سوشل میڈیا پر ایمبولینس میں حقہ ویڈیو نے ہلچل مچا دی

ایمبولینس میں حقہ ویڈیو وائرل ہونے پر شہری ناراض
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

ایمبولینس میں حقہ ویڈیو وائرل، دمشق میں عوامی ردعمل شدید

شام کے دارالحکومت دمشق میں ایک ہسپتال کے باہر کھڑی ایمبولینس کے اندر حقہ پینے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی، جس کے بعد عوامی حلقوں میں شدید غم و غصہ دیکھنے میں آیا۔ ایمبولینس میں حقہ ویڈیو نے طبی عملے کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

ویڈیو میں کیا دیکھا گیا؟

اتوار کے روز وائرل ہونے والی ایمبولینس میں حقہ ویڈیو میں ایک شخص کو ایمبولینس کے اندر بیٹھ کر حقہ پیتے دیکھا جا سکتا ہے۔ بعض سوشل میڈیا صارفین نے دعویٰ کیا کہ یہ ایمبولینس دمشق کے المواساۃ یونیورسٹی ہسپتال سے منسلک ہے۔

شہریوں کا شدید ردعمل

ویڈیو وائرل ہوتے ہی شامی شہریوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ عوامی حلقوں کا کہنا تھا کہ ایمبولینس جیسے حساس ادارے میں اس قسم کا غیر ذمہ دارانہ رویہ ناقابلِ قبول ہے۔ کئی صارفین نے مطالبہ کیا کہ ایمبولینس میں حقہ ویڈیو میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

ہسپتال کی وضاحت

المواساۃ یونیورسٹی ہسپتال نے فوری طور پر وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے ایمبولینس میں حقہ ویڈیو سے کسی بھی قسم کے تعلق کی تردید کی۔ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق یہ ایک پرانی ویڈیو ہے اور کسی نجی فریق کی جانب سے ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

وزارتِ صحت کی مداخلت

شامی وزارتِ صحت نے بھی اس معاملے پر وضاحت جاری کی۔ وزارت کے مطابق ایمبولینس میں حقہ ویڈیو میں نظر آنے والی گاڑی نجی ایمبولینس تھی، جس کا وزارتِ صحت یا کسی سرکاری ادارے سے کوئی تعلق نہیں۔ وزارت نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ صحت کے شعبے میں کسی بھی خلاف ورزی کی فوری اطلاع دیں۔

ماریا کورینا ماچادو ایک سال بعد دوبارہ منظر عام پر

وزارت صحت کے مطابق ایمبولینس کے شعبے میں کام کرنے والے تمام فریقوں کے لیے معیار اور ضوابط کی سختی سے پابندی یقینی بنانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایمبولینس میں حقہ ویڈیو جیسے واقعات مستقبل میں برداشت نہیں کیے جائیں گے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]