اسلام آباد پی ٹی آئی احتجاج کے پیش نظر پارلیمنٹ ہاؤس پر سخت سیکیورٹی، ریڈ زون مکمل بند
اسلام آباد میں سیاسی درجہ حرارت اس وقت عروج پر ہے جہاں پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمنٹیرینز کے احتجاج کے پیش نظر سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔ دارالحکومت کا حساس ترین علاقہ، جسے عمومی طور پر ریڈ زون کہا جاتا ہے، مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے۔ حکام کی جانب سے کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے سخت اقدامات اٹھائے گئے ہیں، جس کے نتیجے میں نہ صرف سیاسی سرگرمیوں پر اثر پڑا ہے بلکہ شہریوں کی روزمرہ نقل و حرکت بھی شدید متاثر ہوئی ہے۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے مرکزی گیٹ سمیت اطراف کے تمام داخلی راستے بند کر دیے گئے ہیں۔ داخلی دروازوں پر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے، جبکہ بکتر بند گاڑیاں بھی پہنچا دی گئی ہیں جو اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ انتظامیہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ عمارت کے اطراف خار دار تاریں لگائی گئی ہیں اور اضافی رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں تاکہ کسی غیر متعلقہ فرد کو اندر داخل ہونے کی اجازت نہ دی جا سکے۔
ریڈ زون کے داخلی مقامات پر پولیس اہلکاروں کی قطاریں دیکھی جا سکتی ہیں۔ ریڈیو پاکستان چوک پر خصوصی طور پر سیکیورٹی سخت کی گئی ہے، جہاں سے شاہراہ دستور کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ یہ وہ شاہراہ ہے جو ملک کے اہم ترین سرکاری اداروں کو آپس میں ملاتی ہے، اور عام حالات میں یہاں ٹریفک کا مسلسل بہاؤ رہتا ہے۔ تاہم موجودہ صورتحال میں یہ علاقہ سنسان دکھائی دیتا ہے، صرف پولیس کی گاڑیوں کی موجودگی اور اہلکاروں کی چہل قدمی اس خاموشی کو توڑتی نظر آتی ہے۔
پولیس کی جانب سے واضح ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ کسی بھی شہری یا رکنِ اسمبلی کو پارلیمنٹ ہاؤس کی جانب جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اسی سلسلے میں رکنِ اسمبلی اقبال آفریدی اور عمیر نیازی کو ریڈیو پاکستان چوک پر روک لیا گیا۔ دونوں اراکین نے آگے بڑھنے کی کوشش کی تاہم سیکیورٹی اہلکاروں نے انہیں پارلیمنٹ ہاؤس کی حدود میں داخل ہونے سے منع کر دیا۔ اس اقدام نے سیاسی حلقوں میں مزید بحث کو جنم دیا ہے کہ آیا منتخب نمائندوں کو بھی اپنے ہی ایوان تک رسائی سے روکنا مناسب حکمت عملی ہے یا نہیں۔
اس دوران اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے احتجاج کے مقاصد اور آئندہ کے لائحہ عمل پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ان کا دھرنا مکمل طور پر پرامن ہوگا اور اس کا مقصد کسی قسم کی بدامنی پھیلانا نہیں بلکہ ایک جائز مطالبے کو اجاگر کرنا ہے۔ ان کے مطابق بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو ان کے ذاتی معالج اور اہلِ خانہ سے ملاقات کی اجازت دی جائے تاکہ ان کی صحت کے حوالے سے پائے جانے والے خدشات دور کیے جا سکیں۔
محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ انہیں پہلے بتایا گیا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت بہتر ہے، تاہم مختلف اطلاعات نے تشویش میں اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک میں ماہر اور قابل ڈاکٹرز کی کوئی کمی نہیں، اس لیے اگر طبی معائنے یا علاج کی ضرورت ہو تو اسے فوری اور شفاف انداز میں یقینی بنایا جائے۔ ان کے بقول، یہ ایک انسانی اور اخلاقی مسئلہ ہے جسے سیاسی تنازع میں الجھانے کے بجائے سنجیدگی سے حل کی طرف بڑھنا چاہیے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ موجودہ صورتحال صرف ایک احتجاج تک محدود نہیں بلکہ یہ وسیع تر سیاسی کشمکش کا حصہ ہے۔ ایک طرف اپوزیشن جماعتیں اپنے مؤقف کو مضبوطی سے پیش کر رہی ہیں، تو دوسری جانب حکومت امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سخت اقدامات اٹھا رہی ہے۔ اس کشمکش کا مرکز اس وقت پارلیمنٹ ہاؤس اور اس کے اطراف کا علاقہ بن چکا ہے، جہاں ہر قدم پر سیکیورٹی اہلکار تعینات ہیں اور ہر نقل و حرکت کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے۔
ریڈ زون کی بندش نے شہری زندگی کو بھی متاثر کیا ہے۔ سرکاری دفاتر تک رسائی مشکل ہو گئی ہے، جبکہ متبادل راستوں پر ٹریفک کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔ تعلیمی اداروں اور نجی دفاتر میں حاضری معمول سے کم دیکھی گئی، کیونکہ بہت سے شہریوں نے ممکنہ رکاوٹوں کے پیش نظر گھروں سے کام کرنے یا غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کو ترجیح دی۔ ٹریفک پولیس کی جانب سے مختلف مقامات پر رہنمائی فراہم کی جا رہی ہے، تاہم بند سڑکوں کی وجہ سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
دوسری جانب احتجاجی کارکنان کی جانب سے یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ ان کا احتجاج آئینی اور جمہوری دائرے میں ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ پرامن طریقے سے اپنے مطالبات پیش کریں گے اور کسی سرکاری املاک کو نقصان نہیں پہنچائیں گے۔ تاہم ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے انتظامیہ نے پیشگی حفاظتی اقدامات کو ترجیح دی ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورت حال سے فوری طور پر نمٹا جا سکے۔
موجودہ حالات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ ملک میں سیاسی مکالمے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ اگرچہ احتجاج جمہوری معاشروں کا ایک تسلیم شدہ حق ہے، لیکن امن و امان کا قیام بھی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اس نازک توازن کو برقرار رکھنا ہی اس وقت سب سے بڑا چیلنج ہے۔ ایک جانب سیاسی جماعتیں اپنے کارکنان کے جذبات کی ترجمانی کر رہی ہیں، تو دوسری جانب حکومت ریاستی نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کی کوشش میں مصروف ہے۔
اسلام آباد کی فضاء میں پائی جانے والی سنجیدگی اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ آنے والے دن سیاسی لحاظ سے اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔ تمام نگاہیں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا فریقین کے درمیان کوئی بامعنی پیش رفت ہوتی ہے یا نہیں۔ اگر مذاکرات اور افہام و تفہیم کا راستہ اختیار کیا جاتا ہے تو ممکن ہے کہ کشیدگی میں کمی آئے، بصورت دیگر احتجاج اور سیکیورٹی اقدامات کا یہ سلسلہ مزید طول پکڑ سکتا ہے۔
بالآخر، موجودہ منظرنامہ نہ صرف سیاسی جماعتوں بلکہ ریاستی اداروں کے لیے بھی ایک امتحان ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام فریقین تحمل، بردباری اور آئینی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے آگے بڑھیں۔ دارالحکومت کی سڑکوں پر پھیلی خاموشی اور سیکیورٹی کی سختی اس بات کا تقاضا کر رہی ہے کہ مسائل کا حل طاقت کے مظاہرے سے نہیں بلکہ مکالمے اور باہمی اعتماد سے تلاش کیا جائے، تاکہ جمہوری عمل مضبوط ہو اور قومی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

