بناولنٹ فنڈ پالیسی: سرکاری ملازمین کے لیے ریٹائرمنٹ پر نئی ادائیگیوں کا اعلان

بناولنٹ فنڈ پالیسی کے تحت سرکاری ملازمین کو ریٹائرمنٹ پر ادائیگیاں
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

بناولنٹ فنڈ پالیسی میں تبدیلی، ریٹائرمنٹ پر سرکاری ملازمین کو کتنی رقم ملے گی؟

وفاقی حکومت نے سرکاری ملازمین کے لیے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے بناولنٹ فنڈ پالیسی میں بڑی تبدیلی کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کابینہ سیکرٹریٹ کے اجلاس میں کیا گیا، جس کی صدارت ملک ابرار احمد نے کی۔ اس پالیسی کے تحت سرکاری ملازمین کو ریٹائرمنٹ کے بعد مالی سہولت دی جائے گی، تاکہ وہ عملی زندگی سے سبکدوش ہونے کے بعد بہتر انداز میں اپنی ضروریات پوری کر سکیں۔

نئی پالیسی کے تحت ادائیگیاں

اجلاس میں حکام نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے بناولنٹ فنڈ پالیسی میں اصلاحات کرتے ہوئے سرکاری ملازمین کو گریڈ کے حساب سے ریٹائرمنٹ پر ادائیگیاں کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

  • گریڈ 1 تا 10 کے ملازمین کو ریٹائرمنٹ پر 5 لاکھ روپے دیے جائیں گے۔
  • گریڈ 11 تا 16 کے ملازمین کو 10 لاکھ روپے ملیں گے۔
  • گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے افسران کو 15 لاکھ روپے فراہم کیے جائیں گے۔

یہ فیصلہ سرکاری ملازمین کے طویل عرصے تک خدمات انجام دینے کے اعتراف کے طور پر کیا گیا ہے۔

مالی اثرات کا جائزہ

حکام نے اجلاس کو بتایا کہ بناولنٹ فنڈ پالیسی میں تبدیلی کے مالی اثرات کا اندازہ لگانے کے لیے ایک بین الاقوامی فرم کو ہائر کیا گیا ہے۔ یہ فرم اپنی رپورٹ اور ٹائم لائن آئندہ دنوں میں حکومت کو فراہم کرے گی تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ فنڈز کے استعمال سے حکومتی خزانے پر غیر ضروری دباؤ نہ پڑے۔

کمیٹی میں تحفظات

پیپلز پارٹی کے رکن آغا رفیع اللہ نے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت افسران کو ریٹائرمنٹ کے بعد مالی معاونت دینے میں تاخیر کرتی ہے اور بسا اوقات ان کے انتقال کے بعد ادائیگیاں کی جاتی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پالیسی کو اس انداز میں نافذ کیا جائے کہ ریٹائرڈ ملازمین بروقت رقم حاصل کر سکیں۔

90 دنوں کی مہلت

قائمہ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ مالی اثرات کی رپورٹ مکمل کرنے کے لیے بناولنٹ فنڈ کو 90 دنوں کی مہلت دی جائے۔ اس دوران تمام تفصیلات مرتب کر کے کمیٹی کو فراہم کی جائیں گی۔

سیلاب زدگان کے لیے بریفنگ

اجلاس میں صرف بناولنٹ فنڈ ہی نہیں بلکہ وزیراعظم کی جانب سے سیلاب متاثرین کے لیے ریلیف اقدامات پر بھی بریفنگ طلب کی گئی۔ کمیٹی ارکان نے سوال اٹھایا کہ پاور ڈویژن کس طرح متاثرین تک ریلیف پہنچائے گا اور اس کے لیے کیا طریقہ کار اپنایا گیا ہے۔ اس پر فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ اجلاس میں وفاقی وزیر توانائی کو طلب کیا جائے۔

بناولنٹ فنڈ پالیسی کی اہمیت

پاکستان میں ہزاروں سرکاری ملازمین اپنی سروس مکمل کرنے کے بعد مالی مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ بناولنٹ فنڈ پالیسی نہ صرف ان کے لیے ایک سہارا ہے بلکہ ان کے اہل خانہ کے لیے بھی ایک بڑا سہولت پیکج ہے۔ اس نئی پالیسی سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت ملازمین کی خدمات کے اعتراف میں انہیں بہتر سہولت فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

ملازمین کے لیے خوشخبری

یہ تبدیلی خاص طور پر نچلے گریڈ کے ملازمین کے لیے بڑی خوشخبری ہے کیونکہ وہ محدود تنخواہ پر سروس انجام دیتے ہیں اور ریٹائرمنٹ کے بعد آمدنی کے ذرائع نہ ہونے کی وجہ سے شدید مسائل کا شکار ہوتے ہیں۔ بناولنٹ فنڈ پالیسی کے تحت ریٹائرمنٹ پر ملنے والی رقم انہیں نئی زندگی شروع کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔

مستقبل کے امکانات

اگر حکومت نے اس پالیسی کو کامیابی سے نافذ کیا تو مستقبل میں اس میں مزید بہتری کے امکانات بھی موجود ہیں، جیسے کہ ادائیگیوں میں اضافہ یا صحت و تعلیم سے متعلق سہولتیں شامل کرنا۔ اس طرح بناولنٹ فنڈ پالیسی سرکاری ملازمین کے لیے ایک مکمل فلاحی نظام بن سکتی ہے۔

وفاقی حکومت کی جانب سے بناولنٹ فنڈ پالیسی میں کی گئی یہ تبدیلی بلاشبہ ایک مثبت قدم ہے۔ اس سے نہ صرف سرکاری ملازمین کو ریٹائرمنٹ کے بعد مالی سکون ملے گا بلکہ حکومت اور ملازمین کے درمیان اعتماد کے رشتے کو بھی مضبوطی ملے گی۔

سندھ سرکاری ملازمین پنشن نظام بحال، نئی اسکیم ختم

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]