کیا کیلوں کا ملک شیک صحت کے لیے نقصان دہ ہے؟ نئی تحقیق کا انکشاف

کیلوں کا ملک شیک کے فوائد پر نئی تحقیق کے نتائج
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

تحقیق میں انکشاف: کیلوں کا ملک شیک کے فوائد پر اثر صحت مند مشروب یا نقصان دہ امتزاج؟

پھلوں کا ملک شیک دنیا بھر میں نہ صرف پسندیدہ مشروب سمجھا جاتا ہے بلکہ اسے صحت کے لیے بھی مفید تصور کیا جاتا ہے۔ تاہم، ایک نئی سائنسی تحقیق نے حیران کن انکشاف کیا ہے کہ کیلوں کا ملک شیک کے فوائد پر اثر منفی انداز میں پڑ سکتا ہے۔

امریکا کی کیلیفورنیا یونیورسٹی کی جانب سے کی جانے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ مختلف پھلوں کے ساتھ دودھ کا امتزاج جسم میں موجود غذائی اجزا کے جذب ہونے کے عمل پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔

تحقیق کا پس منظر

اس تحقیق میں ماہرین نے جانچنے کی کوشش کی کہ دودھ میں شامل مختلف پھل جسم میں فلیونولز (Flavanols) کے جذب ہونے پر کس طرح اثر انداز ہوتے ہیں۔
فلیونولز ایسے قدرتی مرکبات ہیں جو دل اور دماغی صحت کو بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں۔ یہ سیب، بلیو بیری، انگور، ناشپاتی اور بلیک بیریز جیسے پھلوں میں بڑی مقدار میں پائے جاتے ہیں۔

مگر حیران کن طور پر تحقیق سے معلوم ہوا کہ کیلوں کا ملک شیک کے فوائد پر اثر منفی ہوتا ہے، کیونکہ کیلا دودھ کے ساتھ مل کر جسم میں فلیونولز کے جذب ہونے کو نمایاں حد تک کم کر دیتا ہے۔

کیلوں کا ملک شیک کے فوائد پر اثر — سائنسی وضاحت

تحقیق میں بتایا گیا کہ دودھ میں موجود انزائم پولی فینول آکسیڈیز (Polyphenol Oxidase) جب کیلے کے انزائمز کے ساتھ تعامل کرتا ہے، تو یہ فلیونولز کو غیر فعال بنا دیتا ہے۔
اس کے نتیجے میں دل، دماغ اور میٹابولزم پر ان غذائی اجزا کے مثبت اثرات کم ہو جاتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق، جن افراد نے بیریز یا سیب کے بجائے کیلوں کا ملک شیک پیا، ان کے جسم میں فلیونولز کی سطح 84 فیصد کم پائی گئی۔
یہ واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ کیلوں کا ملک شیک کے فوائد پر اثر اتنا نمایاں ہے کہ ایک کیلا بھی مشروب کی غذائی قدر کو گھٹا سکتا ہے۔

فلیونولز کیا ہیں اور کیوں اہم ہیں؟

فلیونولز ایسے قدرتی مرکبات ہیں جو جسم میں اینٹی آکسیڈنٹ کے طور پر کام کرتے ہیں۔
یہ دل کے دورے، فالج، ذیابیطس اور جگر کی بیماریوں سے بچاؤ میں مدد دیتے ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق، ایک بالغ فرد کو روزانہ 400 سے 600 ملی گرام فلیونولز کی مقدار حاصل کرنی چاہیے تاکہ دل اور دماغ کی صحت بہتر رہے۔

تاہم، جب کوئی شخص دودھ کے ساتھ کیلے ملا کر ملک شیک بناتا ہے تو کیلوں کا ملک شیک کے فوائد پر اثر اتنا شدید ہوتا ہے کہ جسم کو ان قیمتی مرکبات سے بھرپور فائدہ نہیں مل پاتا۔

ماہرین کی رائے: کیلے کھانے کا صحیح طریقہ

تحقیق کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ کیلا بذاتِ خود ایک صحت مند پھل ہے، جس میں پوٹاشیم، فائبر اور وٹامنز کی وافر مقدار پائی جاتی ہے۔
تاہم، انہیں دودھ میں شامل کر کے دیگر فلیونولز سے بھرپور پھلوں جیسے بیریز یا انگور کے ساتھ ملانا مناسب نہیں۔

ان کے مطابق، اگر آپ کیلے کھانا چاہتے ہیں تو انہیں علیحدہ طور پر یا ہلکی غذا کے ساتھ کھائیں، کیونکہ کیلوں کا ملک شیک کے فوائد پر اثر دل اور دماغ کی صحت پر منفی اثرات ڈال سکتا ہے۔

غذاؤں کے امتزاج کا نیا تصور

تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ غذاؤں کا امتزاج یا Food Combination جسم میں غذائی اجزا کے جذب ہونے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
یعنی اگر آپ غلط امتزاج بناتے ہیں تو فائدے کے بجائے نقصان ہو سکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ کیلوں کا ملک شیک کے فوائد پر اثر ایک مثال کے طور پر سامنے آیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قدرتی غذائیں بھی اگر غلط طریقے سے استعمال ہوں تو فائدہ کم ہو جاتا ہے۔

دیگر غذاؤں پر ممکنہ تحقیق

ماہرین کے مطابق اب اس بات پر بھی تحقیق کی جا رہی ہے کہ چائے، کافی یا دیگر مشروبات میں موجود فلیونولز کس طرح جسم میں زیادہ بہتر جذب ہو سکتے ہیں۔
مثلاً، چائے کو کس درجہ حرارت پر تیار کیا جائے تاکہ فلیونولز ضائع نہ ہوں۔
اسی طرح یہ تحقیق آئندہ غذائی سائنس کے لیے نئی راہیں کھول سکتی ہے تاکہ ہم جان سکیں کہ کیلوں کا ملک شیک کے فوائد پر اثر جیسے مظاہر دیگر غذاؤں میں بھی موجود ہیں یا نہیں۔

ماہرین کا مشورہ

اگر آپ ملک شیک پینا چاہتے ہیں تو بیریز، سیب یا انگور جیسے پھل استعمال کریں۔

کیلوں کا ملک شیک کے فوائد پر اثر کو مدنظر رکھتے ہوئے دودھ اور کیلے کو الگ الگ کھانے کی عادت اپنائیں۔

دن میں ایک کیلا کھانا صحت کے لیے بہترین ہے، مگر اسے دودھ میں ملا کر پینے سے احتیاط کریں۔

دل کی صحت کے لیے چہل قدمی ماہرین کی نئی تحقیق

تحقیق کے مطابق، اگرچہ کیلے ایک مکمل غذائیت رکھنے والے پھل ہیں، مگر جب انہیں دودھ اور دیگر پھلوں کے ساتھ ملایا جاتا ہے تو کیلوں کا ملک شیک کے فوائد پر اثر نمایاں حد تک منفی ہو جاتا ہے۔
یہ دریافت ظاہر کرتی ہے کہ صحت مند غذاؤں کا درست امتزاج ہی اصل فائدہ دیتا ہے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]