افغانستان میں غذائی بحران طالبان دور میں 1 کروڑ 70 لاکھ افراد شدید بھوک کا شکار

افغانستان میں غذائی بحران کی تصویر
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

افغانستان میں غذائی بحران شدت اختیار کر گیا لاکھوں جانیں خطرے میں، عالمی اداروں کی تشویشناک رپورٹ

افغانستان اس وقت اپنی تاریخ کے بدترین انسانی المیے سے گزر رہا ہے۔ افغان جریدے ‘ہشت صبح’ کی تازہ ترین رپورٹ نے دنیا کو ایک ہولناک صورتحال سے آگاہ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، طالبان حکومت کے آنے کے بعد سے افغانستان میں غذائی بحران بے قابو ہو چکا ہے اور لاکھوں خاندانوں کے پاس کھانے کے لیے کچھ نہیں بچا۔

ورلڈ فوڈ پروگرام کی تشویشناک رپورٹ

بین الاقوامی ادارے ورلڈ فوڈ پروگرام کے تخمینوں کے مطابق، اس وقت افغانستان میں غذائی بحران کی وجہ سے تقریباً ایک کروڑ 70 لاکھ افراد شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ملک کی نصف سے زیادہ آبادی کو یہ معلوم ہی نہیں کہ ان کے اگلے وقت کا کھانا کہاں سے آئے گا۔ معاشی پابندیوں نے اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

بچوں کی اموات اور جان لیوا مشکلات

اس بحران کا سب سے دردناک پہلو بچوں کی حالتِ زار ہے۔ رپورٹ کے مطابق، گزشتہ سال افغانستان میں غذائی بحران ریکارڈ سطح پر رہا اور رواں سال مزید 20 لاکھ بچوں کو شدید غذائی قلت کا سامنا کرنے کا خدشہ ہے۔ اسپتالوں میں غذائی قلت کے شکار بچوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اور ادویات کی کمی نے اس مشکل کو جان لیوا بنا دیا ہے۔

مہاجرین کی واپسی اور بڑھتی ہوئی غربت

مختلف ممالک سے بے دخل کیے گئے افغان مہاجرین کی وطن واپسی نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ ان لاکھوں افراد کی واپسی سے افغانستان میں غذائی بحران میں مزید شدت آ گئی ہے کیونکہ حکومت کے پاس ان کی بحالی کے لیے وسائل موجود نہیں ہیں۔ یہ مہاجرین کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جہاں بھوک ان کا مقدر بن چکی ہے۔

طالبان انتظامیہ اور عالمی امداد میں رکاوٹیں

طالبان دورِ حکومت میں عالمی امداد کی فراہمی میں قانونی اور سیاسی رکاوٹیں حائل رہی ہیں۔ اگرچہ کچھ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد پہنچ رہی ہے، لیکن افغانستان میں غذائی بحران کا حجم اتنا بڑا ہے کہ یہ امداد اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہے۔ بینکنگ چینلز کی بندش نے مقامی تاجروں کے لیے بھی خوراک کی درآمد مشکل بنا دی ہے۔

بے روزگاری اور قوتِ خرید کا خاتمہ

عام افغان شہری کی قوتِ خرید ختم ہو کر رہ گئی ہے۔ بیروزگاری کی شرح آسمان کو چھو رہی ہے، جس کی وجہ سے افغانستان میں غذائی بحران گھر گھر تک پہنچ چکا ہے۔ لوگ اپنا گھر بار اور اثاثے بیچ کر صرف آٹا اور دال خریدنے پر مجبور ہیں، لیکن قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں۔

زرعی شعبے کی تباہی اور قحط سالی

افغانستان کی زراعت، جو معیشت کی ریڑھ کی ہڈی تھی، اب خشک سالی کی زد میں ہے۔ پانی کی کمی اور جدید سہولیات کے فقدان نے افغانستان میں غذائی بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ کسانوں کے پاس بیج اور کھاد خریدنے کے پیسے نہیں ہیں، جس سے مستقبل میں بھی خوراک کی کمی کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔

انسانی حقوق اور عالمی برادری کی خاموشی

عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو چاہیے کہ وہ سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر اس معاملے پر توجہ دیں۔ افغانستان میں غذائی بحران محض ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک عالمی ضمیر کا امتحان ہے۔ اگر فوری طور پر خوراک کے ٹرک افغانستان نہ پہنچائے گئے تو اموات کا سلسلہ بے قابو ہو سکتا ہے۔

ہشت صبح جریدے کے انکشافات

افغان جریدے کے مطابق، کابل سمیت دیگر بڑے شہروں میں بھیک مانگنے والوں کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ جریدے نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں غذائی بحران کی موجودہ لہر اگر برقرار رہی تو ملک میں خانہ جنگی جیسی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے کیونکہ بھوک انسان کو بغاوت پر مجبور کر دیتی ہے۔

ترکیے سے افغان شہریوں کی ملک بدری میں تیزی 18 مزید باشندے ڈی پورٹ، 42 ہزار گرفتاریاں

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک مربوط عالمی حکمت عملی کے ذریعے افغانستان میں غذائی بحران کا تدارک کیا جائے۔ خوراک کی فراہمی، زراعت کی بحالی اور روزگار کے مواقع پیدا کیے بغیر اس گرداب سے نکلنا ممکن نہیں ہے۔ افغانستان کے عوام ایک بہتر زندگی اور دو وقت کی روٹی کے حقدار ہیں۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]