بلوچستان اور کے پی دہشتگرد حملوں میں بیرونی ہاتھ ملوث ہونے کے ثبوت ہیں: وزیراعظم

بلوچستان اور کے پی دہشتگرد حملوں میں بیرونی ہاتھ ملوث ہیں:وزیراعظم
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

‫تیانجن (چین): وزیراعظم شہباز شریف نے چین کے شہر تیانجن میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے 25 ویں سربراہان مملکت کونسل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان اور کے پی دہشتگرد حملوں میں بیرونی ہاتھ ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد موجود ہیں اور پاکستان اس معاملے کو عالمی اور علاقائی فورمز پر اٹھاتا رہے گا تاکہ دنیا حقائق سے آگاہ ہو۔‬

شاندار میزبانی پر چین کا شکریہ

وزیراعظم نے کانفرنس سے خطاب کا آغاز شاندار میزبانی اور بہترین انتظامات پر چینی صدر اور حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم علاقائی تعاون، امن اور ترقی کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے اور پاکستان ہمیشہ اس پلیٹ فارم کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کا خواہاں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا دیرینہ مؤقف ہے کہ کثیرالجہتی، مکالمہ اور سفارتکاری خطے میں دیرپا امن کے لیے ناگزیر ہیں۔ کسی بھی ملک کے لیے سب سے مقدم چیز اس کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت ہے، اور پاکستان ہمیشہ اپنے ہمسایہ ممالک کے ان اصولوں کا احترام کرتا ہے۔

دہشتگردی اور بیرونی مداخلت

وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ ہزاروں فوجی جوان اور شہری دہشتگردی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں اور ملکی معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔ انہوں نے دو ٹوک کہا کہ پاکستان دہشتگردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کو پورے خطے کے لیے سنگین خطرہ سمجھتا ہے اور اس کی ہر شکل و صورت کی بھرپور مذمت کرتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا:

"بلوچستان اور کے پی دہشتگرد حملوں میں بیرونی ہاتھ ملوث ہونے کے واضح ثبوت موجود ہیں۔ یہ حملے کسی اندرونی مزاحمت یا عوامی بے چینی کا نتیجہ نہیں بلکہ دشمن قوتوں کے منصوبہ بند اقدامات ہیں جو پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔”

انہوں نے زور دیا کہ ایسے گھناؤنے جرائم کے ذمہ داروں اور ان کے سہولت کاروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے تاکہ خطے میں امن قائم رہ سکے۔

سی پیک اور علاقائی تعاون

وزیراعظم نے چین کے ساتھ پاک-چین اقتصادی راہداری (CPEC) کے منصوبے کو ایک بہترین شراکت داری قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ نہ صرف پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی اور معاشی تعاون کو مضبوط کر رہا ہے بلکہ پورے خطے کے لیے ترقی کے دروازے کھول رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان تمام بین الاقوامی اور دوطرفہ معاہدوں کا احترام کرتا ہے اور پانی تک بلا رکاوٹ رسائی جیسے معاملات پر بھی تعاون اور اتفاق رائے کو فروغ دینا چاہتا ہے، کیونکہ یہ شنگھائی تعاون تنظیم کے مقاصد کو مستحکم کرنے کے لیے ضروری ہے۔

ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات

وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ معمول کے تعلقات چاہتا ہے۔ ان کے مطابق مکالمے اور سفارتکاری کے ذریعے ہی خطے کے دیرینہ مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے جامع مذاکرات کی ضرورت ہے تاکہ خطے کے عوام کو خوشحالی میسر ہو۔

غزہ کی صورتحال پر اظہار تشویش

وزیراعظم شہباز شریف نے خطاب کے دوران فلسطین کے مسئلے پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں جاری ظلم، خونریزی اور بھوک عالمی ضمیر پر ایک نہ ختم ہونے والا داغ ہے۔ پاکستان اقوام متحدہ کے منظور شدہ دو ریاستی حل کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور اسرائیلی جارحیت کے فوری خاتمے کا مطالبہ دہراتا ہے۔

افغانستان کا استحکام

وزیراعظم نے افغانستان کے بارے میں کہا کہ افغانستان ایک برادر ہمسایہ ملک ہے اور اس کا استحکام نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے مفاد میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مستحکم افغانستان کے قیام کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کو تیار ہے کیونکہ وہاں امن قائم ہونا خطے کی خوشحالی اور ترقی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

عالمی برادری کو پیغام

وزیراعظم نے کہا کہ دنیا سیاسی مفادات کے لیے دہشتگردی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے والے ممالک کے جھوٹے بیانیے کو قبول نہیں کر سکتی۔ پاکستان نے اپنی قربانیوں سے دنیا کو بارہا یہ پیغام دیا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اس نے عملی کردار ادا کیا ہے۔ اب عالمی برادری پر لازم ہے کہ وہ پاکستان کے مؤقف کو سنجیدگی سے سنے اور تسلیم کرے کہ بلوچستان اور کے پی دہشتگرد حملوں میں بیرونی ہاتھ ملوث ہے۔

بلوچستان میں مسافروں کے قتل کے خلاف صدر اور وزیراعظم کی شدید مذمت کا منظر
بلوچستان میں سانحہ: صدر زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے شدید مذمت

تجزیہ اور اثرات

ماہرین کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کا یہ بیان پاکستان کی سفارتی پالیسی کا حصہ ہے جس کے ذریعے دنیا کو باور کرایا جا رہا ہے کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف لڑائی میں اکیلا نہیں رہ سکتا۔ یہ ضروری ہے کہ خطے کے تمام ممالک مل کر اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں۔

پاکستانی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں حالیہ دہشتگرد حملے نہ صرف اندرونی امن کے لیے چیلنج ہیں بلکہ پاک-چین اقتصادی راہداری جیسے بڑے منصوبوں کے لیے بھی خطرہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم نے اس معاملے کو شنگھائی تعاون تنظیم جیسے بڑے فورم پر اٹھایا تاکہ دوست ممالک اور عالمی برادری حقیقت سے آگاہ ہو سکے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں واضح کر دیا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں نہ صرف فرنٹ لائن اسٹیٹ ہے بلکہ اس کے عوام اور فوج نے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں۔ لیکن اب وقت آگیا ہے کہ عالمی برادری پاکستان کے مؤقف کی تائید کرے اور ان قوتوں کو بے نقاب کرے جو بلوچستان اور کے پی دہشتگرد حملوں میں بیرونی ہاتھ ملوث ہونے کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔

یہ بیان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب پاکستان دہشتگردی کی نئی لہر کا سامنا کر رہا ہے اور ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی اور علاقائی تعاون کے ذریعے اس خطرے کو جڑ سے ختم کیا جائے۔

وزیراعظم شہباز شریف دورہ چین: ایس سی او اجلاس میں شرکت اور اہم معاہدوں کا امکان

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]