بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف بڑا آپریشن، 197 دہشت گرد ہلاک، 22 بہادر جوان شہید
بلوچستان میں گزشتہ تین دنوں سے جاری دہشت گردی کے خلاف سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھرپور کارروائیاں فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ان کامیاب آپریشنز کے دوران فتنۂ ہندوستان سے تعلق رکھنے والے 197 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے، جو پاکستان کی خودمختاری، امن اور عوامی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بنے ہوئے تھے۔ یہ آپریشنز ریاستِ پاکستان کے اس غیر متزلزل عزم کا مظہر ہیں کہ دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے گا اور کسی بھی دشمن قوت کو ملک کے امن سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ کارروائیاں بلوچستان کے مختلف حساس علاقوں میں کی گئیں، جہاں دہشت گردوں نے معصوم شہریوں، سیکیورٹی اہلکاروں اور ریاستی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی مذموم کوششیں کیں۔ تاہم سیکیورٹی فورسز کی بروقت حکمتِ عملی، مستعدی اور پیشہ ورانہ مہارت کے باعث دشمن کے عزائم کو ناکام بنا دیا گیا۔ گزشتہ تین دنوں کے دوران کیے گئے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے نتیجے میں دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کیے گئے، اسلحہ کے ذخائر برآمد ہوئے اور ان کے نیٹ ورکس کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔
ان کارروائیوں کے دوران مادرِ وطن اور معصوم شہریوں کے تحفظ کے لیے پاکستان کے 22 بہادر جوانوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔ یہ عظیم قربانیاں قوم کے لیے باعثِ فخر ہیں اور اس بات کی دلیل ہیں کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز ہر قیمت پر اپنے عوام کی حفاظت کے لیے تیار ہیں۔ شہید ہونے والے جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کی بنیاد رکھی۔ قوم ان شہداء کو سلام پیش کرتی ہے اور ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گردی کی ان بزدلانہ کارروائیوں میں 36 معصوم شہری بھی شہید ہوئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ معصوم جانوں کا یہ ضیاع اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب، کوئی اخلاق اور کوئی انسانی قدر نہیں۔ شہری آبادی کو نشانہ بنانا ان کی سفاکیت اور بزدلی کی بدترین مثال ہے۔ ریاستی اداروں نے واضح کیا ہے کہ ان معصوم شہریوں کے خون کا حساب لیا جائے گا اور دہشت گردوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بلوچستان کے 12 مختلف مقامات پر فتنۂ ہندوستان سے وابستہ دہشت گردوں کے بزدلانہ حملوں کو بروقت ناکام بنایا۔ ان حملوں کا مقصد صوبے میں خوف و ہراس پھیلانا، ترقیاتی عمل کو سبوتاژ کرنا اور قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانا تھا۔ تاہم فورسز نے نہ صرف ان حملوں کو ناکام بنایا بلکہ فوری طور پر سینیٹائزیشن اور تعاقبی آپریشنز کا آغاز بھی کیا، تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جا سکے۔
سینیٹائزیشن آپریشنز کے دوران متاثرہ علاقوں میں گھر گھر تلاشی، مشتبہ عناصر کی گرفتاری اور اسلحے کی برآمدگی عمل میں لائی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ تعاقبی کارروائیوں میں دہشت گردوں کے فرار کے تمام راستوں کو بند کیا گیا، جس کے نتیجے میں مزید دہشت گرد ہلاک ہوئے اور کئی زخمی حالت میں پکڑے گئے۔ ان کارروائیوں نے دہشت گرد نیٹ ورک کو شدید دھچکا پہنچایا اور ان کی تنظیمی صلاحیت کو مفلوج کر دیا۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق یہ دہشت گرد عناصر بیرونی سرپرستی میں پاکستان میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کر رہے تھے۔ فتنۂ ہندوستان کی جانب سے بلوچستان میں دہشت گردی کے ذریعے عدم استحکام پیدا کرنے کی سازشیں نئی نہیں، تاہم ریاستِ پاکستان نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ وہ دشمن کی ہر سازش کو ناکام بنانے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے باہمی ہم آہنگی کے ساتھ ملک کے چپے چپے کا دفاع کر رہے ہیں۔
ان آپریشنز کے دوران مقامی آبادی نے بھی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ بھرپور تعاون کیا، جسے حکام نے سراہا ہے۔ عوام اور فورسز کے درمیان یہ اعتماد اور تعاون دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک مضبوط ہتھیار ثابت ہو رہا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں امن و امان کی بحالی کے لیے آپریشنز اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک آخری دہشت گرد کا مکمل صفایا نہیں ہو جاتا۔
قومی سطح پر ان کارروائیوں کو سراہا جا رہا ہے، جبکہ سیاسی و سماجی حلقوں نے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف سیکیورٹی فورسز کے عزم کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ان کامیاب آپریشنز سے نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے ملک میں امن و استحکام کے قیام میں مدد ملے گی اور دشمن عناصر کو واضح پیغام جائے گا کہ پاکستان کے خلاف کسی بھی سازش کا انجام ناکامی اور ذلت کے سوا کچھ نہیں۔
آخر میں، بلوچستان میں جاری یہ دہشت گردی مخالف آپریشنز ریاستِ پاکستان کے اس پختہ عزم کا ثبوت ہیں کہ ملک کے امن، خودمختاری اور عوام کی جان و مال کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، معصوم شہریوں کے خون کا حساب لیا جائے گا، اور دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے ختم کر کے ہی دم لیا جائے گا۔ پوری قوم اپنی سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور اس جنگ میں مکمل اتحاد اور یکجہتی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔


2 Responses