بنگلہ دیش وزیراعظم حلف برداری 17 فروری کو، وزیراعظم شہباز شریف کی جگہ احسن اقبال شرکت کریں گے
بنگلہ دیش کے نومنتخب وزیراعظم کی تقریبِ حلف برداری 17 فروری کو منعقد ہوگی، جس کے لیے تیاریاں حتمی مراحل میں داخل ہو چکی ہیں۔ اس اہم سرکاری تقریب میں مختلف ممالک کی شخصیات اور نمائندگان کو مدعو کیا گیا ہے تاکہ نئی حکومت کے قیام کے موقع پر سفارتی روابط کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کو بھی بنگلہ دیشی قیادت کی جانب سے تقریبِ حلف برداری میں شرکت کی باقاعدہ دعوت دی گئی تھی۔ یہ دعوت دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے، جو خطے میں باہمی تعاون اور شراکت داری کو فروغ دینے کے لیے نہایت اہم سمجھے جاتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اس وقت سرکاری دورے پر آسٹریا میں موجود ہیں، جس کے باعث وہ تقریب میں ذاتی طور پر شرکت نہیں کر سکیں گے۔ ان کا یہ دورہ دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون اور دیگر اہم امور کے حوالے سے پہلے سے طے شدہ تھا، اسی لیے حلف برداری کی تقریب میں شرکت ممکن نہ ہو سکی۔
وزیراعظم کی عدم موجودگی کے پیش نظر پاکستان کی نمائندگی کے لیے وفاقی وزیر احسن اقبال کو نامزد کیا گیا ہے۔ احسن اقبال بنگلہ دیش جائیں گے اور تقریبِ حلف برداری میں پاکستان کی جانب سے شرکت کریں گے۔ وہ نہ صرف اس اہم موقع پر پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے بلکہ بنگلہ دیشی قیادت اور دیگر عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔
سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس سطح کی نمائندگی دونوں ممالک کے درمیان جاری تعلقات کے تسلسل کی علامت ہے۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات تاریخی، ثقافتی اور اقتصادی پہلوؤں پر مشتمل ہیں، اور حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے نئے امکانات پر بھی بات چیت جاری رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس تقریب میں شرکت پاکستان کے لیے ایک اہم سفارتی موقع ثابت ہو سکتی ہے، جہاں دوطرفہ تعلقات کے فروغ، تجارتی روابط میں اضافے اور علاقائی تعاون کے موضوعات پر غیر رسمی گفتگو کا امکان موجود ہے۔ احسن اقبال کی موجودگی اس بات کی عکاسی کرے گی کہ پاکستان اس موقع کو سنجیدگی سے لے رہا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان مثبت اور تعمیری تعلقات کے فروغ کا خواہاں ہے۔
17 فروری کو ہونے والی اس تقریبِ حلف برداری کو جنوبی ایشیا کی سیاسی سرگرمیوں میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ عالمی اور علاقائی سطح پر اس تقریب پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے، کیونکہ نئی حکومت کی پالیسی ترجیحات اور سفارتی حکمت عملی خطے کی مجموعی صورتحال پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔
یوں وزیراعظم شہباز شریف کی مصروفیات کے باوجود پاکستان کی جانب سے اعلیٰ سطحی نمائندگی یقینی بنائی گئی ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان سفارتی آداب اور باہمی احترام کی عکاس ہے۔


One Response