این ڈی ایم اے کی بارشوں کی پیشگوئی آئندہ مون سون میں 22 سے 26 فیصد زائد بارشیں متوقع

این ڈی ایم اے کی بارشوں کی پیشگوئی کے مطابق 2026 میں زائد بارشوں کا امکان
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

این ڈی ایم اے کی بارشوں کی پیشگوئی 2026 مون سون میں 26 فیصد زائد بارشیں متوقع

پاکستان میں بدلتے ہوئے موسمی حالات اور ماحولیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خدشات کے پیشِ نظر این ڈی ایم اے کی بارشوں کی پیشگوئی ملک کے لیے ایک اہم اور فوری توجہ طلب اشارہ ہے۔ ادارے نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ 2026 کا مون سون معمول سے 22 سے 26 فیصد زیادہ شدید ہوسکتا ہے۔ یہ پیشگوئی نہ صرف موسم کی شدت میں اضافے کی طرف اشارہ کرتی ہے بلکہ ملک بھر میں انتظامی تیاریوں کی ضرورت کو بھی دوگنا کر دیتی ہے۔

موسمیاتی تبدیلی اور این ڈی ایم اے کی رپورٹ

این ڈی ایم اے کے مطابق پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں موسمیاتی تبدیلی سب سے تیزی سے اپنا اثر دکھا رہی ہے۔ ہر گزرتے سال درجہ حرارت اور بارشوں کے پیٹرن تبدیل ہو رہے ہیں۔
اسی وجہ سے این ڈی ایم اے کی بارشوں کی پیشگوئی اس بار خاص طور پر تفصیلی، جامع اور بھرپور تحقیق پر مبنی ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ:

ملکی درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے

مون سون کے سسٹمز زیادہ طاقتور بنتے جا رہے ہیں

گلیشیئر پگھلنے کی رفتار بڑھ رہی ہے

ندی نالوں میں اچانک طغیانی کے خدشات بڑھ رہے ہیں

این ڈی ایم اے نے واضح کیا ہے کہ اگر مناسب اقدامات نہ کیے گئے تو آئندہ مون سون میں نقصانات 2022 کی طرز سے بھی بڑھ سکتے ہیں۔

2026 کے مون سون کا ممکنہ منظرنامہ

این ڈی ایم اے کی بارشوں کی پیشگوئی کے مطابق 2026 کے موسمِ برسات میں:

معمول سے 26 فیصد زائد بارشیں ہوسکتی ہیں

سندھ، پنجاب اور کے پی کے میدانی علاقوں میں سیلاب کے خطرات بڑھ سکتے ہیں

شمالی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے امکانات زیادہ ہوں گے

دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں غیر معمولی اضافہ ہوسکتا ہے

ادارے نے مزید بتایا کہ رواں سال تقریباً 31 لاکھ افراد کو مختلف موسمی واقعات کے باعث محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ آنے والے موسمی حالات کس قدر چیلنجنگ ہوسکتے ہیں۔

صوبوں کے لیے قبل از وقت وارننگ

این ڈی ایم اے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ وہ صوبوں کو 6 سے 8 ماہ قبل وارننگ دے دیتے ہیں تاکہ وہ موسم کی شدت کو مدِنظر رکھتے ہوئے منصوبہ بندی کرسکیں۔ اسی تناظر میں این ڈی ایم اے کی بارشوں کی پیشگوئی پر عمل کرتے ہوئے مختلف صوبوں نے اپنی ہنگامی منصوبہ بندی کا دوبارہ جائزہ شروع کر دیا ہے۔

پانی کی نکاسی کے نظام کی بہتری

ڈیموں کے پانی کے اخراج کا نیا پلان

نشیبی علاقوں کی نشاندہی

فلڈ پروٹیکشن وال کی مضبوطی

یہ تمام اقدامات آئندہ مون سون کے لیے انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔

وزیراعظم کی ہدایات

این ڈی ایم اے کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد وزیراعظم نے ہنگامی اجلاس طلب کرتے ہوئے قلیل المدتی اور طویل المدتی منصوبہ بندی کی فوری منظوری دے دی ہے۔ وزیراعظم نے کہا ہے کہ:

آئندہ مون سون کے نقصانات سے بچنے کے لیے آج سے ہی تیاری شروع کی جائے

وفاق اور صوبائی حکومتیں ایک مشترکہ موسمیاتی پلان بنائیں

سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے لیے خصوصی فنڈز مختص کیے جائیں

وزیراعظم کی ان ہدایات کے بعد واضح ہے کہ حکومت این ڈی ایم اے کی بارشوں کی پیشگوئی کو نہایت سنجیدگی سے لے رہی ہے۔

عوام کے لیے اہم احتیاطی ہدایات

این ڈی ایم اے نے عام شہریوں کو بھی وقت سے پہلے احتیاط برتنے کا مشورہ دیا ہے۔ ادارے کے مطابق آئندہ مون سون میں:

نشیبی علاقوں میں رہنے والے افراد پہلے سے متبادل مقام کا تعین کرلیں

گھروں کی چھتوں اور دیواروں کی مضبوطی کا جائزہ لیں

ایمرجنسی نمبر محفوظ رکھیں

گھر میں ٹارچ، پانی، دوائیں اور ضروری سامان جمع رکھیں

مستقبل کے چیلنجز

پاکستان کے لیے موسمیاتی تبدیلی صرف ایک قدرتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک مستقل معاشی، معاشرتی اور انتظامی چیلنج بن چکی ہے۔

این ڈی ایم اے کی بارشوں کی پیشگوئی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ آنے والے برسوں میں موسمیاتی نظام مزید غیر متوازن ہوسکتا ہے، لہٰذا ملک کو جدید ترین ٹیکنالوجی، مضبوط معاشی پلاننگ اور مؤثر حکومتی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔

سردی بڑھنے لگی محکمہ موسمیات کی سرد و خشک موسم کی اہم رپورٹ

نتیجہ

پورے ملک کے لیے یہ پیشگوئی نہایت اہم ہے۔
این ڈی ایم اے کی بارشوں کی پیشگوئی ہمیں پہلے سے خبردار کر رہی ہے کہ اگر ہم نے بروقت اقدامات نہ کیے تو جانی و مالی نقصان بڑھ سکتا ہے۔
لیکن مناسب انتظامی اقدامات، حکومتی منصوبہ بندی اور عوامی تعاون کے ذریعے پاکستان آنے والے مون سون کا بہتر مقابلہ کرسکتا ہے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]