مفت سفری سہولت سے جڑواں شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ پر بے پناہ رش
مفت سفری سروس راولپنڈی اسلام آباد کے تحت حکومت پنجاب کی جانب سے فراہم کی جانے والی سہولت نے جڑواں شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ اس اقدام کے بعد نہ صرف شہریوں کو مالی ریلیف ملا ہے بلکہ روزانہ سفر کرنے والوں کی تعداد میں بھی ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مفت سفری سروس راولپنڈی اسلام آباد کے باعث ریڈ میٹرو بس اور گرین الیکٹرک فیڈر بسوں میں روزانہ کی مجموعی رائیڈر شپ ایک لاکھ ستر ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ یہ تعداد پاکستان میں کسی بھی شہری ٹرانسپورٹ سسٹم کے لیے ایک بڑی کامیابی سمجھی جا رہی ہے۔
راولپنڈی کی ریڈ میٹرو بس سروس، جو کہ راولپنڈی اور اسلام آباد کے درمیان مرکزی سفری ذریعہ ہے، میں روزانہ تقریباً 1 لاکھ 29 ہزار مسافر سفر کر رہے ہیں۔ یہ تعداد اس بات کی واضح نشاندہی کرتی ہے کہ شہریوں نے اس سہولت کو بھرپور انداز میں اپنایا ہے۔
اسی طرح گرین الیکٹرک فیڈر بس سروس، جو مختلف علاقوں کو میٹرو اسٹیشنز سے جوڑتی ہے، میں بھی روزانہ 40 ہزار سے زائد افراد سفر کر رہے ہیں۔ یہ بسیں ماحول دوست ہونے کے ساتھ ساتھ شہریوں کے لیے آسان اور سستا سفری ذریعہ بھی بن چکی ہیں۔
حکومت کی جانب سے اس سروس کے تحت شہریوں کو صرف شناختی کارڈ جبکہ طلبہ کو اسٹوڈنٹ کارڈ دکھانے پر مفت سفر کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ مفت سفری سروس راولپنڈی اسلام آباد کا یہی پہلو اسے عوام میں بے حد مقبول بنا رہا ہے، کیونکہ مہنگائی کے اس دور میں ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں کمی ایک بڑا ریلیف ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ہفتہ اور اتوار جیسے تعطیلات کے دنوں میں بھی اس سروس کا استعمال کم نہیں ہوا۔ حکام کے مطابق ان دنوں میں بھی تقریباً ایک لاکھ تیس ہزار مسافروں نے میٹرو بس کے ذریعے سفر کیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ سہولت ہر طبقے کے لیے یکساں مفید ہے۔
گرین الیکٹرک بسوں میں بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں۔ ان بسوں میں رش اس قدر بڑھ گیا ہے کہ کئی مقامات پر شہریوں کو کھڑے ہو کر سفر کرنا پڑ رہا ہے۔ ایک ہی دن میں 40 ہزار سے زائد افراد کا سفر کرنا اس سروس کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو ظاہر کرتا ہے۔
مفت سفری سروس راولپنڈی اسلام آباد کے مثبت اثرات صرف عوام تک محدود نہیں بلکہ اس نے شہر کی ٹریفک صورتحال پر بھی اثر ڈالا ہے۔ ماہرین کے مطابق جب زیادہ لوگ پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرتے ہیں تو سڑکوں پر گاڑیوں کی تعداد کم ہوتی ہے، جس سے ٹریفک کا دباؤ بھی کم ہوتا ہے۔
تاہم، اس سروس کے کچھ چیلنجز بھی سامنے آ رہے ہیں۔ بڑھتے ہوئے رش کے باعث بسوں میں گنجائش کم پڑنے لگی ہے، جس سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بعض افراد نے شکایت کی ہے کہ رش کے باعث انہیں کئی بار بس کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے مزید بسیں شامل کرنے اور سروس کو وسعت دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب رہا تو مستقبل میں دیگر شہروں میں بھی اس طرح کی مفت سفری سہولت متعارف کروائی جا سکتی ہے۔
مفت سفری سروس راولپنڈی اسلام آباد کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ اس سے طلبہ کو خاص فائدہ پہنچ رہا ہے۔ روزانہ اسکول، کالج اور یونیورسٹی جانے والے طلبہ کے لیے یہ سہولت ایک بڑی آسانی ثابت ہو رہی ہے، کیونکہ انہیں اب کرایہ ادا نہیں کرنا پڑتا۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی سہولیات عوامی فلاح کے لیے انتہائی اہم ہوتی ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو اس کے مالی اثرات کا بھی جائزہ لینا چاہیے تاکہ یہ منصوبہ طویل مدت تک جاری رکھا جا سکے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ مفت سفری سروس راولپنڈی اسلام آباد ایک کامیاب عوامی منصوبہ بن چکا ہے، جس نے شہریوں کو ریلیف فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ پبلک ٹرانسپورٹ کے استعمال کو بھی فروغ دیا ہے۔ اگر حکومت اس سروس کو مزید بہتر بنائے اور بڑھتے ہوئے رش کو کنٹرول کرے تو یہ منصوبہ پاکستان کے دیگر شہروں کے لیے بھی ایک مثال بن سکتا ہے۔

