عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی، ایران امریکا مذاکرات سے قبل بڑا جھٹکا

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

ایران امریکا مذاکرات سے قبل عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی

ایران اور امریکا کے ممکنہ مذاکرات سے قبل عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے، جس نے توانائی کی عالمی مارکیٹ میں بے چینی کی لہر دوڑا دی ہے۔ سرمایہ کاروں نے مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال، ممکنہ سفارتی پیش رفت اور تیل کی رسد میں اضافے کے خدشات کے پیش نظر محتاط رویہ اختیار کیا، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں پر دباؤ بڑھ گیا۔

عالمی مارکیٹ میں برطانوی خام تیل (برینٹ کروڈ) کی قیمت میں 1 اعشاریہ 59 ڈالر فی بیرل کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 67 اعشاریہ 87 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آ گئی۔ اسی طرح امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بھی 1 اعشاریہ 51 ڈالر فی بیرل کم ہو کر 63 اعشاریہ 63 ڈالر فی بیرل پر آ گئی۔ ماہرین کے مطابق یہ کمی صرف اعداد و شمار تک محدود نہیں بلکہ عالمی سرمایہ کاروں کے بدلتے ہوئے اعتماد کی عکاس ہے۔

ٹریڈنگ سیشن کے دوران ایک موقع پر دونوں عالمی بینچ مارکس کی قیمتوں میں 3 فیصد سے زائد کمی بھی ریکارڈ کی گئی، جو حالیہ ہفتوں کی سب سے بڑی گراوٹ تصور کی جا رہی ہے۔ اچانک آنے والی اس کمی نے عالمی اسٹاک مارکیٹس اور توانائی سے وابستہ کمپنیوں کے شیئرز پر بھی اثرات مرتب کیے، جبکہ کئی سرمایہ کاروں نے اپنے منافع کو محفوظ بنانے کے لیے تیل کی مارکیٹ سے عارضی طور پر ہاتھ کھینچ لیا۔

ماہرین توانائی کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی ممکنہ بحالی نے تیل کی منڈی میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے۔ اگر ان مذاکرات کے نتیجے میں ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی آتی ہے تو عالمی منڈی میں ایرانی تیل کی واپسی ممکن ہو سکتی ہے، جس سے تیل کی رسد میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ اسی خدشے کے تحت سرمایہ کار پہلے ہی قیمتوں میں ممکنہ کمی کو مدنظر رکھتے ہوئے محتاط فیصلے کر رہے ہیں۔

عالمی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس تیل کے وسیع ذخائر موجود ہیں اور پابندیاں ہٹنے کی صورت میں وہ مختصر وقت میں عالمی منڈی کو بڑی مقدار میں تیل فراہم کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مذاکرات سے قبل ہی مارکیٹ میں دباؤ بڑھ گیا ہے اور قیمتوں میں کمی کا رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے۔

دوسری جانب اوپیک پلس کی پالیسیوں پر بھی سرمایہ کاروں کی نظریں مرکوز ہیں۔ اگرچہ اوپیک اور اس کے اتحادی ممالک نے تیل کی پیداوار کو متوازن رکھنے کے لیے مختلف اقدامات کر رکھے ہیں، تاہم ایران کی ممکنہ واپسی ان منصوبوں کو متاثر کر سکتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر رسد میں اچانک اضافہ ہوا تو قیمتوں میں مزید کمی کا امکان بھی رد نہیں کیا جا سکتا۔

خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے پیچھے عالمی معاشی عوامل بھی کارفرما ہیں۔ دنیا کے مختلف حصوں میں معاشی سست روی، مہنگائی پر قابو پانے کے لیے شرح سود میں اضافہ اور توانائی کی طلب میں ممکنہ کمی جیسے عوامل نے بھی تیل کی مارکیٹ کو متاثر کیا ہے۔ چین اور یورپ میں صنعتی سرگرمیوں کی رفتار میں کمی کے خدشات نے بھی سرمایہ کاروں کو محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کیا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگرچہ موجودہ کمی وقتی ہو سکتی ہے، تاہم آنے والے دنوں میں ایران امریکا مذاکرات کی نوعیت اور پیش رفت تیل کی قیمتوں کا رخ متعین کرے گی۔ اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہیں، جبکہ ناکامی کی صورت میں قیمتوں میں دوبارہ تیزی دیکھنے میں آ سکتی ہے۔

توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ خام تیل کی قیمتوں میں اس قسم کا اتار چڑھاؤ عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ ترقی پذیر ممالک کے لیے قیمتوں میں کمی وقتی ریلیف ثابت ہو سکتی ہے، جبکہ تیل برآمد کرنے والے ممالک کو آمدن میں کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

مجموعی طور پر ایران امریکا مذاکرات سے قبل خام تیل کی عالمی مارکیٹ ایک نازک مرحلے سے گزر رہی ہے۔ سرمایہ کار محتاط، تاجر بے یقینی کا شکار اور عالمی معیشت ایک بار پھر سفارتی فیصلوں کی محتاج نظر آتی ہے۔ آنے والے دنوں میں ہونے والی پیش رفت نہ صرف خام تیل کی قیمتوں بلکہ عالمی توانائی کی سمت کا بھی تعین کرے گی۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]