بانی پی ٹی آئی ہسپتال منتقلی درخواست واپس، سپریم کورٹ کے اعتراضات

بانی پی ٹی آئی ہسپتال منتقلی درخواست
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

بانی پی ٹی آئی ہسپتال منتقلی درخواست پر سپریم کورٹ کے اعتراضات، درخواست واپس

پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ میں ایک اہم پیش رفت کے دوران سپریم کورٹ آف پاکستان نے بانی پاکستان تحریک انصاف کو ہسپتال منتقل کرنے سے متعلق دائر درخواست پر اعتراضات عائد کرتے ہوئے اسے واپس کر دیا ہے۔ اس معاملے پر عدالت میں وکلاء اور ججز کے درمیان دلچسپ مکالمہ بھی ہوا جس نے قانونی حلقوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔

سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی کے وکیل سردار لطیف کھوسہ اور نعیم پنجوتھہ چیف جسٹس کی عدالت میں پیش ہوئے۔ وکیل نے عدالت سے درخواست کی کہ ان کی درخواست کو سماعت کے لیے مقرر کیا جائے تاکہ بانی پی ٹی آئی کو علاج کی غرض سے ہسپتال منتقل کرنے کے معاملے پر فوری فیصلہ ہو سکے۔

اس موقع پر چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے وکیل کو آگاہ کیا کہ ان کی درخواست اعتراضات کے ساتھ گزشتہ روز ہی واپس کر دی گئی ہے۔ چیف جسٹس نے واضح کیا کہ درخواست میں بعض قانونی اعتراضات موجود تھے، اس لیے رجسٹرار آفس نے اسے واپس کیا ہے اور اس مرحلے پر عدالت کے سامنے ایسی کوئی درخواست زیر التواء نہیں جس پر کارروائی کی جا سکے۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی دیگر درخواستیں بدستور تاحکم ثانی زیر التواء رہیں گی، تاہم ہسپتال منتقلی سے متعلق جو نئی درخواست دائر کی گئی تھی وہ قابل سماعت نہیں سمجھی گئی کیونکہ اس میں قانونی تقاضے مکمل نہیں کیے گئے تھے۔

سماعت کے دوران سردار لطیف کھوسہ نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے گزشتہ روز جلد سماعت کی درخواست بھی دائر کی تھی اور عدالت نے بانی پی ٹی آئی کے علاج کے حوالے سے حکم دیا تھا۔ اس پر چیف جسٹس نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے اس حوالے سے کوئی باقاعدہ حکم جاری نہیں کیا تھا بلکہ حکومت کی جانب سے عدالت کو یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ بانی پی ٹی آئی کے علاج اور طبی معائنے کا مناسب انتظام کیا جائے گا۔

چیف جسٹس نے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ عدالت کا فیصلہ دوبارہ پڑھیں کیونکہ صحت سے متعلق معاملہ عدالت میں زیر التواء نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت اس معاملے پر پہلے ہی واضح مؤقف دے چکی ہے اور اس وقت اس حوالے سے کوئی نئی کارروائی زیر غور نہیں۔

اس دوران سردار لطیف کھوسہ نے عدالت کو بتایا کہ ان کی درخواست سیاسی یا قانونی بنیادوں پر نہیں بلکہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت کے پیش نظر انہیں ہسپتال منتقل کرنا ضروری ہے تاکہ بہتر علاج ممکن ہو سکے۔

چیف جسٹس نے اس پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ انسانی بنیادوں پر ہی بانی پی ٹی آئی کا میڈیکل چیک اپ کرایا گیا تھا اور اس حوالے سے حکام نے عدالت کو یقین دہانی بھی کرائی تھی۔ انہوں نے کہا کہ عدالت اس معاملے کو پہلے ہی دیکھ چکی ہے اور اس کے مطابق اقدامات کیے جا چکے ہیں۔

سماعت کے دوران جسٹس شاہد بلال حسن نے بھی ریمارکس دیے اور سردار لطیف کھوسہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ انہیں 1992 سے جانتے ہیں اور ان کی گفتگو اور انداز سے بخوبی واقف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں معلوم ہے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں اور کس انداز میں اپنی بات پیش کر رہے ہیں۔

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے مزید کہا کہ کھوسہ صاحب ایک سینئر وکیل ہیں اور سپریم کورٹ کے طریقہ کار سے بخوبی آگاہ ہیں۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ وہ رجسٹرار آفس سے رابطہ کریں اور اعتراضات کی تفصیلات حاصل کریں۔ اگر رجسٹرار آفس اعتراضات کی کاپی فراہم نہ کرے تو وہ دوبارہ عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں۔

اس موقع پر سردار لطیف کھوسہ نے عدالت سے سوال کیا کہ اگر کل اس حوالے سے کوئی آرڈر جاری ہوا تھا تو انہیں اب تک اس بارے میں آگاہ کیوں نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء کو بروقت معلومات فراہم کی جانی چاہئیں تاکہ قانونی کارروائی مناسب طریقے سے آگے بڑھائی جا سکے۔

قانونی ماہرین کے مطابق اس کیس کی کارروائی نہ صرف عدالتی بلکہ سیاسی اعتبار سے بھی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ بانی پی ٹی آئی سے متعلق مقدمات اس وقت ملک کی سیاست میں نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ عدالت میں ہونے والی ہر پیش رفت کو سیاسی جماعتیں اور عوام بڑی توجہ سے دیکھ رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر درخواست میں لگائے گئے اعتراضات دور کر دیے جائیں تو ممکن ہے کہ یہ معاملہ دوبارہ عدالت میں زیر سماعت آ جائے۔ اس صورت میں عدالت بانی پی ٹی آئی کی صحت اور علاج کے حوالے سے مزید ہدایات بھی جاری کر سکتی ہے۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو سپریم کورٹ میں ہونے والی اس سماعت نے ایک بار پھر بانی پی ٹی آئی سے متعلق قانونی معاملات کو نمایاں کر دیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ درخواست کے قانونی تقاضے پورے کیے بغیر اس پر کارروائی ممکن نہیں، جبکہ وکلاء کو رجسٹرار آفس سے اعتراضات کی تفصیلات حاصل کر کے دوبارہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ معاملہ دوبارہ عدالت میں زیر بحث آنے کا امکان موجود ہے، جس پر قانونی اور سیاسی حلقوں کی گہری نظر ہے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]