11 غذائیں جو آئرن کی کمی (یا خون کی کمی) دور کرنے کے لیے بہترین ہیں
دنیا بھر میں لاکھوں افراد کو صحت کے جس مسئلے کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ان میں سب سے عام مسئلہ آئرن کی کمی ہے۔ آئرن کی کمی کے باعث جسم میں خون کے سرخ خلیات مناسب مقدار میں نہیں بن پاتے، جس کے نتیجے میں انیمیا یا خون کی کمی پیدا ہوتی ہے۔ یہ ایک ایسا عارضہ ہے جو نہ صرف کمزوری اور تھکن پیدا کرتا ہے بلکہ مختلف سنگین بیماریوں کا خطرہ بھی بڑھا دیتا ہے۔
ہمارا جسم آئرن کو ہیموگلوبن بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے، اور یہی ہیموگلوبن خون کے سرخ خلیات میں آکسیجن لے جانے کا کام کرتا ہے۔ اگر آئرن کم ہو تو پورے جسم میں آکسیجن کی سپلائی متاثر ہوتی ہے۔ اسی لیے آئرن کی کمی کے شکار افراد اکثر چکر آنا، تھکن، سانس پھولنا اور کمزوری جیسی علامات محسوس کرتے ہیں۔
اس مسئلے سے بچنے کے لیے خوراک میں ایسی غذاؤں کا استعمال ضروری ہے جو آئرن سے بھرپور ہوں۔ آئیے جانتے ہیں وہ 11 بہترین غذائیں کون سی ہیں جو قدرتی طور پر آئرن کی کمی کو دور کرنے میں مدد دیتی ہیں۔
- چقندر
چقندر کو قدرتی خون بنانے والی سبزی کہا جاتا ہے۔ اس میں موجود آئرن، فولیٹ اور وٹامن سی خون کے سرخ خلیات کی پیداوار کو تیز کرتے ہیں۔ باقاعدگی سے چقندر کھانے سے نہ صرف آئرن کی کمی پر قابو پایا جا سکتا ہے بلکہ خون کی گردش بھی بہتر ہوتی ہے۔
- گڑ
قدیم زمانے سے گڑ کو خون بڑھانے والی غذا سمجھا جاتا ہے۔ اس میں پودوں سے حاصل ہونے والا آئرن پایا جاتا ہے جو ہیموگلوبن بڑھانے میں مددگار ہے۔ اگرچہ یہ میٹھا ہے مگر محدود مقدار میں استعمال کرنے سے آئرن کی کمی دور کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
- دالیں
دالیں آئرن سے بھرپور ہونے کے ساتھ ساتھ فائبر کا بھی خزانہ ہیں۔ دالیں نہ صرف خون میں آئرن کی سطح کو بڑھاتی ہیں بلکہ کولیسٹرول کم کرنے، بلڈ شوگر کو متوازن رکھنے اور قبض سے بچانے میں بھی مدد کرتی ہیں۔ خاص طور پر مسور اور ماش کی دال ان افراد کے لیے بہت فائدہ مند ہیں جو آئرن کی کمی کا شکار ہوں۔
- کدو کے بیج
کدو کے بیج غذائی اجزا کا بھرپور خزانہ ہیں۔ ان میں آئرن کے ساتھ ساتھ زنک اور میگنیشم بھی شامل ہیں۔ روزانہ ایک مٹھی کدو کے بیج کھانے سے جسم میں آئرن کی سطح بہتر ہوتی ہے اور مدافعتی نظام بھی مضبوط بنتا ہے۔ یہ خاص طور پر ان لوگوں کے لیے مفید ہیں جو بغیر گوشت کھائے آئرن کی کمی دور کرنا چاہتے ہیں۔
- سرخ گوشت
گائے اور بکرے کا گوشت آئرن کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ اس میں موجود آئرن جسم میں آسانی سے جذب ہوتا ہے۔ پالک یا دالوں کے ساتھ گوشت کھانے سے آئرن کا اثر اور بھی بڑھ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین غذائیت اکثر انیمیا کے مریضوں کو سرخ گوشت کھانے کا مشورہ دیتے ہیں تاکہ آئرن کی کمی جلد دور ہو سکے۔
