ٹک ٹاک میں نئی تبدیلی: اب ایپ اوپن کرتے ہی اشتہارات دیکھیں

موبائل اسکرین پر ٹک ٹاک کا لوگو اور اشتہارات کی جھلک، ٹک ٹاک میں نئی تبدیلی۔
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

ٹک ٹاک میں نئی تبدیلی، صارفین کے لیے ایپ استعمال کرنا اب آسان نہیں رہے گا

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز وقت کے ساتھ ساتھ اپنی ایپس میں نت نئے فیچرز متعارف کرواتے رہتے ہیں، لیکن ہر اپ ڈیٹ صارفین کے لیے خوش آئند نہیں ہوتی۔ حال ہی میں ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن ٹک ٹاک کی جانب سے کچھ ایسے اقدامات اٹھائے گئے ہیں جو اشتہاری کمپنیوں کے لیے تو فائدہ مند ہو سکتے ہیں، لیکن عام صارفین کی بیزاری کا سبب بنیں گے۔ ٹک ٹاک میں نئی تبدیلی کے تحت اب صارفین کو اسکرین پر پہلے سے کہیں زیادہ کمرشلز اور برانڈز کے اشتہارات کا سامنا کرنا پڑے گا، جس سے ویڈیو اسکرولنگ کا روایتی مزہ کرکرا ہو سکتا ہے۔

کمپنی نے باضابطہ طور پر نئے ایڈورٹائزنگ فارمیٹس متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے جن کا بنیادی مقصد برانڈز کی رسائی کو بڑھانا ہے، لیکن اس کا براہ راست بوجھ صارفین کے ڈیٹا اور ان کے وقت پر پڑے گا۔

ٹیک اوور لوگو اور ایپ اوپننگ ایڈز

سب سے بڑی اور پریشان کن اپ ڈیٹ ایپ کو اوپن کرتے وقت سامنے آئے گی۔ جب بھی کوئی صارف ٹک ٹاک کی ایپلی کیشن کو اپنے موبائل فون پر کھولے گا، تو اسے سب سے پہلے کسی نہ کسی برانڈ کا لوگو یا اشتہار دکھائی دے گا۔ اس مخصوص فارمیٹ کو ‘لوگو ٹیک اوور’ کا نام دیا گیا ہے۔ کمپنیوں کو یہ سہولت دی جائے گی کہ وہ ٹک ٹاک کے آفیشل لوگو کے ساتھ اپنی کمپنی کی برانڈنگ چلا سکیں، تاکہ جیسے ہی ایپ اوپن ہو، فوراً صارف کی توجہ حاصل کی جا سکے۔

انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ ٹک ٹاک میں نئی تبدیلی دراصل تخلیقی صلاحیتوں، باہمی اعتبار اور ثقافتی تعلق کی عکاسی کرے گی اور کمپنیوں کو لاکھوں نئے صارفین تک رسائی دے گی۔ تاہم، عام پبلک کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو ایپ لوڈ ہوتے ہی پہلے سیکنڈ میں زبردستی کا اشتہار دیکھنا کسی کو بھی اچھا محسوس نہیں ہوگا۔ لوگ تفریح کے لیے ایپ کھولتے ہیں، اشتہارات دیکھنے کے لیے نہیں۔

پرائم ٹائم اشتہارات اور تکرار کا مسئلہ

اشتہارات کی اس بھرمار میں ایک اور بڑا فارمیٹ ‘پرائم ٹائم ایڈز’ کا ہے۔ اس فیچر کے تحت مخصوص دورانیے یا بڑے لائیو ایونٹس (جیسے کہ میوزک کنسرٹس، اسپورٹس میچز یا گیمنگ اسٹریمز) کے دوران اشتہارات کی ایک پوری سیریز چلائی جائے گی۔ اس میں سب سے پریشان کن بات یہ ہے کہ کسی ایک ہی کمپنی کے تین مختلف اشتہارات آپ کو محض پندرہ منٹ کے وقفے کے اندر دکھائے جائیں گے۔

نفسیاتی طور پر تکرار کے ساتھ ایک ہی برانڈ کو بار بار دیکھنا صارفین میں اکتاہٹ پیدا کرتا ہے۔ پندرہ منٹ میں تین بار ایک ہی کمپنی کا سامنا کرنا کسی بھی صارف کے لیے خوشگوار تجربہ نہیں ہو سکتا۔ اس لیے یہ مانا جا رہا ہے کہ یہ ٹک ٹاک میں نئی تبدیلی صارفین کے ایپ استعمال کرنے کے دورانیے کو کم کر سکتی ہے، کیونکہ لوگ تنگ آ کر موبائل بند کر دیں گے۔

ٹاپ ریچ فارمیٹ: ٹاپ ویو اور ٹاپ فیڈ کا ملاپ

ٹک ٹاک نے اپنی اشتہاری طاقت کو مزید مضبوط کرنے کے لیے اپنے دو پرانے فارمیٹس، یعنی ‘ٹاپ ویو’ اور ‘ٹاپ فیڈ’ کو آپس میں مدغم کر کے ایک نیا فارمیٹ ‘ٹاپ ریچ’ بنا دیا ہے۔

پہلے ‘ٹاپ ویو’ میں اولین اشتہارات صرف ایپ اوپن ہونے پر نظر آتے تھے، جبکہ ‘ٹاپ فیڈ’ میں جب آپ اپنی ‘فار یو فیڈ’ (For You Feed) اسکرول کرتے تھے تو وہاں پہلا اشتہار نظر آتا تھا۔ اب ان دونوں فیچرز کو جوڑنے کا مطلب یہ ہے کہ اب آپ کو ہر جگہ، ہر موڑ پر برانڈز کی تشہیر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ٹک ٹاک میں نئی تبدیلی کے بعد فیڈ میں ویڈیوز کے درمیان کا فاصلہ کم ہو جائے گا اور اشتہارات کی بھرمار ہو جائے گی۔

صارفین کے ردعمل اور مستقبل کے خدشات

اگرچہ کمپنی اس اپ ڈیٹ کو مارکیٹنگ کے حوالے سے ایک بڑی کامیابی قرار دے رہی ہے، لیکن دنیا بھر کے ٹیک ماہرین اور عام صارفین اس پر کڑی تنقید کر رہے ہیں۔ کسی بھی سوشل میڈیا نیٹ ورک کی کامیابی کا راز اس کے مطمئن صارفین ہوتے ہیں۔ اگر صارفین کو ہر پندرہ منٹ میں بار بار اشتہارات جھیلنے پڑیں گے تو وہ متبادل ایپس (جیسے انسٹاگرام ریلز یا یوٹیوب شارٹس) کا رخ کر سکتے ہیں۔

کری ایٹرز کے لیے خوشخبری ٹک ٹاک کے نئے فیچرز نے تخلیقی آزادی کو محفوظ بنا دیا

ڈیجیٹل رائٹس کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پلیٹ فارمز کو پیسہ کمانے کے چکر میں صارف کے تجربے (User Experience) کو قربان نہیں کرنا چاہیے۔ فی الحال ٹک ٹاک انتظامیہ اپنے فیصلے پر قائم ہے، اور اب وقت ہی بتائے گا کہ برانڈز کو خوش کرنے کے چکر میں وہ اپنے مستقل ناظرین کو کھو بیٹھتے ہیں یا لوگ اس اشتہاری بوجھ کے عادی ہو جاتے ہیں۔ اگر آپ روزانہ ٹک ٹاک اسکرول کرتے ہیں تو ذہنی طور پر تیار ہو جائیں کہ اب اس اسکرین پر مواد کم اور کمرشلز زیادہ چلیں گے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]