آئینی عدالت برہمی کیس: سپریم کورٹ میں وکیل کی حاضری پر سخت ریمارکس

آئینی عدالت برہمی کیس
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

آئینی عدالت کا اظہارِ برہمی: پہلے یہاں پیش ہوں، ورنہ کیس خارج ہوگا

آئینی معاملات سے متعلق اہم سماعت کے دوران اس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہوگئی جب وکیل کی آئینی عدالت کے بجائے سپریم کورٹ میں حاضری پر عدالت نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔ اس کیس کی سماعت دو رکنی بینچ نے کی جس کی سربراہی حسن اظہر رضوی کر رہے تھے۔ عدالت نے واضح الفاظ میں کہا کہ عدالتی نظم و ضبط کو برقرار رکھنا ضروری ہے اور وکلاء کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ وہ جس عدالت میں مقدمہ زیر سماعت ہو، سب سے پہلے اسی عدالت میں پیش ہوں۔

سماعت کے دوران جج صاحبان نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ متعلقہ وکیل آئینی عدالت میں پیش ہونے کے بجائے سپریم کورٹ آف پاکستان میں پیش ہوئے، جسے عدالت نے نامناسب قرار دیا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ آئینی عدالت کا قیام آئینی اور قانونی معاملات کو موثر طریقے سے سننے کے لیے کیا گیا ہے، لہٰذا وکلاء کو چاہیے کہ وہ عدالت کی ترجیحات اور قواعد و ضوابط کا احترام کریں۔

یہ کیس بنیادی طور پر ایک پراپرٹی تنازعہ سے متعلق تھا جس میں فریقین کے درمیان زمین اور ملکیت کے حقوق پر اختلافات موجود تھے۔ تاہم سماعت کے دوران اصل توجہ وکیل کی غیر حاضری اور عدالتی طریقہ کار پر عمل نہ کرنے پر مرکوز رہی۔ عدالت نے کہا کہ جب کسی کیس کی سماعت مقرر ہو تو متعلقہ وکیل کی موجودگی نہ صرف ضروری ہوتی ہے بلکہ یہ انصاف کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے بھی اہم ہے۔

عدالت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عدالتی نظام کی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریقین اور وکلاء عدالت کے احکامات کی پابندی کریں۔ جج صاحبان نے واضح کیا کہ اگر وکلاء اپنی ترجیحات کے مطابق عدالتوں کا انتخاب کرنے لگیں گے تو اس سے نظامِ انصاف میں پیچیدگیاں پیدا ہوں گی اور مقدمات کے فیصلے میں تاخیر ہو سکتی ہے۔

سماعت کے دوران جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی آئینی عدالت ایک اہم اور بڑی عدالت ہے اور اس کے وقار کو برقرار رکھنا تمام وکلاء کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مناسب طرزِ عمل نہیں کہ وکیل آئینی عدالت میں مقررہ سماعت کے باوجود کسی دوسری عدالت میں پیش ہوں۔ عدالت نے ہدایت جاری کی کہ آئندہ اس قسم کی صورتحال برداشت نہیں کی جائے گی اور وکلاء کو واضح طور پر ہدایت دی گئی کہ وہ سب سے پہلے آئینی عدالت میں پیش ہوں۔

اس موقع پر عدالت نے خاص طور پر ایڈووکیٹ نور اعوان کی غیر حاضری کا ذکر کیا اور کہا کہ عدالت کے سامنے پیش ہونا ان کی ذمہ داری تھی۔ عدالت نے کہا کہ اگر آئندہ سماعت پر بھی وکیل پیش نہ ہوئے تو مقدمہ خارج کرنے کا اختیار استعمال کیا جا سکتا ہے۔ عدالت کے اس سخت مؤقف کو قانونی حلقوں میں سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے۔

ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ عدالت کے اس ریمارکس کا مقصد نہ صرف موجودہ کیس کو آگے بڑھانا ہے بلکہ پورے عدالتی نظام میں نظم و ضبط کو مضبوط بنانا بھی ہے۔ پاکستان میں مختلف عدالتوں میں ایک ہی وقت میں متعدد مقدمات کی سماعت ہونا عام بات ہے، تاہم وکلاء پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے کیسز کی ترجیح کے مطابق عدالتوں میں پیش ہوں اور عدالت کو بروقت آگاہ کریں۔

اس کیس نے ایک بار پھر اس مسئلے کو اجاگر کیا ہے کہ بعض اوقات وکلاء کی مصروفیات یا ترجیحات کی وجہ سے مقدمات کی سماعت متاثر ہوتی ہے۔ عدالتوں نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ وکلاء کو عدالتی نظام کے ساتھ مکمل تعاون کرنا چاہیے تاکہ انصاف کی فراہمی میں تاخیر نہ ہو۔

قانونی ماہرین کے مطابق پراپرٹی کے مقدمات ویسے ہی پیچیدہ ہوتے ہیں کیونکہ ان میں ملکیت کے دستاویزات، گواہوں کے بیانات اور قانونی نکات کا تفصیلی جائزہ لیا جاتا ہے۔ اگر اس طرح کے مقدمات میں وکلاء کی غیر حاضری یا تاخیر ہو تو اس سے کیس مزید طول پکڑ سکتا ہے اور فریقین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

عدالت کے حالیہ ریمارکس کو عدالتی نظم و ضبط کے حوالے سے ایک اہم پیغام بھی سمجھا جا رہا ہے۔ جج صاحبان نے واضح کیا کہ عدالت کے احکامات کو نظر انداز کرنا کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ عدالت نے یہ بھی کہا کہ آئندہ سماعتوں میں وکلاء کی حاضری کو یقینی بنایا جائے تاکہ کیس کو جلد از جلد نمٹایا جا سکے۔

عدالتی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے سخت ریمارکس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وکلاء اور دیگر قانونی ماہرین عدالت کے وقار اور اس کے طریقہ کار کا احترام کریں۔ پاکستان میں عدالتیں پہلے ہی مقدمات کے بوجھ کا سامنا کر رہی ہیں اور اگر وکلاء بروقت پیش نہ ہوں تو اس سے انصاف کی فراہمی مزید سست ہو سکتی ہے۔

یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ عدالت کا یہ فیصلہ اور ریمارکس آئندہ مقدمات کے لیے ایک مثال بن سکتے ہیں۔ ممکن ہے کہ اس کے بعد وکلاء عدالتوں میں پیش ہونے کے حوالے سے مزید محتاط ہو جائیں اور عدالتوں کے احکامات پر سختی سے عمل کریں۔

اس کیس کی آئندہ سماعت میں عدالت اس بات کا جائزہ لے گی کہ آیا وکیل عدالت میں پیش ہوتے ہیں یا نہیں۔ اگر عدالت کے احکامات پر عمل نہ کیا گیا تو مقدمے کے مستقبل پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ عدالت نے واضح طور پر کہا ہے کہ آئندہ کسی قسم کی لاپرواہی برداشت نہیں کی جائے گی۔

مجموعی طور پر یہ سماعت نہ صرف ایک پراپرٹی کیس کے حوالے سے اہم تھی بلکہ اس نے عدالتی نظم و ضبط، وکلاء کی ذمہ داریوں اور عدالتی احترام کے حوالے سے بھی ایک واضح پیغام دیا ہے۔ عدالت کے ریمارکس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عدلیہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ مقدمات کی سماعت مؤثر اور بروقت طریقے سے ہو اور کسی بھی قسم کی غیر ضروری تاخیر سے بچا جا سکے۔

قانونی حلقوں میں اس پیش رفت کو اہم قرار دیا جا رہا ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ سماعتوں میں اس کیس میں مزید پیش رفت سامنے آئے گی۔ عدالت کے سخت مؤقف نے یہ واضح کر دیا ہے کہ عدالتی عمل میں سنجیدگی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہر وکیل کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس میں کسی قسم کی کوتاہی قابل قبول نہیں ہوگی۔

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]