بلوچستان بارش اور سیلاب تباہی، مختلف اضلاع میں قیمتی جانوں کا ضیاع اور بڑے پیمانے پر نقصان
کوئٹہ: صوبہ Balochistan کے مختلف اضلاع میں حالیہ بارشوں اور سیلابی صورتحال نے تباہی مچا دی ہے، جس کے نتیجے میں کم از کم 7 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ نقصانات کی تفصیلات Provincial Disaster Management Authority (پی ڈی ایم اے) کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں سامنے آئی ہیں، جس میں انسانی جانوں کے ضیاع کے ساتھ بڑے پیمانے پر مالی اور زرعی نقصان کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق متاثرہ اضلاع میں Harnai، Kohlu، Turbat، Jaffarabad، Loralai اور Kacchi شامل ہیں، جہاں مختلف حادثات میں ہلاکتیں اور زخمی ہونے کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ شدید بارشوں کے باعث ندی نالوں میں طغیانی آئی، جس نے نشیبی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
رپورٹ کے مطابق بالا ناڑی کے علاقے میں حفاظتی پشتے کے ٹوٹنے سے صورتحال مزید سنگین ہو گئی، جہاں تقریباً 100 مکانات مکمل طور پر تباہ ہو گئے جبکہ 50 مویشی ہلاک ہو گئے۔ اس کے علاوہ 400 ایکڑ پر مشتمل زرعی زمین بھی زیرِ آب آ گئی، جس سے مقامی کسانوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے اور خوراک کی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق Harnai اور Qila Abdullah میں تقریباً 100 مکانات کو جزوی یا مکمل نقصان پہنچا ہے، جبکہ Jhal Magsi میں سیلابی ریلے کے باعث گنداواہ-نوتال روڈ بند ہو گئی ہے، جس سے آمد و رفت شدید متاثر ہوئی ہے اور امدادی سرگرمیوں میں بھی مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
حکام کے مطابق ریسکیو اور امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں پہنچ چکی ہیں اور زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ بے گھر ہونے والے افراد کے لیے عارضی پناہ گاہیں قائم کی جا رہی ہیں۔ پی ڈی ایم اے نے مزید بارشوں کے امکان کے پیش نظر متعلقہ اضلاع کی انتظامیہ کو الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کی ہے۔
ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث بلوچستان جیسے حساس علاقوں میں شدید بارشوں اور سیلاب کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے پیش نظر مؤثر منصوبہ بندی اور انفراسٹرکچر کی بہتری ناگزیر ہو چکی ہے۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں ایسے نقصانات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر سیلابی علاقوں کا رخ نہ کریں، ندی نالوں سے دور رہیں اور مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر متعلقہ اداروں سے رابطہ کرنے کی تاکید کی گئی ہے تاکہ جانی و مالی نقصان کو کم سے کم کیا جا سکے۔


One Response