٹ سائن کیا جبکہ بابر اعظم کو 7 کروڑ روپے میں برقرار رکھ کر قیادت اور بیٹنگ کی مضبوط بنیاد قائم رکھی۔ سفیان مقیم، عبدالصمد اور علی رضا کی ریٹینشن سے ٹیم نے نوجوان صلاحیتوں پر اعتماد کا اظہار کیا۔ نیلامی میں مائیکل بریسویل، کوشال مینڈس، جیمز ونس اور محمد حارث کی شمولیت نے بیٹنگ لائن اپ کو مزید جارحانہ بنا دیا، جبکہ خرم شہزاد اور عامر جمال بولنگ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
یہ پہلی پلیئرز آکشن نہ صرف مالی لحاظ سے بڑی رہی بلکہ اس نے لیگ کے ڈھانچے میں جدت اور شفافیت کا عنصر بھی شامل کیا۔ ہر بولی کے ساتھ ہال میں موجود شائقین کا جوش بڑھتا رہا اور سوشل میڈیا پر بھی مداحوں کی بھرپور دلچسپی دیکھنے میں آئی۔ فرنچائزز نے اپنی ضروریات کے مطابق حکمتِ عملی اپنائی—کسی نے مضبوط بیٹنگ لائن اپ پر توجہ دی تو کسی نے بولنگ اٹیک کو ترجیح دی۔

 

پی ایس ایل 11 اب پہلے سے زیادہ مسابقتی اور دلچسپ ہونے جا رہی ہے۔ بڑے ناموں کی شمولیت، نوجوان کھلاڑیوں کا عروج اور بین الاقوامی ستاروں کی موجودگی لیگ کے معیار کو مزید بلند کرے گی۔ شائقین کو سنسنی خیز مقابلوں، ہائی اسکورنگ میچز اور سنسنی خیز فائنلز کی توقع ہے۔
مجموعی طور پر، پہلی پلیئرز آکشن نے پی ایس ایل کو ایک نئی سمت دی ہے۔ یہ صرف کھلاڑیوں کی خرید و فروخت کا عمل نہیں تھا بلکہ ایک وژن کا اظہار تھا—ایسا وژن جو پاکستانی کرکٹ کو عالمی سطح پر مزید مستحکم اور مقبول بنانے کی جانب گامزن ہے۔ آنے والا سیزن اس بات کا گواہ ہوگا کہ کون سی ٹیم اپنی حکمتِ عملی اور کھلاڑیوں کی کارکردگی کے بل بوتے پر ٹرافی اپنے نام کرتی ہے۔ شائقین بے صبری سے اس تاریخی سیزن کے آغاز کا انتظار کر رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]