علیمہ خان وارنٹ گرفتاری: عدالت کا کل گرفتار کر کے پیش کرنے کا حکم

علیمہ خان وارنٹ گرفتاری
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

26 نومبر احتجاج کیس: علیمہ خان وارنٹ گرفتاری 15ویں مرتبہ جاری، عدالت سخت برہم

پاکستان کی سیاسی لہروں میں ایک بار پھر ہلچل مچ گئی ہے کیونکہ انسداد دہشت گردی عدالت نے علیمہ خان وارنٹ گرفتاری 15ویں مرتبہ جاری کر دیے ہیں۔ یہ کارروائی 26 نومبر کے احتجاج سے متعلق درج مقدمے میں عمل میں لائی گئی ہے۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ بار بار کی عدم حاضری قانون کے مذاق اڑانے کے مترادف ہے، اسی لیے اب سخت ایکشن ناگزیر ہو چکا ہے۔

عدالتی برہمی اور حاضری معافی کی مسترد درخواست

کیس کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے کی۔ سماعت کے دوران علیمہ خان کے وکلاء کی جانب سے ایک روزہ حاضری معافی کی درخواست دائر کی گئی، جسے عدالت نے یکسر مسترد کر دیا۔ جج صاحب نے علیمہ خان وارنٹ گرفتاری پر عمل درآمد نہ ہونے اور مسلسل غیر حاضری پر شدید ناراضی کا اظہار کیا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ ملزمہ کو بارہا موقع دیا گیا لیکن انہوں نے عدالتی احکامات کو اہمیت نہیں دی۔

گرفتار کر کے پیش کرنے کی ڈیڈ لائن

عدالت نے پولیس کو سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ علیمہ خان وارنٹ گرفتاری کی تعمیل ہر صورت یقینی بنائی جائے۔ عدالت نے حکم دیا کہ علیمہ خان کو کل بدھ 25 فروری تک گرفتار کر کے عدالت کے روبرو پیش کیا جائے۔ اس حکم کے بعد پولیس کی خصوصی ٹیمیں متحرک ہو گئی ہیں تاکہ عدالتی حکم کی تعمیل کی جا سکے۔ علیمہ خان وارنٹ گرفتاری کا تسلسل کے ساتھ جاری ہونا قانونی حلقوں میں بھی زیر بحث ہے۔

گارنٹرز کے خلاف بھی سخت ایکشن

صرف علیمہ خان ہی نہیں، بلکہ ان کی ضمانت دینے والے افراد (گارنٹرز) بھی عدالت کے نشانے پر آ گئے ہیں۔ عدالت نے عدم حاضری پر علیمہ خان کے دونوں گارنٹرز کے بھی 5 ویں بار ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کر دیے ہیں۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عدالت اب اس معاملے میں کسی قسم کی نرمی برتنے کے موڈ میں نہیں ہے۔ علیمہ خان وارنٹ گرفتاری کے ساتھ ساتھ ضامنوں کی گرفتاری کے احکامات نے حکومت اور انتظامیہ پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔

26 نومبر احتجاج کیس کا پس منظر

یاد رہے کہ یہ مقدمہ گزشتہ سال 26 نومبر کو ہونے والے پرتشدد احتجاج کے تناظر میں درج کیا گیا تھا۔ اس کیس میں کئی سیاسی شخصیات نامزد ہیں، تاہم علیمہ خان وارنٹ گرفتاری کا معاملہ اپنی نوعیت کا منفرد ترین بن گیا ہے کیونکہ یہ 15ویں مرتبہ جاری ہوئے ہیں۔ ماہرینِ قانون کے مطابق اگر ملزمہ کل پیش نہیں ہوتیں تو ان کے خلاف اشتہاری قرار دیے جانے کی کارروائی بھی شروع کی جا سکتی ہے۔

کیس کی آئندہ سماعت اور قانونی مضمرات

عدالت نے مقدمے کی مزید سماعت کل بدھ 25 فروری تک ملتوی کر دی ہے۔ اب تمام نظریں کل کی سماعت پر لگی ہیں کہ کیا پولیس علیمہ خان وارنٹ گرفتاری پر عمل کرتے ہوئے انہیں عدالت میں پیش کرنے میں کامیاب ہوتی ہے یا نہیں۔ اگر وہ گرفتار نہیں ہوتیں تو عدالتی برہمی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے جو کہ ملزمہ کے لیے مستقبل میں قانونی پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔

علیمہ خان کے بیٹے شاہ ریز جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیے گئے – عدالت کا بڑا فیصلہ

آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ علیمہ خان وارنٹ گرفتاری کا جاری ہونا اور عدالت کی جانب سے سخت ریمارکس اس بات کا ثبوت ہیں کہ قانون سب کے لیے برابر ہے۔ 15ویں مرتبہ وارنٹ جاری ہونا ایک ریکارڈ ہے جس نے عدالتی کارروائی کی حساسیت کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کل عدالت میں کیا پیش رفت ہوتی ہے اور کیا علیمہ خان وارنٹ گرفتاری کا یہ باب کسی منطقی انجام تک پہنچتا ہے یا نہیں۔

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]