طالبان کی سخت پالیسیوں کے تحت افغانستان میں موسیقی پر پابندی اور ثقافتی سرگرمیوں کا خاتمہ
افغانستان میں طالبان کے دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد ملک میں ثقافتی اور سماجی سرگرمیوں، خصوصاً موسیقی، پر سخت پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ حال ہی میں ایک ایسے ہی اقدام کی خبر سامنے آئی ہے جہاں طالبان نے موسیقی کے درجنوں آلات ضبط کیے اور انہیں نذرِ آتش کر دیا۔ یہ اقدام ملک بھر میں افغانستان میں موسیقی پر پابندی کی پالیسی کو مزید تقویت دیتا ہے۔
میدان وردک میں بڑا آپریشن
طالبان کے محکمہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ افغان صوبے میدان وردک میں حالیہ ہفتوں کے دوران مقامی بازاروں اور دیگر مقامات سے ضبط کیے گئے درجنوں موسیقی کے آلات اور دیگر اشیا کو جلا دیا گیا۔ یہ آپریشن ان کی پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت وہ شرعی احکامات پر سختی سے عمل درآمد کر رہے ہیں۔
منگل کو جاری کیے گئے ایک بیان میں بتایا گیا کہ مجموعی طور پر 160 اشیا جن میں موسیقی کے مختلف آلات شامل تھے، کو نذر آتش کیا گیا۔ ضبط کیے گئے آلات میں شامل تھے:
- ڈھولک (Drums)
- طبلے (Tabla)
- رُباب (Rubab – افغانستان کا ایک روایتی آلہ)
- ایک پیانو (Piano)
- ایم پی تھری پلیئرز
- ٹیپ ریکارڈرز
- 15 حقے (Hukkas)
حکام کا کہنا تھا کہ ان تمام اشیاء کو شرعی احکامات کے مطابق نذر آتش کر دیا گیا کیونکہ یہ موسیقی اور غیراسلامی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے استعمال ہو رہی تھیں۔
موسیقی کی ممانعت: طالبان کا مذہبی نقطہ نظر
طالبان کی حکومت کا یہ موقف ہے کہ موسیقی اور بعض دیگر تفریحی سرگرمیاں اسلامی تعلیمات کے منافی ہیں۔ لہٰذا، افغانستان میں موسیقی پر پابندی ان کی حکومت کی بنیاد اور پالیسی کا اہم حصہ ہے۔
- ثقافتی سرگرمیوں پر سخت پابندیاں: اگست 2021 میں کابل پر قبضے کے بعد سے، طالبان نے آہستہ آہستہ شہریوں کی ثقافتی اور سماجی سرگرمیوں پر سخت پابندیاں لگائی ہیں۔ اس میں عوامی مقامات پر موسیقی، ڈرامہ، اور فنونِ لطیفہ کی دیگر اقسام شامل ہیں۔
- عوامی مقامات سے خاتمہ: طالبان کے افغانستان میں دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد، موسیقی کو عوامی مقامات سے تقریباً ختم کر دیا گیا ہے۔ شادی بیاہ کی تقریبات اور دیگر نجی محفلوں میں بھی موسیقی پر سخت پابندی ہے۔
- فنکاروں کی صورتحال: افغانستان میں موسیقی پر پابندی کے اس ماحول کے پیش نظر، ہزاروں فنکار اور موسیقار ملک چھوڑ کر دوسرے ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے ہیں۔ جو لوگ ملک میں رہ گئے ہیں، وہ اپنے فن کو خفیہ طور پر جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ثقافتی ورثے اور معیشت پر اثرات
موسیقی، خاص طور پر رباب اور افغانی کلاسیکی موسیقی، افغانستان کے ثقافتی ورثے کا ایک اہم حصہ رہی ہے۔ افغانستان میں موسیقی پر پابندی لگانے اور آلات کو جلانے سے نہ صرف فنکاروں کی روزی روٹی متاثر ہو رہی ہے بلکہ ملک کا صدیوں پرانا ثقافتی ورثہ بھی خطرے میں ہے۔
- ثقافتی نقصان: رباب جیسے روایتی آلات کی تباہی، افغانستان کی تاریخ اور ثقافت کے ایک قیمتی حصے کا نقصان ہے۔ فنکاروں اور کاریگروں کی نسلیں ان آلات کو بنانے اور بجانے میں مہارت رکھتی تھیں۔
- بازاروں پر اثر: بازاروں سے آلات کی ضبطی سے ان تاجروں کی معیشت متاثر ہو رہی ہے جو قانونی طور پر ان اشیاء کی خرید و فروخت کرتے تھے۔
طالبان حکام یہ واضح کر چکے ہیں کہ موسیقی کی ضبطی اور نذر آتش کرنا ان کی پالیسی کا حصہ ہے، جسے وہ ملک میں شریعت نافذ کرنے کے لیے ضروری سمجھتے ہیں۔ یہ عمل عالمی سطح پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور ثقافتی اداروں کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بن رہا ہے۔ عالمی برادری کا مطالبہ ہے کہ افغان شہریوں کو اپنے ثقافتی حقوق اور آزادیوں سے محروم نہ کیا جائے۔ تاہم، طالبان حکام اپنے موقف پر قائم ہیں۔ افغانستان میں موسیقی پر پابندی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ طالبان اپنے نظریاتی اصولوں پر سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ یہ پابندی ملک کی سماجی ساخت پر گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کا افغانستان اور بھارت کو دوٹوک پیغام، طالبان حکومت فتنۃ الخوارج یا پاکستان میں سے ایک کا انتخاب کرے
افغانستان میں موسیقی پر پابندی صرف ایک معمولی حکومتی حکم نہیں ہے، بلکہ یہ ایک وسیع تر پالیسی کا حصہ ہے جس کا مقصد معاشرے کی مکمل تنظیمِ نو اور سخت مذہبی قوانین کا نفاذ ہے۔ اس کی وجہ سے عام شہریوں، خاص طور پر فنکاروں اور ثقافتی کارکنوں کی زندگیوں میں بڑی رکاوٹیں پیدا ہوئی ہیں۔ یہ اقدامات افغان معاشرے میں خوف اور غیر یقینی کی فضا کو مزید بڑھا رہے ہیں۔ افغانستان میں موسیقی پر پابندی کے بارے میں عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