چینی کی قلت: لاہور میں ہول سیلرز اور کریانہ فروش آمنے سامنے

چینی کی قلت لاہور میں، ہول سیلرز اور کریانہ فروش آمنے سامنے
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

لاہور میں چینی کی قلت برقرار، ہول سیلرز اور کریانہ فروشوں کا ٹکراؤ

لاہور میں چینی کی قلت اور قیمتوں میں ہوشربا اضافے کا مسئلہ

لاہور سمیت پاکستان کے مختلف علاقوں میں چینی کی قلت نے شہریوں کی زندگی کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ گزشتہ کئی مہینوں سے چینی کی قیمتوں میں اضافہ جاری ہے اور یہ بحران ابھی تک حل نہیں ہو سکا۔ لاہور میں چینی کی قیمتیں اس حد تک بڑھ گئی ہیں کہ ہول سیلرز 186 روپے فی کلوگرام قیمت پر چینی بیچنے کے لیے تیار ہیں، جبکہ سرکاری قیمت 175 روپے فی کلوگرام مقرر کی گئی ہے۔ دوسری طرف کریانہ فروشوں نے بھی اس پر اعتراض اٹھایا ہے اور مہنگی چینی خریدنے سے انکار کر دیا ہے۔ ان کے مطابق، چینی 186 روپے فی کلوگرام خرید کر 175 روپے میں فروخت کرنا ان کے لیے ممکن نہیں ہے۔ یہ مسئلہ نہ صرف چینی کے بحران کو ظاہر کرتا ہے بلکہ حکومتی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھا رہا ہے۔

چینی کی قلت کا پس منظر

چینی کی قلت کا مسئلہ پاکستان میں کوئی نیا نہیں ہے۔ گزشتہ سال بھی چینی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوا تھا اور حکومت نے مختلف اقدامات کیے تھے تاکہ قیمتوں کو قابو میں رکھا جا سکے۔ تاہم، اس بار لاہور اور دیگر شہروں میں چینی کی قلت ایک نیا بحران بن چکا ہے، جس کی وجہ سے عوام اور کاروباری طبقہ دونوں متاثر ہو رہے ہیں۔ چینی کی قیمت میں اضافے کے ساتھ ساتھ اس کی کمی بھی مارکیٹ میں نظر آ رہی ہے، جس کی وجہ سے ذخیرہ اندوزی، بلیک مارکیٹنگ اور سرکاری نرخوں کے ساتھ ٹکراؤ کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔

ہول سیلرز کی بلیک مارکیٹ میں چینی فروخت کرنے کی کوششیں

لاہور میں ہول سیلرز چینی کو 186 روپے فی کلوگرام کے حساب سے بلیک مارکیٹ میں بیچنے کے لیے تیار ہیں، جو کہ سرکاری قیمت 175 روپے سے کہیں زیادہ ہے۔ ہول سیلرز کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ان کے لیے 175 روپے فی کلوگرام پر چینی بیچنا ممکن نہیں رہا۔ اس صورت حال میں انہیں اپنے کاروبار کو جاری رکھنے کے لیے مہنگی قیمت پر چینی فروخت کرنے کا راستہ اختیار کرنا پڑ رہا ہے۔

اس قیمت پر چینی کی فروخت نہ صرف عوام کے لیے مزید مشکلات پیدا کر رہی ہے بلکہ حکومتی کوششوں کو بھی شدید نقصان پہنچا رہی ہے۔ اگرچہ حکومت نے چینی کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے اقدامات کیے ہیں، لیکن بلیک مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں کا بڑھنا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ حکومت اس بحران پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے۔

کریانہ فروشوں کی مشکلات

کریانہ فروشوں کا کہنا ہے کہ وہ ہول سیلرز سے 186 روپے فی کلوگرام چینی خرید کر 175 روپے میں فروخت نہیں کر سکتے۔ ان کے لیے اس طرح کا کاروبار کرنا ممکن نہیں ہے کیونکہ اس میں انہیں نقصان کا سامنا ہوگا۔ کریانہ فروشوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو اس بات کا نوٹس لینا چاہیے اور بلیک مارکیٹ میں چینی فروخت کرنے والے ہول سیلرز کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر چینی کی قیمتوں کو حکومت کے مقرر کردہ نرخوں پر لایا جائے تو نہ صرف عوام کو فائدہ ہوگا بلکہ کاروباری طبقہ بھی بحران سے بچ سکے گا۔

