عالمی معیشت پر جنگ کے سائے: خام تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں، عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں ہلچل
مشرق وسطیٰ میں جاری شدید تناؤ اور جنگی صورتحال نے عالمی توانائی کی منڈی کو بری طرح اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ سپلائی لائن متاثر ہونے کے خدشات کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں تیزی سے اوپر جا رہی ہیں، جس کے اثرات ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں اور پاکستان سمیت دنیا بھر کی معیشتوں پر نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔
خام تیل کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ
تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں ریکارڈ سطح کو چھو رہی ہیں۔ امریکی خام تیل (WTI) کی قیمت میں 12 فیصد کا بڑا اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے بعد یہ 112 ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچ گیا ہے۔ اسی طرح، برینٹ خام تیل کی قیمت بھی 8 فیصد اضافے کے ساتھ 109 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جنگی حالات برقرار رہے تو خام تیل کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں، جو عالمی مہنگائی میں اضافے کا سبب بنے گی۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی کا راج
عالمی سطح پر تیل کے بحران اور بے یقینی کی صورتحال نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) کو بھی متاثر کیا ہے۔ ہنڈریڈ انڈیکس میں شدید مندی دیکھی گئی اور انڈیکس 1612 پوائنٹس کی بڑی کمی کے ساتھ ایک لاکھ 50 ہزار 398 پوائنٹس پر بند ہوا۔ سرمایہ کاروں میں بے یقینی کی لہر پائی جاتی ہے کیونکہ خام تیل کی قیمتیں بڑھنے سے پاکستان کے درآمدی بل پر دباؤ بڑھے گا، جس کا براہ راست اثر ملکی معیشت پر پڑے گا۔
ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں کا ملا جلا رجحان
تیل کی منڈی میں اتار چڑھاؤ کے باعث ایشیائی مارکیٹوں میں بھی صورتحال غیر مستحکم رہی۔ ہانگ کانگ کے ہینگ سینگ انڈیکس میں 0.7 فیصد اور شنگھائی انڈیکس میں ایک فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ تاہم، اس کے برعکس جاپان کے نکئی انڈیکس میں 1.26 فیصد اور کورین کاسپی انڈیکس میں ڈھائی فیصد سے زائد کا اضافہ دیکھنے میں آیا۔ بھارتی اسٹاک مارکیٹ میں بھی مثبت رجحان رہا، جو ظاہر کرتا ہے کہ مختلف ممالک کی مارکیٹیں ان حالات پر مختلف انداز میں ردعمل دے رہی ہیں۔
مستقبل کے معاشی خدشات
معاشی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ خام تیل کی قیمتیں براہ راست ٹرانسپورٹیشن اور پیداواری لاگت پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ اگر مشرق وسطیٰ میں امن قائم نہ ہوا تو توانائی کا یہ بحران عالمی سپلائی چین کو درہم برہم کر سکتا ہے۔ خاص طور پر وہ ممالک جو اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے درآمدی تیل پر انحصار کرتے ہیں، انہیں شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ خام تیل کی قیمتیں 110 ڈالر سے اوپر رہنا ترقی پذیر ممالک کے لیے معاشی خطرے کی گھنٹی ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ، برینٹ کروڈ 108 ڈالر تک پہنچ گیا
آنے والے دنوں میں سرمایہ کاروں کی نظریں اوپیک (OPEC) کے فیصلوں اور مشرق وسطیٰ کی سیاسی صورتحال پر مرکوز رہیں گی۔ اگر تیل کی پیداوار میں اضافہ نہ کیا گیا تو خام تیل کی قیمتیں ایک نیا تاریخی ریکارڈ قائم کر سکتی ہیں۔