پشاور ہائیکورٹ کا پی ٹی آئی احتجاج اور سڑکوں کی بندش پر اظہارِ برہمی

پشاور ہائیکورٹ کا پی ٹی آئی احتجاج سے متعلق کیس کی سماعت
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

پشاور ہائیکورٹ کا پی ٹی آئی احتجاج اور سڑکوں کی بندش پر اظہارِ برہمی، چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا اور آئی جی پولیس کو ذاتی حیثیت میں طلب

پشاور ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے احتجاج اور سڑکوں کی بندش پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی حکام کو طلب کرلیا۔

پی ٹی آئی کی جانب سے جاری احتجاج اور سڑکوں کی بندش کے خلاف دائر درخواست کی سماعت جسٹس اعجاز انور کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔ عدالت نے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا اور آئی جی پولیس کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔

اڈیالہ جیل میں عمران خان کی آنکھ کا طبی معائنہ
میڈیکل بورڈ کے مطابق عمران خان کی بینائی میں نمایاں بہتری

پشاور ہائیکورٹ کا پی ٹی آئی احتجاج کیس کی سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ سڑکیں بند کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ جسٹس اعجاز انور نے شاہ فیصل سے استفسار کیا کہ عدالت کو بتایا جائے اب تک کتنے افراد کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔

ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت سے مہلت طلب کرتے ہوئے کہا کہ ڈیٹا مرتب کرنے میں وقت درکار ہے۔ اس پر جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دیے کہ پرانے مقدمات کی تفصیلات درکار نہیں، یہ احتجاج کا چوتھا روز ہے، صوبائی حکومت نے اب تک کیا اقدامات کیے ہیں اور کتنے افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے؟

پشاور ہائیکورٹ کا پی ٹی آئی احتجاج پرسخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سڑکوں کی بندش کے باعث عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، مریضوں اور مسافروں کو مسائل کا سامنا ہے۔

بعد ازاں عدالت نے چیف سیکرٹری اور آئی جی خیبر پختونخوا کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت وقفے تک ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ کئی روز سے خیبر پختونخوا کے داخلی اور خارجی راستوں پر پی ٹی آئی کے دھرنوں کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہے اور شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

 
[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]