ایران کا علی لاریجانی کی شہادت کا بدلہ لینے کا اعلان، اسرائیل میں خطرے کے سائرن

علی لاریجانی کی شہادت کے بعد ایران کا سخت ردعمل
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

ایران کا علی لاریجانی کی شہادت کا بدلہ لینے کا اعلان، اسرائیل میں خطرے کے سائرن، ایرانی فوج کے کمانڈر انچیف امیر حاتمی نے بھی علی لاریجانی کی شہادت پر سخت ردعمل

تہران: پاسداران انقلاب اسلامی نے ایران کے سینئر رہنما علی لاریجانی سمیت دیگر شہدا کے خون کا بدلہ لینے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ شہدا کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور دشمن کو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کی اعلیٰ قیادت نے واضح کیا ہے کہ علی لاریجانی کی شہادت قومی عزت اور بیداری کی علامت بن گئی ہے۔ پاسداران انقلاب کے بیان میں کہا گیا ہے کہ شہید لاریجانی اور دیگر شہدا کا خون صہیونی قوتوں کے مقابلے میں ایرانی قوم کے حوصلے کو مزید مضبوط کرے گا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران اپنے شہدا کا بدلہ لینے کو کبھی فراموش نہیں کرے گا اور دشمن کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔

ادھر ایرانی فوج کے کمانڈر انچیف امیر حاتمی نے بھی علی لاریجانی کی شہادت پر سخت ردعمل کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کا جواب فیصلہ کن ہوگا اور دشمن کو اس کے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ شہید علی لاریجانی کی انقلابی قیادت نے ایرانی قوم کے لیے ایک لازوال میراث چھوڑی ہے۔ دشمن کے مجرمانہ اقدامات ایران کی خودمختاری اور دفاعی صلاحیت کو کمزور نہیں کر سکتے۔

ان بیانات کے بعد ایران نے اسرائیل کے خلاف ایک اور حملہ کیا جس کے نتیجے میں تل ابیب اور یروشلم سمیت کئی علاقوں میں خطرے کے سائرن بج اٹھے۔ اسرائیلی شہریوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر جانے کی ہدایات جاری کی گئیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکی اور اسرائیلی مشترکہ حملے میں علی لاریجانی اپنے بیٹے سمیت شہید ہو گئے تھے، جس کی ایرانی حکام نے سرکاری سطح پر تصدیق کی ہے۔ اس واقعے کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے اور ایران کی جانب سے سخت ردعمل کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق 28 فروری سے جاری ایران اسرائیل کشیدگی کے دوران ایران کی جانب سے امریکی تنصیبات پر اب تک 292 حملے کیے جا چکے ہیں۔ ان حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں سیکیورٹی صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یہ تنازع پورے خطے کے امن کے لیے بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔

 

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]