وزیر داخلہ محسن نقوی کی نادرا کو سخت ہدایات: غیر قانونی پاکستانی شہریت حاصل کرنے والوں کا ڈیٹا بیس سے صفایا شروع
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے قومی سلامتی اور ڈیٹا کی شفافیت کے حوالے سے ایک انتہائی اہم فیصلہ کیا ہے۔ نادرا ہیڈ کوارٹرز کے حالیہ دورے کے دوران انہوں نے واضح طور پر ہدایت جاری کی ہے کہ جن افراد نے کسی بھی غلط طریقے یا دھوکہ دہی سے غیر قانونی پاکستانی شہریت حاصل کی ہے، انہیں فوری طور پر نیشنل ڈیٹا بیس سے نکالا جائے۔ یہ اقدام ملک کے شناختی نظام کو محفوظ بنانے اور جعل سازی کے خاتمے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
نادرا کی کارکردگی اور وزیر داخلہ کی ہدایات
اجلاس کے دوران چیئرمین نادرا نے وفاقی وزیر کو ادارے کی مجموعی کارکردگی، جاری منصوبوں اور مستقبل کی حکمت عملی پر تفصیلی بریفنگ دی۔ محسن نقوی نے نادرا کی عوامی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دو برسوں میں ادارے کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ تاہم، انہوں نے زور دیا کہ غیر قانونی پاکستانی شہریت رکھنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن میں کوئی نرمی نہ برتی جائے تاکہ ریاست کے شناختی کارڈ صرف حقدار شہریوں کے پاس ہوں۔
نادرا دفاتر کے لیے ماسٹر پلان اور خود مختاری
وزیر داخلہ نے ہدایت کی کہ نادرا کے اسٹیٹ آف دی آرٹ دفاتر اب کرائے کی عمارتوں کے بجائے ادارے کی اپنی ملکیتی زمین پر تعمیر کیے جائیں۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے ایک جامع ماسٹر پلان بھی طلب کر لیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نادرا جیسے اہم ادارے کی اپنی مستقل عمارات ہونی چاہئیں تاکہ عوامی خدمات کا تسلسل برقرار رہے۔ اس عمل سے نادرا کو مالی طور پر بھی خود مختاری حاصل ہوگی اور غیر قانونی پاکستانی شہریت کے خلاف آپریشنز کے لیے بہتر انفراسٹرکچر میسر آئے گا۔
شناختی کارڈ کے مسائل کا حل 30 دن میں
عوام کی سہولت کے لیے نادرا نے ایک اور بڑا فیصلہ کیا ہے۔ اب شناختی کارڈ سے متعلق کسی بھی مسئلے یا شکایات کے حل کے لیے 30 دن کی قطعی مدت مقرر کر دی گئی ہے۔ چیئرمین نادرا نے بریفنگ میں بتایا کہ شہریوں کو سہولیات کی فراہمی میں بہتری لانے کے لیے متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ غیر قانونی پاکستانی شہریت کے سدباب کے لیے بائیو میٹرک تصدیق کے ساتھ ساتھ اب چہرے کی تصویر سے تصدیق کا جدید نظام بھی نافذ کیا جا رہا ہے، جس کے لیے دیگر اداروں کا تعاون ناگزیر ہے۔
فوت شدہ افراد کا ڈیٹا اور موبائل سمز کا بلاک ہونا
نادرا نے ڈیٹا بیس کی صفائی کے دوران لاکھوں فوت شدہ افراد کے شناختی کارڈ منسوخ کر دیے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی پی ٹی اے کے تعاون سے ایک بڑا آپریشن شروع کیا گیا ہے جس کے تحت فوت شدہ افراد کے نام پر جاری شدہ موبائل سمز کو بلاک کیا جا رہا ہے۔ یہ اقدام اس لیے ضروری ہے تاکہ ان سمز کو غیر قانونی پاکستانی شہریت کے حامل افراد یا دہشت گرد عناصر استعمال نہ کر سکیں۔
وفاقی وزیر داخلہ نے نادرا کو یقین دلایا کہ وزارتی سطح پر ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا تاکہ غیر قانونی پاکستانی شہریت کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑا جا سکے۔ انہوں نے نادرا حکام کو ہدایت کی کہ وہ متعلقہ اداروں کے ساتھ اپنا رابطہ مزید مضبوط کریں تاکہ ڈیٹا کی تصدیق کا عمل فول پروف بنایا جا سکے۔
نادرا نے ای سہولت فرنچائزز کی مکمل فہرست جاری کر دی
آرٹیکل کے اختتام پر یہ بات واضح ہے کہ حکومت پاکستان اب کسی بھی صورت میں غیر قانونی پاکستانی شہریت کو برداشت کرنے کے موڈ میں نہیں ہے۔ نادرا کو دیا گیا 30 دن کا ٹارگٹ اور ڈیٹا بیس کی اسکرونٹی اس بات کا ثبوت ہے کہ اب شناختی نظام میں شفافیت کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔ اگر کسی بھی غیر ملکی نے جعلی دستاویزات پر غیر قانونی پاکستانی شہریت حاصل کی ہے تو اسے اب قانون کی گرفت سے کوئی نہیں بچا سکے گا۔