بنگلادیش انتخابات: ووٹوں کی گنتی جاری، بی این پی اور جماعتِ اسلامی اتحاد میں سخت مقابلہ
ڈھاکا: بنگلادیش کے 13ویں پارلیمانی انتخابات کے لیے پولنگ کے اختتام کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے، جبکہ زیادہ سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے کے لیے بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) اور بنگلادیش جماعتِ اسلامی کی قیادت میں قائم اتحادوں کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

بی این پی کے چیئرمین طارق رحمان نے کہا ہے کہ ملک کے مختلف علاقوں میں اب بھی غیر متوقع واقعات پیش آ رہے ہیں۔ ڈھاکا میں پارٹی دفتر کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جتنا زیادہ ووٹر ٹرن آؤٹ ہوگا، اتنا ہی آسان ہوگا کہ کسی بھی قسم کی سازشوں کو ناکام بنایا جا سکے۔
طارق رحمان نے کہا کہ ان کی جماعت ان تمام سیاسی قوتوں کے ساتھ مل کر ملک چلانا چاہتی ہے جنہوں نے تحریک میں بی این پی کا ساتھ دیا۔ انہوں نے انتخابی کامیابی کے حوالے سے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بی این پی کو واضح کامیابی حاصل ہوگی۔
بنگلادیش انتخابات میں نشستوں کی ممکنہ تعداد سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا،
"ہم پُرامید ہیں کہ ہم اتنی نشستیں جیت لیں گے کہ ملک کو بہتر طریقے سے چلا سکیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ اگر بنگلادیش انتخابات منصفانہ اور شفاف انداز میں مکمل ہوئے اور کسی تنازع کے بغیر نتائج سامنے آئے تو بی این پی ان نتائج کو قبول کرے گی۔
ادھر انتخابی حکام کے مطابق ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے اور غیر حتمی نتائج جلد سامنے آنے کی توقع ہے۔
BNP Chairman Tarique Rahman cast his vote today at Gulshan Model High School & College, expressing full confidence in victory after years of waiting for this democratic moment. He called for peaceful participation, unity against conspiracies, and pledged law & order reforms and… pic.twitter.com/VxlhMJTeC2
— BNP Media Cell (@BNPBdMediaCell) February 12, 2026