کریانہ فروشوں کے اعتراضات درست ہیں کیونکہ ایک طرف حکومت قیمتوں کو کم رکھنے کی کوشش کر رہی ہے، تو دوسری طرف بلیک مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے، جو کہ عوامی اضطراب کا سبب بن رہا ہے۔ اس صورتحال میں کاروبار کرنے والے افراد بھی مشکل میں ہیں اور ان کے لیے چینی خریدنا اور بیچنا دونوں مشکل ہو گئے ہیں۔

حکومتی اقدامات اور چینی کی قیمتوں میں اضافہ

حکومت نے چینی کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے کئی بار اقدامات کیے ہیں، جن میں چینی کی برآمدات پر پابندی اور چینی کے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائیاں شامل ہیں۔ تاہم، یہ اقدامات ابھی تک اس بحران کو مکمل طور پر حل کرنے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ چینی کی قلت کے باوجود، حکومت کی طرف سے کوئی مؤثر پالیسی سامنے نہیں آئی ہے جس سے قیمتوں کو کنٹرول کیا جا سکے۔

حکومت کے فیصلے اور اقدامات نہ صرف مارکیٹ میں قیمتوں کی بے ترتیبی کو بڑھا رہے ہیں بلکہ عوامی اعتماد بھی کم کر رہے ہیں۔ جب تک حکومت اس بحران کو حل کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات نہیں کرتی، اس بحران کا حل مشکل نظر آتا ہے۔

ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹ کا مسئلہ

چینی کی قیمتوں میں اضافہ اور اس کی قلت کی سب سے بڑی وجہ ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹ کا کاروبار ہے۔ ذخیرہ اندوزی کرنے والے افراد چینی کے ذخیرے کو قیمتوں میں اضافے کے بعد مارکیٹ میں بیچتے ہیں، جس سے ان کے فائدے کے لیے عوام کو مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔ جب چینی کی کمی ہوتی ہے تو ذخیرہ اندوز اسے مہنگے داموں بیچ کر منافع کمانے کی کوشش کرتے ہیں۔

پاکستان میں بلیک مارکیٹ کا کاروبار بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ بلیک مارکیٹ میں چینی کی قیمتیں سرکاری نرخوں سے کہیں زیادہ ہوتی ہیں، جس سے عوام کا نقصان ہوتا ہے۔ حکومت کو اس صورت حال میں بلیک مارکیٹ کو روکنے اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو چینی کے حوالے سے کوئی پریشانی نہ ہو۔

عوامی ردعمل اور تشویش

چینی کی قیمتوں میں اضافے اور اس کی کمی پر عوام کی جانب سے شدید ردعمل آ رہا ہے۔ لوگ حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات پر تنقید کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ حکومت اس مسئلے کو حل کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ عوام کے لیے چینی کی قیمتوں میں اضافے کا مطلب ہے کہ وہ روزمرہ کی ضروریات کو پورا کرنے میں مزید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

عوامی سطح پر چینی کی کمی اور قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے معاشی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ غریب طبقہ پہلے ہی مہنگائی سے پریشان ہے اور چینی جیسے روزمرہ کے استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے نے ان کی مشکلات کو مزید بڑھا دیا ہے۔

لاہور میں چینی کی قلت اور قیمتوں میں اضافے کا مسئلہ حکومت، کاروباری افراد اور عوام کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکا ہے۔ ہول سیلرز کی طرف سے بلیک مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں کا اضافہ اور کریانہ فروشوں کی طرف سے مہنگی چینی خریدنے سے انکار، یہ تمام عوامل اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ اس بحران کو حل کرنے کے لیے حکومتی پالیسیوں میں بہتری کی ضرورت ہے۔ حکومت کو فوری طور پر ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے چینی کی قیمتوں کو قابو میں لانے کے لیے مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ عوام کی مشکلات کم کی جا سکیں اور معیشت میں استحکام آئے۔

ملک میں چینی کی اوسط قیمت میں اضافے کے بعد شہری مہنگی چینی خریدنے پر مجبور
ملک میں چینی کی اوسط قیمت میں اضافے سے صارفین مشکلات کا شکار
پاکستان میں چینی کا بحران – عوام اور تاجروں کی مشکلات کی تصویر
"پاکستان میں چینی کا بحران شدت اختیار کر گیا – قیمتوں اور سپلائی چین کا مسئلہ”

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]