شہداء کے اہل خانہ کا عید پر خراج عقیدت، وطن کیلئے قربانیوں کی یاد تازہ

شہداء کے اہل خانہ کا خراج عقیدت عید کے موقع پر
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

شہداء کے اہل خانہ کا خراج عقیدت، عید اور یوم پاکستان پر جذباتی مناظر

‫عید الفطر اور Pakistan Day جیسے خوشیوں بھرے مواقع پر جہاں ملک بھر میں جشن اور مسرت کا سماں ہوتا ہے، وہیں شہداء کے اہلِ خانہ اپنے پیاروں کی لازوال قربانیوں کو یاد کرتے ہوئے ایک منفرد جذبۂ فخر اور صبر کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ یہ دن ان خاندانوں کے لیے صرف خوشی کا نہیں بلکہ اپنے ان پیاروں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا بھی موقع ہوتا ہے جنہوں نے وطنِ عزیز کی سلامتی اور بقاء کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔‬

عید الفطر کے موقع پر شہید سپاہی مسعود عالم کی بیٹی نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے والد نے ملک و قوم کے لیے اپنی جان قربان کی، جو کسی بھی اعزاز سے کم نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے والد کی شہادت پر بے حد فخر ہے اور پوری قوم کو بھی ان جیسے بہادر سپاہیوں پر ناز ہونا چاہیے۔ بیٹی نے کہا کہ اگرچہ والد کی کمی ہمیشہ محسوس ہوتی ہے، لیکن ان کی یادیں آج بھی ان کے دل میں زندہ ہیں اور ان کی قربانی انہیں زندگی میں آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کے والد کی شہادت محض ایک ذاتی سانحہ نہیں بلکہ ایک قومی فخر ہے۔ ایسے بہادر افراد ہی ملک کی بنیادوں کو مضبوط بناتے ہیں اور آنے والی نسلوں کے لیے مثال قائم کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ان کے والد کا وطن کی بقاء کے لیے جان کا نذرانہ دینا ان کے لیے مشعلِ راہ ہے، جو انہیں ہمیشہ سچائی، حوصلے اور حب الوطنی کے راستے پر چلنے کی ترغیب دیتا ہے۔

‫اسی طرح شہید میجر احمر رضا کے اہلِ خانہ نے بھی عید کے موقع پر اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے Pakistan Army کے تمام شہداء، افسران اور جوانوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ ان کے لواحقین کا کہنا تھا کہ عید جیسے خوشی کے موقع پر وہ تمام شہداء کو یاد کرتے ہیں جنہوں نے وطن کی حفاظت کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور قوم کو امن کا تحفہ دیا۔‬

‫شہید میجر احمر رضا کے بھائی نے بتایا کہ ان کے بھائی نے United Nations کے امن مشن کے تحت Ivory Coast میں خدمات انجام دیتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔ انہوں نے کہا کہ شہادت کی خبر اچانک ملی جو خاندان کے لیے ایک بڑا صدمہ تھا، لیکن اس کے باوجود انہوں نے صبر اور شکر کا دامن تھامے رکھا۔ ان کے مطابق شہادت ایک عظیم مرتبہ ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو یہ مقام عطا کرتا ہے۔‬

اہلِ خانہ نے کہا کہ انہیں اپنے شہید پر فخر ہے اور وہ دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ تمام شہداء کے درجات بلند فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا کرے۔ انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ وہ اپنے شہید کی قربانی کو کبھی فراموش نہیں کریں گے اور ہمیشہ اس پر فخر کرتے رہیں گے۔

عید کے اس موقع پر شہداء کے لواحقین نے قوم کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ ملک کی سلامتی اور استحکام کے لیے اتحاد، یکجہتی اور حب الوطنی کا مظاہرہ کرنا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہداء کی قربانیاں اسی وقت رنگ لاتی ہیں جب پوری قوم ایک ہو کر ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے کام کرے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ شہداء کے اہلِ خانہ کا حوصلہ اور صبر پوری قوم کے لیے ایک مثال ہے۔ وہ نہ صرف اپنے ذاتی غم کو برداشت کرتے ہیں بلکہ اسے قومی فخر میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ یہی جذبہ قوموں کو مضبوط بناتا ہے اور انہیں مشکلات کے باوجود آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتا ہے۔

عید الفطر جیسے خوشی کے موقع پر بھی شہداء کے اہلِ خانہ اپنے پیاروں کی یادوں کو زندہ رکھتے ہیں اور ان کی قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔ یہ قربانیاں ہی دراصل پاکستان کی سلامتی کی ضمانت ہیں اور انہی کی بدولت قوم آج امن اور آزادی کی فضا میں سانس لے رہی ہے۔

یوم پاکستان کے موقع پر بھی ان شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا جاتا ہے جنہوں نے ملک کے دفاع کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ یہ دن ہمیں اس بات کی یاد دلاتا ہے کہ پاکستان کا قیام اور اس کی بقاء بے شمار قربانیوں کا نتیجہ ہے۔

آخر میں شہداء کے اہلِ خانہ نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے، اسے امن، ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن رکھے اور قوم کو شہداء کی قربانیوں کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ آنے والی نسلیں ان قربانیوں کو یاد رکھیں گی اور وطن عزیز کی خدمت کے لیے ہمیشہ تیار رہیں گی۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]