- پالک
پالک ایک سپر فوڈ ہے جس میں کم کیلوریز لیکن زیادہ غذائی اجزا موجود ہیں۔ 100 گرام پالک میں تقریباً 2.7 ملی گرام آئرن پایا جاتا ہے، جو روزانہ کی ضرورت کا 15 فیصد پورا کرتا ہے۔ پالک میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس جسم کو کئی بیماریوں سے بچاتے ہیں اور بینائی کو بھی بہتر رکھتے ہیں۔ اس سبزی کو روزانہ کی خوراک میں شامل کرنے سے آئرن کی کمی پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے۔
- چکن کا گوشت
چکن کا گوشت ان افراد کے لیے بہترین ہے جو سرخ گوشت زیادہ نہیں کھاتے۔ اگرچہ اس میں آئرن کی مقدار سرخ گوشت کے مقابلے میں کم ہے لیکن پھر بھی یہ جسم میں آئرن کی سطح بڑھانے میں مددگار ہے۔
- مچھلی
مچھلی پروٹین اور آئرن دونوں کا بہترین ذریعہ ہے۔ خاص طور پر سامن اور سرڈین جیسی مچھلیاں آئرن کے ساتھ ساتھ اومیگا 3 فیٹی ایسڈز بھی فراہم کرتی ہیں جو دل اور دماغ کی صحت کے لیے نہایت اہم ہیں۔ مچھلی کھانے سے آئرن کی کمی کے ساتھ ساتھ مدافعتی نظام بھی مضبوط ہوتا ہے۔
- انڈے
انڈے غذائیت سے بھرپور غذا ہیں اور ان میں بھی آئرن موجود ہوتا ہے۔ البتہ انڈوں کے ساتھ چائے یا کافی پینے سے آئرن کے جذب ہونے میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔ اس لیے بہتر ہے کہ انڈے کھانے کے بعد کچھ دیر تک چائے یا کافی نہ پی جائے تاکہ آئرن کی کمی پر قابو پانے میں زیادہ مدد ملے۔
- گریاں اور خشک میوہ جات
کشمش، کاجو، پستہ اور خشک آلوبخارے ایسے خشک میوہ جات ہیں جو آئرن سے بھرپور ہیں۔ یہ نہ صرف خون بنانے میں مددگار ہیں بلکہ توانائی بھی فراہم کرتے ہیں۔ روزانہ مٹھی بھر خشک میوہ جات کھانے سے جسم میں آئرن کی سطح بہتر ہوتی ہے اور آئرن کی کمی کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔
- کھجور
کھجور ایک مکمل غذائیت سے بھرپور پھل ہے۔ اس میں موجود آئرن خون کی سطح بڑھانے میں بہت مؤثر ہے۔ ذیابیطس کے مریضوں کو کھجور کھانے میں احتیاط کرنی چاہیے، لیکن صحت مند افراد کے لیے یہ آئرن کی کمی دور کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔

آئرن کی کمی کے نقصانات
اگر آئرن کی کمی پر بروقت قابو نہ پایا جائے تو یہ کئی بیماریوں کا باعث بن سکتی ہے۔ ان میں امراض قلب، ڈپریشن، کمزوری، بال جھڑنا اور مدافعتی نظام کی کمزوری شامل ہیں۔ اسی لیے ضروری ہے کہ روزمرہ خوراک میں آئرن سے بھرپور غذاؤں کو شامل کیا جائے۔
ماہرین صحت کی وضاحت: کیلشیئم کا بہترین ذریعہ کون سا ہے؟
مختصر یہ کہ خوراک کے ذریعے آئرن کی کمی پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ اگر آپ چقندر، گڑ، دالیں، پالک، گوشت، مچھلی، انڈے، گریاں اور کھجور جیسی غذائیں اپنی روزمرہ ڈائٹ میں شامل کریں تو انیمیا یا خون کی کمی کا خطرہ کم کیا جا سکتا ہے۔ یہ غذائیں نہ صرف خون کی کمی دور کرتی ہیں بلکہ مجموعی صحت کے لیے بھی فائدہ مند ہیں۔
2 Responses