‫Imran Khan Health Protest: خیبر پختونخوا میں جمعہ کے بعد پی ٹی آئی کا بڑے احتجاج کا اعلان‬

Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

‫Imran Khan Health Protest — جنید اکبر کی قیادت میں کے پی بھر میں پریس کلبز کے باہر مظاہرے‬

پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) خیبر پختونخوا کے صوبائی صدر جنید اکبر نے پارٹی کارکنان اور عوام کو کل جمعہ کے بعد صوبے بھر میں احتجاج کی کال دے دی ہے۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پارٹی قیادت کی جانب سے چیئرمین عمران خان کی صحت سے متعلق تشویشناک صورتحال پر مسلسل تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ پی ٹی آئی کی صوبائی قیادت نے اس معاملے کو سنجیدہ قرار دیتے ہوئے کارکنان سے بھرپور ردعمل دینے کی اپیل کی ہے۔

جنید اکبر کے مطابق نمازِ جمعہ کے بعد خیبر پختونخوا کے تمام اضلاع میں موجود پریس کلبز کے سامنے احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ احتجاج عمران خان کی صحت کے حوالے سے بڑھتی ہوئی بے چینی کے تناظر میں کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کارکنان اور عوام بڑی تعداد میں باہر نکلیں اور اپنے قائد کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کریں۔

صوبائی صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ عمران خان نے ملک اور قوم کی خاطر سخت حالات کا سامنا کیا اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ کارکنان اور عوام بھی ان کے لیے اپنی آواز بلند کریں۔ انہوں نے کہا کہ “قوم اپنے لیڈر کے لیے باہر نکلے۔ عمران خان نے ہماری خاطر قید کاٹی، اب ہماری باری ہے کہ ہم ان کی صحت کے لیے آواز بلند کریں۔”

پی ٹی آئی قیادت نے اس احتجاج کو منظم اور پُرامن رکھنے پر زور دیا ہے۔ کارکنان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے احتجاج کریں اور کسی قسم کی توڑ پھوڑ یا تصادم سے گریز کریں۔ پارٹی رہنماؤں نے کہا کہ احتجاج کا مقصد اپنے قائد کی صحت سے متعلق تشویش کو اجاگر کرنا اور عوامی دباؤ کے ذریعے متعلقہ حکام کی توجہ اس جانب مبذول کرانا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی مضبوط عوامی بنیاد کے پیشِ نظر اس احتجاج میں بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت متوقع ہے۔ ماضی میں بھی عمران خان کی گرفتاری یا صحت کے معاملات پر صوبے کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے دیکھنے میں آئے ہیں۔ اس بار بھی پارٹی قیادت کو امید ہے کہ کارکنان بھرپور شرکت کر کے یکجہتی کا پیغام دیں گے۔

دوسری جانب، حکومتی حلقوں کی جانب سے تاحال اس احتجاجی کال پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم انتظامیہ کی جانب سے ممکنہ احتجاج کے پیش نظر سیکیورٹی انتظامات کیے جانے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی جا سکتی ہے کہ وہ امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنائیں اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے اقدامات کریں۔

پی ٹی آئی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ احتجاج صرف سیاسی سرگرمی نہیں بلکہ اپنے قائد کے ساتھ وفاداری اور یکجہتی کا اظہار ہے۔ ان کے مطابق عمران خان کی صحت کے حوالے سے شفاف معلومات فراہم کی جانی چاہئیں تاکہ افواہوں اور خدشات کا خاتمہ ہو سکے۔ پارٹی کا مؤقف ہے کہ ایک سابق وزیراعظم اور مقبول سیاسی رہنما کی صحت سے متعلق معلومات عوام کے سامنے لانا ضروری ہے۔

جنید اکبر نے کارکنان کو ہدایت کی کہ وہ سوشل میڈیا سمیت ہر پلیٹ فارم پر عمران خان کے لیے آواز بلند کریں اور احتجاج میں نظم و ضبط کا مظاہرہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی ایک منظم جماعت ہے اور اس کے کارکنان جمہوری اور آئینی طریقے سے اپنا حقِ احتجاج استعمال کریں گے۔

یہ احتجاجی کال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملکی سیاست میں کشیدگی پہلے ہی عروج پر ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر احتجاج پُرامن رہا تو یہ جمہوری حق کے استعمال کی ایک مثال ہوگی، تاہم کسی بھی قسم کی بدامنی سیاسی ماحول کو مزید متاثر کر سکتی ہے۔

مجموعی طور پر پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کی قیادت نے اپنے کارکنان اور حامیوں کو واضح پیغام دیا ہے کہ وہ متحد ہو کر اپنے قائد کے ساتھ کھڑے ہوں۔ جمعہ کے روز ہونے والے احتجاج سے نہ صرف پارٹی کی تنظیمی طاقت کا اندازہ ہوگا بلکہ یہ بھی واضح ہو جائے گا کہ عمران خان کی صحت کے معاملے پر عوامی ردعمل کس حد تک موجود ہے۔ پارٹی قیادت کو امید ہے کہ عوام کی بھرپور شرکت ایک مضبوط اور واضح پیغام دے گی کہ وہ اپنے لیڈر کے ساتھ ہیں اور ان کی صحت و سلامتی کے لیے آواز اٹھاتے رہیں گے۔

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]