ایف بی آر کا ٹیکس نیٹ وسیع کرنے کا فیصلہ، ہوٹلوں، کلینکس اور کلبز کو بھی نظام سے منسلک کرنے کا حکم
اسلام آباد میں ٹیکس اصلاحات کے حوالے سے ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کے لیے اہم اور فیصلہ کن اقدام اٹھایا ہے۔ ادارے کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ نوٹیفکیشن میں تمام رجسٹرڈ کاروباروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ایک ہفتے کے اندر اپنا نظام ایف بی آر کے مرکزی ڈیٹا بیس کے ساتھ منسلک کریں۔ اس فیصلے کو ملکی معیشت کو دستاویزی بنانے اور ٹیکس چوری کی روک تھام کی جانب ایک اہم سنگ میل قرار دیا جارہا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق مقررہ مدت کے اندر تعمیل لازمی ہوگی، بصورت دیگر متعلقہ کاروباروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جاسکتی ہے۔ ایف بی آر کا مؤقف ہے کہ معیشت کے بڑے حصے کے غیر دستاویزی ہونے کی وجہ سے قومی خزانے کو سالانہ اربوں روپے کا نقصان ہوتا ہے، جسے روکنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور مرکزی نگرانی کا نظام ناگزیر ہوچکا ہے۔
پوائنٹ آف سیلز سسٹم کی لازمی تنصیب
نئے فیصلے کے تحت وہ تمام کاروباری یونٹس جو پوائنٹ آف سیلز (POS) مشین استعمال کرتے ہیں، انہیں اسے ایف بی آر کے مرکزی سسٹم سے منسلک کرنا ہوگا۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ ہر فروخت کی رسید کا ریکارڈ براہِ راست مرکزی ڈیٹا بیس میں محفوظ ہو اور سیلز ٹیکس کی درست ادائیگی یقینی بنائی جاسکے۔ اس اقدام سے نہ صرف محصولات میں اضافہ متوقع ہے بلکہ کاروباری لین دین میں شفافیت بھی آئے گی۔
ایف بی آر کے مطابق یہ نظام ریئل ٹائم ڈیٹا ٹرانسمیشن پر مبنی ہوگا جس کے ذریعے فروخت، ٹیکس وصولی اور آمدن کی تفصیلات براہِ راست حکام تک پہنچ سکیں گی۔ اس سے ٹیکس گوشواروں میں غلط بیانی یا آمدن چھپانے کے امکانات کم ہوجائیں گے۔
کن شعبوں کو شامل کیا گیا ہے؟
نوٹیفکیشن میں مختلف شعبہ جات کو واضح طور پر شامل کیا گیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ کاروباری سرگرمیاں ٹیکس نیٹ میں آسکیں۔ ان میں شامل ہیں:
- ہوٹل، گیسٹ ہاؤسز اور میرج ہالز
- مختلف سماجی و اسپورٹس کلبز
- انٹر سٹی ٹرانسپورٹ سروسز
- کورئیر اور کارگو آپریٹرز
- بیوٹی پارلرز، سلمنگ سینٹرز اور بیوٹی کلینکس
- ہئیر ٹرانسپلانٹ مراکز
- نجی کلینکس، ڈینٹل کلینکس اور پلاسٹک سرجنز
- لیبارٹریز، ڈائیگناسٹک اور ایکسرے سینٹرز
- ویٹرنری ڈاکٹرز
- نجی اسپتال اور پرائیویٹ کنسلٹنٹس
- ہیلتھ کلبز، فٹنس سینٹرز اور سوئمنگ پولز
- ملٹی پرپز کلبز
ان تمام اداروں کو اپنے مالیاتی لین دین کا مکمل ریکارڈ ایف بی آر کے ساتھ منسلک کرنا ہوگا تاکہ ٹیکس کی درست ادائیگی ممکن ہوسکے۔
معروف کلبز بھی دائرہ کار میں
ایف بی آر نے بڑے اور معروف کلبز کو بھی اس نظام کا حصہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے، جن میں شامل ہیں:
- کراچی جمخانہ
- رائل پام
- چناب کلب
- اسلام آباد کلب
- لاہور جمخانہ
ان اداروں کو بھی اپنی آمدن اور ممبرشپ فیس سمیت دیگر مالیاتی سرگرمیوں کا ریکارڈ مرکزی سسٹم سے منسلک کرنا ہوگا۔ ماہرین کے مطابق بڑے کلبز کو شامل کرنا اس بات کا اشارہ ہے کہ ایف بی آر کسی بھی بااثر یا بڑے ادارے کو استثنیٰ دینے کے حق میں نہیں۔
پیشہ ورانہ خدمات بھی شامل
اس فیصلے کے تحت چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس فرمز، کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاؤنٹنگ خدمات فراہم کرنے والی کمپنیاں اور دیگر پیشہ ورانہ سروس پرووائیڈرز کو بھی ٹیکس نیٹ میں لایا جائے گا۔ اس کے علاوہ ہیلتھ کیئر سیکٹر میں کام کرنے والے نجی اسپتال، لیبارٹریز، ڈائیگناسٹک سینٹرز اور پرائیویٹ کنسلٹنٹس بھی اس پابندی کے دائرے میں آئیں گے۔
بیوٹی انڈسٹری، جس میں بیوٹی پارلرز، کلینکس اور سلمنگ سینٹرز شامل ہیں، بھی اب مکمل طور پر دستاویزی نظام کے تحت کام کرنے کی پابند ہوگی۔ اسی طرح ہئیر ٹرانسپلانٹ مراکز اور پلاسٹک سرجنز کے کاروبار بھی نگرانی میں آئیں گے تاکہ ان کی آمدن کا مکمل ریکارڈ محفوظ کیا جاسکے۔
تعلیمی اداروں کے لیے بھی شرط
نوٹیفکیشن میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ وہ تعلیمی ادارے جہاں ماہانہ فیس ایک ہزار روپے یا اس سے زیادہ وصول کی جاتی ہے، انہیں بھی ایف بی آر کے نظام سے منسلک ہونا ہوگا۔ اس اقدام کا مقصد تعلیمی شعبے میں مالی شفافیت کو یقینی بنانا ہے، کیونکہ نجی تعلیمی اداروں کی تعداد اور آمدن میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔
قانونی بنیاد اور ممکنہ کارروائی
انکم ٹیکس آرڈیننس کی شق 33 کے تحت اس نظام سے وابستگی کو بنیادی شرط قرار دیا گیا ہے۔ متعلقہ کاروباروں کے لیے پوائنٹ آف سیلز مشین کی تنصیب اور اس کا آن لائن اندراج لازمی ہوگا۔ مقررہ مدت کے اندر تعمیل نہ کرنے کی صورت میں جرمانہ، کاروبار کی عارضی بندش یا دیگر قانونی اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔
معاشی اثرات اور چیلنجز
ماہرین معاشیات کے مطابق اس اقدام سے حکومت کو محصولات میں نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے۔ ٹیکس بیس وسیع ہونے سے بجٹ خسارہ کم کرنے اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے وسائل فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔ اس کے علاوہ شفاف نظام سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بڑھے گا۔
تاہم کاروباری حلقوں کی جانب سے کچھ تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک ہفتے کی مہلت ناکافی ہوسکتی ہے، خصوصاً ان کاروباروں کے لیے جو تکنیکی سہولیات سے محروم ہیں۔ دیہی علاقوں میں انٹرنیٹ کی دستیابی اور تربیت یافتہ عملے کی کمی بھی ایک چیلنج ہوسکتی ہے۔ اس لیے ماہرین تجویز دیتے ہیں کہ حکومت ابتدائی مرحلے میں سہولت کاری اور آگاہی مہم کو ترجیح دے۔
مجموعی طور پر ایف بی آر کا یہ اقدام پاکستان کی معیشت کو دستاویزی بنانے اور ٹیکس نظام کو مؤثر بنانے کی ایک بڑی کوشش ہے۔ اگر اس پر سنجیدگی سے عمل درآمد کیا گیا تو نہ صرف ٹیکس چوری میں کمی آئے گی بلکہ قومی خزانے کو مستحکم بنیاد بھی میسر آئے گی۔ آنے والے ہفتے اس حوالے سے نہایت اہم ہوں گے کیونکہ کاروباری برادری کا ردعمل اور عملی نفاذ کی رفتار ہی اس اصلاحاتی قدم کی کامیابی کا تعین کرے گی۔

