امریکا ایران مذاکرات عمان میں شروع، عباس عراقچی کا امن منصوبہ امریکا کو پیش

امریکا ایران مذاکرات عمان مسقط
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

مسقط میں سفارتی سرگرمیاں تیز، امریکا ایران مذاکرات کا پہلا دور مکمل

عمان کی دارالحکومت مسقط میں ایران اور امریکا کے درمیان طویل انتظار کے بعد بالواسطہ مذاکرات کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، جس میں ایران کی قیادت وزیر خارجہ عباس عراقچی کر رہے ہیں جبکہ امریکا کی قیادت صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے ہاتھ میں ہے۔ مذاکرات کی میزبانی سلطنت عمان کر رہی ہے، جو اپنی غیر جانبدارانہ سفارت کاری اور خفیہ چینلز کی بنیاد پر ماضی میں بھی ایران اور امریکا کے درمیان رابطوں میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہے۔

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے عمان میں اپنے ہم منصب سے ملاقات میں امریکا کے ساتھ جاری تعطل کو سنبھالنے اور بات چیت کو آگے بڑھانے کے لیے ابتدائی منصوبہ پیش کیا۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق جمعہ کو ایران کے مقامی وقت کے مطابق صبح 11 بجے مذاکرات کا پہلا دور شروع ہوا، جس میں ایرانی وزیر خارجہ نے اپنا ابتدائی منصوبہ عمانی وزیر خارجہ بدر البوسعیدی کو پیش کیا۔

اس منصوبے کو بعد ازاں امریکی مشرقِ وسطیٰ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف تک پہنچایا گیا، جسے امریکی وفد نے غور سے دیکھا اور اس کا مکمل جائزہ لیا۔ ابتدائی ملاقات کے دوران ایرانی اور امریکی وفد نے عمانی وزیر خارجہ کے ساتھ الگ الگ ملاقاتیں کیں، اور اپنے اپنے موقف، تحفظات اور تجویز کردہ اقدامات سامنے رکھے۔ ملاقات کا مقصد سفارتی اور تکنیکی سطح پر ایک سازگار ماحول پیدا کرنا تھا تاکہ بات چیت کے عمل کو آگے بڑھایا جا سکے۔

ایرانی وفد کی قیادت عباس عراقچی کر رہے تھے، جو عمانی وزیر خارجہ کے ساتھ مشاورت کے دوسرے دور میں بھی شریک رہے۔ یہ مشاورت ابتدائی ملاقات کے بعد منعقد ہوئی تاکہ دونوں فریقین کے تحفظات کو مزید تفصیل سے زیر بحث لایا جا سکے اور مذاکرات کے اگلے مراحل کے لیے راہ ہموار کی جا سکے۔ اس کے علاوہ عمانی وزارت خارجہ کے بیان میں بتایا گیا کہ وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے دونوں فریقین سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں، تاکہ ایک غیر جانبدارانہ، شفاف اور مثبت فضا قائم کی جا سکے۔

سوشل میڈیا پر عمانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا کہ ان ملاقاتوں کا مقصد ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی اور تکنیکی مذاکرات کی بحالی کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا تھا۔ بیان میں زور دیا گیا کہ سلطنت عمان ہر ممکن کوشش کرے گی کہ مذاکرات میں پیش رفت ہو، اور فریقین کو قریب لانے کے لیے مختلف شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایک اتفاقِ رائے پر مبنی سیاسی حل تلاش کیا جائے۔

ماہرین کے مطابق عمان میں ہونے والے یہ مذاکرات ماضی میں قائم غیر رسمی رابطوں کا تسلسل ہیں، جن میں عمان کی خفیہ سفارت کاری نے اہم کردار ادا کیا۔ ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات میں برسوں کا تعطل اور متعدد عالمی مسائل کی حساسیت کی وجہ سے کسی غیر جانبدار اور قابل اعتماد ثالث کا کردار بے حد اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ عمان نے ماضی میں بھی ایران اور امریکا کے درمیان رابطوں میں اپنی غیر جانبدارانہ پوزیشن کی بنیاد پر اعتماد قائم کیا، جس کی وجہ سے موجودہ مذاکرات میں بھی عمان کی حیثیت ایک محفوظ اور قابل اعتماد میزبان کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔

