لندن ہائی کورٹ کے حکم پر سوشل میڈیا پر بریگیڈیئر راشد نصیر سے یوٹیوبرعادل راجہ کی باقاعدہ معافی
لندن (رئیس الاخبار) :— یوٹیوبر عادل راجہ نے لندن ہائی کورٹ کے حکم پر بریگیڈیئر راشد نصیر سے متعلق اپنے لگائے گئے بے بنیاد الزامات پر اپنے تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر باقاعدہ معافی شائع کر دی ہے۔ عدالت نے واضح کیا تھا کہ الزامات ثابت نہ ہونے کی صورت میں بریگیڈیئر راشد نصیر سے یوٹیوبرعادل راجہ کی باقاعدہ معافی مانگنا اور فیصلے کی تعمیل کرنا ضروری ہے، بصورت دیگر یہ توہینِ عدالت تصور ہوگا۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق عادل راجہ نے تسلیم کیا ہے کہ اُن کے پاس بریگیڈیئر راشد نصیر کے خلاف اپنے الزامات کے حق میں کوئی ثبوت موجود نہیں تھا اور نہ ہی وہ ان الزامات کا دفاع کرسکے۔ قبل ازیں عدالت نے فیصلے پر عمل نہ کرنے کی صورت میں ان کے اثاثے ضبط کرنے اور سخت کارروائی کا بھی حکم دے رکھا تھا۔
ہائی کورٹ کے ڈپٹی جج رچرڈ اسپئیرمین کے تحریری حکم کے مطابق بریگیڈیئر راشد نصیر سے یوٹیوبرعادل راجہ کی باقاعدہ معافی شائع کی بلکہ اپنے خلاف 9 اکتوبر 2025 کو سنائے گئے فیصلے کا خلاصہ بھی تمام پلیٹ فارمز پر پوسٹ کیا ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ عدالت نے انہیں بریگیڈیئر راشد نصیر کو 50 ہزار پاؤنڈ ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق 14 اور 29 جون 2022 کے درمیان عادل راجہ نے بریگیڈیئر نصیر کے خلاف بدعنوانی، انتخابی دھاندلی اور بلیک میلنگ جیسے متعدد سنگین الزامات لگائے تھے۔ عدالت نے قرار دیا کہ الزامات جھوٹے، بے بنیاد اور ہتک آمیز تھے، جن کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔
جج کے حکم نامے میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ عادل راجہ آئندہ براہِ راست یا بالواسطہ طور پر بریگیڈیئر نصیر یا ان کے ملازمین، ایجنٹس یا کسی بھی ذاتی شناخت سے متعلق کوئی بیان یا الزام شائع نہیں کریں گے۔
عدالت نے معافی کے علاوہ 50 ہزار پاؤنڈ ہرجانے کی ادائیگی کے لیے 22 دسمبر کی ڈیڈ لائن مقرر کی ہے، جبکہ ابتدائی عدالتی اخراجات کی مد میں 2 لاکھ 60 ہزار پاؤنڈ ادا کرنا بھی ضروری قرار دیا ہے۔ عدالتی حکم کے مطابق بریگیڈیئر راشد نصیر سے یوٹیوبرعادل راجہ کی باقاعدہ معافی کا بیان 28 دن تک ایکس (ٹویٹر)، فیس بک، یوٹیوب اور دیگر ویب پلیٹ فارمز پر نمایاں طور پر موجود رہے گا۔
بریگیڈیئر راشد نصیر سے یوٹیوبرعادل راجہ کی باقاعدہ معافی کا فیصلہ ہتک عزت کے ان مقدمات میں سے ایک ہے جن میں سوشل میڈیا پر جھوٹے الزامات کے خلاف برطانیہ کی عدالتوں نے حالیہ برسوں میں سخت مؤقف اپنایا ہے۔
By a judgment dated 9th October 2025 I was ordered by the High Court in London to pay Mr Rashid Naseer £50,000 in damages for libel, in addition to
his legal costs, on the grounds that between 14 and 29 June 2022 I made a number of defamatory allegations about him and I had no…
— Adil Raja (@soldierspeaks) December 11, 2025