ایران امریکا کشیدگی: ایران نے ٹرمپ کے مذاکراتی بیان کو مسترد کر دیا

ایران امریکا کشیدگی اور تیل کی قیمتوں میں کمی
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

ایران امریکا کشیدگی میں اضافہ، تہران کا ٹرمپ کے مذاکراتی دعوے پر سخت ردعمل

‫مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال کے درمیان Iran اور United States کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر نمایاں ہو گئی ہے، جہاں ایرانی حکام نے امریکی صدر Donald Trump کے حالیہ مذاکرات سے متعلق بیان کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان اس وقت کسی قسم کی کوئی بات چیت نہیں ہو رہی اور امریکی دعوے حقیقت کے برعکس ہیں۔‬

ایرانی میڈیا کے مطابق وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ کے بیانات کا اصل مقصد عالمی توانائی کی قیمتوں کو کم کرنا اور اپنے ممکنہ فوجی منصوبوں کے لیے وقت حاصل کرنا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق ایسے بیانات ایک حکمت عملی کا حصہ ہیں جن کے ذریعے عالمی مارکیٹ اور سیاسی ماحول کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ خطے کے بعض ممالک کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں کر رہے ہیں اور مختلف تجاویز بھی سامنے آئی ہیں، تاہم ایران کا مؤقف واضح ہے کہ ان تمام سفارتی کوششوں کا رخ واشنگٹن کی جانب ہونا چاہیے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ ایران وہ فریق نہیں جس نے موجودہ کشیدگی یا جنگی صورتحال کا آغاز کیا، لہٰذا ذمہ داری بھی دوسری جانب پر عائد ہوتی ہے۔

اسی تناظر میں ایک سینئر ایرانی سکیورٹی عہدیدار نے بھی واضح کیا کہ ایران اور امریکا کے درمیان کسی قسم کی براہِ راست بات چیت جاری نہیں۔ انہوں نے ٹرمپ کے بیان کو “نفسیاتی جنگ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے بیانات کا مقصد دباؤ ڈالنا اور عالمی رائے عامہ کو متاثر کرنا ہے۔ ان کے مطابق ایران کی جانب سے ممکنہ جوابی کارروائی کی دھمکیوں نے امریکا کو اپنے ممکنہ حملے وقتی طور پر مؤخر کرنے پر مجبور کیا۔

دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مثبت اور نتیجہ خیز بات چیت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے حل کے لیے تعمیری مذاکرات جاری ہیں اور آئندہ دنوں میں بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ ٹرمپ نے یہ بھی اعلان کیا کہ انہوں نے امریکی محکمہ جنگ کو ہدایت دی ہے کہ ایرانی پاور پلانٹس اور توانائی تنصیبات پر ممکنہ فوجی کارروائی کو پانچ دن کے لیے روک دیا جائے۔

ٹرمپ کے اس اعلان کے فوری بعد عالمی توانائی مارکیٹ میں نمایاں ردعمل دیکھنے میں آیا۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے کمی ریکارڈ کی گئی، جس کی بڑی وجہ ممکنہ جنگی خطرات میں عارضی کمی کو قرار دیا جا رہا ہے۔

‫اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل Brent Crude Oil کی قیمت جو اس سے قبل 109 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی، اچانک کم ہو کر 94 ڈالر فی بیرل تک آ گئی۔ تاہم بعد میں قیمت میں کچھ استحکام آیا اور یہ دوبارہ بڑھ کر 97 ڈالر سے اوپر چلی گئی، جبکہ موجودہ سطح تقریباً 100 ڈالر فی بیرل کے قریب ہے۔‬

‫اسی طرح امریکی خام تیل West Texas Intermediate (WTI) کی قیمت میں بھی نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔ رپورٹ کے مطابق اس کی قیمت تقریباً 10 فیصد تک کم ہو کر 88.80 ڈالر فی بیرل تک آ گئی۔ ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں میں یہ تیز اتار چڑھاؤ عالمی سیاسی بیانات اور خطے میں ممکنہ فوجی کارروائیوں سے جڑا ہوا ہے۔‬

توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کسی بھی قسم کی کشیدگی یا اس میں کمی کا براہِ راست اثر عالمی تیل مارکیٹ پر پڑتا ہے کیونکہ دنیا کی بڑی تیل سپلائی اسی خطے سے وابستہ ہے۔ اسی لیے ایران اور امریکا کے درمیان بیانات اور اقدامات عالمی معیشت پر فوری اثر ڈالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ ٹرمپ کے بیانات نے وقتی طور پر مارکیٹ کو ریلیف دیا ہے، تاہم ایران کی جانب سے ان دعوؤں کی سختی سے تردید اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خطے میں غیر یقینی صورتحال بدستور برقرار ہے۔ اگر کشیدگی دوبارہ بڑھتی ہے تو تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔

مجموعی طور پر صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ عالمی سیاست، عسکری حکمت عملی اور توانائی مارکیٹ ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑی ہوئی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان جاری بیانیہ جنگ نہ صرف سفارتی محاذ پر اثر انداز ہو رہی ہے بلکہ اس کے اثرات عالمی معیشت، خصوصاً تیل کی قیمتوں پر بھی واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]