یہ مذاکرات ابتدائی طور پر ترکی کی پیشکش پر استنبول میں ہونے والے تھے، لیکن ایران کی خواہش کے مطابق انہیں عمان منتقل کیا گیا۔ ترکی سمیت دیگر علاقائی ممالک نے بھی ثالثی کی پیشکش کی، تاہم عمان کی غیر جانبداری اور گزشتہ تجربات نے اسے موجودہ مذاکرات کے لیے سب سے موزوں مقام بنایا۔

مذاکرات کے پہلے دور میں ایرانی اور امریکی وفود نے عمانی وزیر خارجہ کے ساتھ اپنے اپنے موقف کی وضاحت کی۔ ایرانی وفد نے اس موقع پر امریکا کے ساتھ تعطل کو ختم کرنے اور بات چیت آگے بڑھانے کے لیے ابتدائی منصوبہ پیش کیا، جبکہ امریکی وفد نے اس منصوبے کا مکمل جائزہ لیا اور عمانی وزیر خارجہ کے ذریعے اپنی رائے اور تحفظات بھی پیش کیں۔ یہ اجلاس فریقین کے درمیان اعتماد کی بحالی اور مذاکراتی عمل کو موثر بنانے کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق مذاکرات کے دوران عباس عراقچی نے عمانی وزیر خارجہ کے ساتھ مشاورت کے دوسرے دور میں حصہ لیا۔ یہ دور ابتدائی ملاقات کی کامیابی اور پیش رفت کے بعد منعقد ہوا تاکہ ایرانی اور امریکی وفود کے تحفظات کو مزید تفصیل سے زیر بحث لایا جا سکے اور ممکنہ شراکت داری کے راستے تلاش کیے جا سکیں۔

سفارتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمان کی غیر جانبداری، مسقط میں موجود خفیہ چینلز اور ماضی کے تجربات موجودہ مذاکرات میں اعتماد کی فضا قائم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ عمان کی کوشش ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کسی بھی قسم کے اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ایک مثبت اور عملی لائحہ عمل مرتب کیا جائے۔

عالمی ذرائع کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان یہ مذاکرات ایک حساس مرحلہ ہیں، جس میں اہم مسائل جیسے نیوکلئیر پروگرام، اقتصادی پابندیاں، خطے میں عسکری موجودگی اور علاقائی سلامتی کے معاملات زیر بحث آئیں گے۔ ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات میں موجود دیرینہ کشیدگی اور عالمی سیاسی دباؤ کے پیش نظر عمانی ثالثی کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق موجودہ مذاکرات اگر کامیاب ہو گئے تو یہ نہ صرف ایران اور امریکا کے تعلقات میں نیا موڑ ثابت ہوں گے بلکہ مشرق وسطیٰ میں سیاسی اور اقتصادی توازن پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ عمان کی کوشش ہے کہ فریقین کو اعتماد میں لاتے ہوئے، شفاف اور مؤثر مذاکرات کے ذریعے ایک طویل المدتی حل کی بنیاد رکھی جائے۔

یاد رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات میں متعدد علاقائی اور عالمی طاقتوں نے ثالثی کی پیشکش کی ہے، لیکن عمان کی غیر جانبدارانہ پوزیشن، تاریخی تجربات اور سفارتی روابط نے اسے موجودہ مذاکرات کے لیے موزوں مقام بنایا۔ ایران اور امریکا کے درمیان اس اہم قدم کی دنیا بھر میں سنجیدہ نگاہوں سے نگرانی کی جا رہی ہے، کیونکہ اس سے خطے میں کشیدگی کو کم کرنے اور عالمی سیاسی و اقتصادی استحکام کے لیے اہم پیش رفت ہو سکتی ہے۔

مجموعی طور پر عمان میں ہونے والے یہ مذاکرات نہ صرف ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات کی بحالی کا موقع ہیں بلکہ اس سے خطے میں استحکام، اعتماد سازی اور سیاسی حل تلاش کرنے کی راہیں بھی ہموار ہو سکتی ہیں۔ عمانی وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے واضح کیا ہے کہ سلطنت عمان ہر ممکن کوشش کرے گی کہ مذاکرات مثبت انداز میں آگے بڑھیں اور فریقین کو ایک سیاسی حل کے قریب لانے میں مدد ملے

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]