بجلی کی ترسیل اور ادارہ جاتی اصلاحات: ایشیائی ترقیاتی بینک اور پاکستان کے درمیان دو بڑے منصوبوں پر دستخط
پاکستان کی معیشت اور توانائی کے شعبے کے لیے ایک خوش آئند خبر سامنے آئی ہے۔ وفاقی حکومت اور ایشیائی ترقیاتی بینک اور پاکستان کے درمیان مجموعی طور پر 730 ملین ڈالر مالیت کے دو انتہائی اہم ترقیاتی منصوبوں پر دستخط کر دیے گئے ہیں۔ ان منصوبوں کا مقصد ملک میں بجلی کی ترسیل کے نظام کو بہتر بنانا اور سرکاری ملکیتی اداروں (SOEs) کی کارکردگی میں انقلابی اصلاحات لانا ہے۔

سیکنڈ پاور ٹرانسمیشن منصوبہ: توانائی کا روشن مستقبل
اقتصادی امور ڈویژن کے ترجمان کے مطابق، ایشیائی ترقیاتی بینک اور پاکستان کے درمیان پہلا معاہدہ 330 ملین ڈالر مالیت کے ‘سیکنڈ پاور ٹرانسمیشن منصوبے’ سے متعلق ہے۔ یہ منصوبہ پاکستان کے انرجی سیکٹر کے لیے ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوگا کیونکہ یہ مستقبل کے پن بجلی منصوبوں سے پیدا ہونے والی 2300 میگاواٹ بجلی کو قومی گرڈ تک محفوظ اور قابل اعتماد طریقے سے پہنچانے میں مدد دے گا۔ اس سے نہ صرف بجلی کے ضیاع میں کمی آئے گی بلکہ صارفین کو بجلی کی بلا تعطل فراہمی بھی ممکن ہو سکے گی۔
سرکاری اداروں کی ٹرانسفارمیشن: 400 ملین ڈالر کا پروگرام
معاہدے کا دوسرا اہم حصہ سرکاری ملکیتی اداروں (SOEs) کی اصلاحات سے متعلق ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک اور پاکستان نے اس پروگرام کے لیے 400 ملین ڈالر مختص کیے ہیں۔ سیکرٹری اقتصادی امور کا کہنا ہے کہ اس پروگرام کے ذریعے ‘ایس او ای ایکٹ’ اور حکومتی پالیسیوں پر مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا، تاکہ سرکاری ادارے خسارے سے نکل کر قومی معیشت میں اپنا مثبت کردار ادا کر سکیں۔
عالمی سطح پر حکومتی کوششوں کی پذیرائی
تقریب کے دوران ایشیائی ترقیاتی بینک اور پاکستان کے تعلقات پر روشنی ڈالتے ہوئے اے ڈی بی کی کنٹری ڈائریکٹر ‘ایما فان’ نے حکومتِ پاکستان کے مضبوط عزم کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اداروں میں اصلاحات کا یہ پروگرام حکومت کی معاشی بہتری کی کوششوں کو مزید تقویت فراہم کرے گا۔ ایما فان نے مزید کہا کہ اے ڈی بی پاکستان کی پائیدار ترقی کے لیے اپنا تعاون جاری رکھے گا۔
معاشی اثرات اور عزمِ نو
ماہرین کا ماننا ہے کہ ایشیائی ترقیاتی بینک اور پاکستان کے مابین یہ تعاون ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے اعتماد کو بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ بجلی کی ترسیل کے نظام میں بہتری سے صنعتی پیداوار بڑھے گی، جبکہ سرکاری اداروں کی ٹرانسفارمیشن سے قومی خزانے پر بوجھ کم ہوگا۔ حکومتِ پاکستان نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ان فنڈز کا شفاف استعمال یقینی بنایا جائے گا تاکہ عام آدمی تک ان ثمرات کو پہنچایا جا سکے۔
ایف بی آر کارپوریٹ ٹیکس آفس لاہور نے ٹیکس نادہندہ سے 2.64 ارب روپے کی تاریخی ریکوری کر لی
One Response