سندھ حکومت کا بڑا ریلیف، ماہی گیروں کو فیول سبسڈی، ہزاروں خاندان مستفید ہوں گے
ماہی گیروں کیلئے فیول سبسڈی سندھ کے تحت صوبائی حکومت نے ایک اہم اور بڑا اقدام کرتے ہوئے 51 کروڑ 50 لاکھ روپے کے ریلیف پیکج کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے متاثر ہونے والے ہزاروں ماہی گیروں کو فوری مالی سہارا فراہم کرنا ہے۔
یہ اعلان صوبائی وزیر فشریز محمد علی ملکانی نے سجاول میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس پیکج کے تحت ماہی گیروں کو دو ماہ کے لیے ایندھن کے اخراجات پورے کرنے کیلئے ایک بار مالی امداد دی جائے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ حالیہ مہینوں میں ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث ماہی گیری کے شعبے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ان کے مطابق مچھلی کے شکار میں تقریباً 20 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے باعث ہزاروں خاندانوں کا روزگار خطرے میں پڑ گیا ہے۔
ماہی گیروں کیلئے فیول سبسڈی سندھ پروگرام کے تحت مجموعی طور پر 9 ہزار 634 رجسٹرڈ کشتی مالکان کو مالی امداد فراہم کی جائے گی۔ حکومت نے کشتیوں کے سائز کے مطابق سبسڈی کی تقسیم کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت بڑی کشتیوں کے مالکان کو فی کشتی 2 لاکھ روپے جبکہ چھوٹی کشتیوں کے مالکان کو ایک لاکھ روپے فراہم کیے جائیں گے۔
صوبائی وزیر نے بتایا کہ اس سبسڈی کی تقسیم مکمل طور پر ڈیجیٹل نظام کے تحت کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور کسی قسم کی بدعنوانی کا امکان نہ رہے۔ اس اقدام کو ماہرین نے خوش آئند قرار دیا ہے کیونکہ اس سے حکومتی امداد براہ راست مستحق افراد تک پہنچے گی۔
ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ ماہی گیروں کیلئے فیول سبسڈی سندھ نہ صرف متاثرہ افراد کیلئے فوری ریلیف فراہم کرے گی بلکہ یہ ماہی گیری کے شعبے کو دوبارہ فعال بنانے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
پاکستان میں ماہی گیری کا شعبہ نہایت اہمیت کا حامل ہے، خاص طور پر سندھ کے ساحلی علاقوں میں جہاں ہزاروں خاندان اپنی روزی روٹی کیلئے اس پیشے سے وابستہ ہیں۔ تاہم بڑھتی ہوئی مہنگائی اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے اس شعبے کو شدید متاثر کیا ہے۔
ماہی گیروں کا کہنا ہے کہ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ان کے اخراجات میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے، جبکہ آمدنی میں کمی واقع ہوئی ہے۔ ایسے میں حکومت کی جانب سے دیا جانے والا یہ پیکج ان کیلئے ایک بڑی سہولت ہے۔
ماہی گیروں کیلئے فیول سبسڈی سندھ کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس پروگرام کو مؤثر طریقے سے نافذ کیا گیا تو یہ نہ صرف ماہی گیروں بلکہ ملکی معیشت کیلئے بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ ماہی گیری کا شعبہ برآمدات میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
صوبائی حکومت نے اس بات کا عندیہ بھی دیا ہے کہ مستقبل میں مزید اقدامات کیے جا سکتے ہیں تاکہ ماہی گیری کے شعبے کو درپیش مسائل کو مستقل بنیادوں پر حل کیا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت ماہی گیروں کیلئے طویل مدتی پالیسی مرتب کرے، جس میں جدید ٹیکنالوجی، بہتر انفراسٹرکچر اور مالی سہولیات شامل ہوں۔
ماہی گیروں کیلئے فیول سبسڈی سندھ ایک اہم قدم ضرور ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ دیگر اصلاحات بھی ضروری ہیں تاکہ اس شعبے کو مکمل طور پر بحال کیا جا سکے۔
آخر میں یہ کہنا درست ہوگا کہ سندھ حکومت کا یہ اقدام نہ صرف متاثرہ ماہی گیروں کیلئے ایک بڑی سہولت ہے بلکہ یہ اس بات کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت عوامی مسائل کے حل کیلئے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔

