علیمہ خان عمران خان بیان، مذاکرات کی بات کرنے والا پارٹی کا حصہ نہیں

علیمہ خان عمران خان بیان میڈیا سے گفتگو
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

بانی پی ٹی آئی کا اسٹریٹ موومنٹ کا پیغام، مذاکرات کرنے والا پارٹی کا حصہ نہیں: علیمہ خان


بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے پارٹی کے اندر مذاکرات کے حوالے سے جاری بحث پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کا جو بھی رہنما مذاکرات کی بات کرتا ہے، وہ نہ تو بانی پی ٹی آئی کے ساتھ ہے اور نہ ہی عمران خان کا ساتھی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کا مؤقف بالکل واضح اور دوٹوک ہے اور اس میں کسی قسم کی ابہام کی کوئی گنجائش نہیں۔

انسدادِ دہشت گردی عدالت راولپنڈی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ عمران خان نے اسٹریٹ موومنٹ کا پیغام خیبرپختونخوا کی قیادت کو دے دیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پارٹی آئندہ کی حکمت عملی کے حوالے سے واضح سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔ ان کے مطابق عمران خان کسی خفیہ یا پس پردہ مذاکرات کے قائل نہیں اور وہ عوامی طاقت پر یقین رکھتے ہیں۔

علیمہ خان نے کہا کہ عمران خان پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ جب تک بنیادی اصولوں پر بات نہیں ہوگی، کسی بھی قسم کے مذاکرات کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے اندر اگر کوئی فرد یا گروہ مذاکرات کی بات کرتا ہے تو یہ اس کی ذاتی رائے ہو سکتی ہے، مگر اس کا بانی پی ٹی آئی کے مؤقف سے کوئی تعلق نہیں۔

تحریک تحفظ آئین پاکستان کے حالیہ دو روزہ کانفرنس کے اعلامیے سے متعلق سوال پر علیمہ خان نے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس اعلامیے کے مندرجات کا علم نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کا مؤقف ہمیشہ براہ راست اور واضح ہوتا ہے اور وہ کسی مبہم یا دوہرے بیانیے پر یقین نہیں رکھتے۔

علیمہ خان نے مزید بتایا کہ بانی پی ٹی آئی نے گزشتہ سال 22 نومبر کو پرامن احتجاج کی کال دی تھی۔ ان کے مطابق ان پر یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے عمران خان کا پیغام عوام تک پہنچایا، حالانکہ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک سیاسی جماعت کا جمہوری حق ہے کہ وہ اپنے قائد کا پیغام کارکنوں اور عوام تک پہنچائے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان نے ہمیشہ پرامن جدوجہد کی بات کی ہے اور اس پر ثابت قدم رہے ہیں۔ علیمہ خان کے مطابق عمران خان نے اس بات پر زور دیا ہے کہ پارٹی کارکن کسی بھی قسم کے تشدد سے گریز کریں اور آئینی و قانونی دائرے میں رہتے ہوئے جدوجہد جاری رکھیں۔

علیمہ خان نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ کیس کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ایک بوگس اور من گھڑت مقدمہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کیس سیاسی بنیادوں پر بنایا گیا ہے اور اس کا مقصد عمران خان کو سیاسی طور پر کمزور کرنا ہے۔ ان کے مطابق عمران خان نے عدالتوں اور قانون کا ہمیشہ احترام کیا ہے، مگر ان کے خلاف مقدمات میں انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیے جا رہے۔

انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ عمران خان نے پرسوں بھی ایک پیغام بھیجا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ قوم کے لیے شہادت قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔ علیمہ خان کے مطابق یہ بیان عمران خان کے عزم اور نظریاتی وابستگی کو ظاہر کرتا ہے، اور وہ کسی بھی دباؤ یا مشکل سے پیچھے ہٹنے والے نہیں۔

علیمہ خان نے کہا کہ عمران خان خود کو ذاتی مفادات سے بالاتر سمجھتے ہیں اور ان کی سیاست کا محور ہمیشہ ملک اور قوم کی بہتری رہا ہے۔ ان کے مطابق عمران خان کا پیغام واضح ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی ذاتی ڈیل یا رعایت کے لیے تیار نہیں، چاہے اس کے لیے انہیں مزید مشکلات ہی کیوں نہ برداشت کرنی پڑیں۔

میڈیا سے گفتگو کے دوران علیمہ خان نے عمران خان کی جیل میں موجودگی اور سہولیات سے متعلق بھی بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ عمران خان کے لیے 11 کتابیں بھجوائی گئی تھیں، جن میں سے جج صاحب کے مطابق 9 کتابیں عمران خان کو مل چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان مطالعے کے شوقین ہیں اور جیل میں بھی وقت کو مثبت انداز میں گزارنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

علیمہ خان کے مطابق عمران خان کا حوصلہ بلند ہے اور وہ موجودہ حالات کے باوجود پُرامید ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کو یقین ہے کہ سچ اور آئین کی بالادستی بالآخر غالب آئے گی اور عوام ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق علیمہ خان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان تحریک انصاف کے اندر اور باہر مذاکرات کے حوالے سے مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔ بعض حلقے مفاہمت کی بات کر رہے ہیں جبکہ عمران خان اور ان کے قریبی ساتھیوں کا مؤقف سخت اور غیر لچکدار دکھائی دیتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ علیمہ خان کے بیانات دراصل بانی پی ٹی آئی کے مؤقف کی ترجمانی کرتے ہیں اور پارٹی قیادت و کارکنوں کے لیے ایک واضح پیغام ہیں کہ آئندہ سیاسی جدوجہد کس سمت میں جائے گی۔ اس بیان سے یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ پارٹی کے اندر کسی بھی قسم کے اختلافی بیانیے کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

مجموعی طور پر علیمہ خان کی گفتگو نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی موجودہ قیادت مذاکرات کے بجائے عوامی تحریک اور اسٹریٹ موومنٹ پر انحصار کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جبکہ عمران خان اپنے مؤقف پر قائم رہتے ہوئے کسی بھی قسم کے دباؤ کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]