بانی پی ٹی آئی علاج اڈیالہ جیل — عمران خان کے طبی معائنے کا مکمل ریکارڈ حکومت پنجاب کو بھجوا دیا گیا
اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے علاج اور طبی معائنے سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق جیل انتظامیہ نے بانی پی ٹی آئی کے مکمل طبی ریکارڈ کو باقاعدہ طور پر ہوم ڈیپارٹمنٹ پنجاب کو ارسال کر دیا ہے، جس میں ان کی صحت سے متعلق تمام تازہ ترین تفصیلات شامل ہیں۔ اس اقدام کو موجودہ صورتحال میں نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس کا مقصد شفافیت کو یقینی بنانا اور طبی نگرانی کے عمل کو باقاعدہ سرکاری ریکارڈ کا حصہ بنانا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ارسال کیے گئے ریکارڈ میں بانی پی ٹی آئی کے وائٹل سائنز کا مکمل اور تفصیلی چارٹ شامل ہے۔ اس چارٹ میں بلڈ پریشر، نبض کی رفتار، جسمانی درجہ حرارت اور بلڈ شوگر لیول کی روزانہ کی بنیاد پر مانیٹرنگ کی تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق کسی بھی مریض کی عمومی صحت کا اندازہ لگانے کے لیے یہ بنیادی اشاریے نہایت اہم ہوتے ہیں، اور ان کا تسلسل کے ساتھ ریکارڈ رکھنا علاج کے معیار کو برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی آنکھوں سے متعلق طبی صورتحال کی علیحدہ رپورٹ بھی ہوم ڈیپارٹمنٹ کو بھجوائی گئی ہے۔ اس رپورٹ میں آنکھوں کے معائنے کے نتائج، ابتدائی تشخیص، اور ماہر ڈاکٹروں کی سفارشات شامل ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ کنسلٹنٹس کی رپورٹس بھی ارسال کی گئی ہیں تاکہ اعلیٰ حکام کو مکمل آگاہی حاصل ہو سکے اور ضرورت پڑنے پر مزید طبی سہولیات کی فراہمی کا فیصلہ بروقت کیا جا سکے۔
اس کے علاوہ جیل میں تعینات میڈیکل اسٹاف کی تفصیلات بھی ہوم ڈیپارٹمنٹ کو فراہم کی گئی ہیں۔ ان تفصیلات میں ڈاکٹروں، نرسوں اور معاون عملے کے نام، ان کی ڈیوٹی کے اوقات کار، اور فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اس کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ قیدی کو جیل کے اندر دستیاب تمام طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور علاج کے معاملے میں کوئی کوتاہی نہیں برتی جا رہی۔
ذرائع کے مطابق راولپنڈی کے معروف سرکاری اسپتال ہولی فیملی اسپتال کی ایک ایمبولینس اڈیالہ جیل پہنچ گئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ایمبولینس میں مختلف ادویات اور جدید طبی آلات موجود تھے، جنہیں جیل کے اندر منتقل کیا گیا۔ ایمبولینس کو جیل کے گیٹ نمبر 5 کے ذریعے اندر بھیجا گیا، جہاں طبی عملے نے فوری طور پر ضروری انتظامات مکمل کیے۔
اطلاعات کے مطابق ایمبولینس میں آنکھوں کے معائنے کے لیے مخصوص طبی آلات بھی شامل تھے۔ ان آلات کے ذریعے آنکھوں کا تفصیلی معائنہ کیا جا سکے گا، جس میں بینائی کا ٹیسٹ، آنکھوں کے دباؤ کی جانچ اور دیگر ضروری طبی اقدامات شامل ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے طبی معائنے کے لیے ماہر ڈاکٹروں کی جیل آمد بھی متوقع ہے، جو موقع پر موجود رہ کر تفصیلی چیک اپ کریں گے اور اگر ضرورت محسوس ہوئی تو مزید علاج یا ریفرل کی سفارش کر سکتے ہیں۔
حکام کے مطابق یہ تمام اقدامات معمول کے طبی پروٹوکول کے تحت کیے جا رہے ہیں۔ جیل انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ کسی بھی قیدی کی صحت اور حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے، اور اسی تناظر میں تمام ضروری طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے کسی بھی قسم کی تشویش کو دور کرنے کے لیے مکمل شفافیت اختیار کی گئی ہے اور ہر پیش رفت کو متعلقہ حکام کے ساتھ شیئر کیا جا رہا ہے۔
سیاسی حلقوں میں اس پیش رفت کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ بانی پی ٹی آئی ملک کی ایک بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ رہ چکے ہیں اور ان کی صحت سے متعلق خبریں عوامی توجہ کا مرکز بنتی رہی ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں طبی رپورٹ کی باضابطہ ترسیل اور ماہر ڈاکٹروں کی آمد اس بات کا اشارہ ہے کہ حکام اس معاملے کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔
دوسری جانب طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ قیدیوں کے لیے معیاری طبی سہولیات کی فراہمی بین الاقوامی اصولوں اور انسانی حقوق کے تقاضوں کا حصہ ہے۔ کسی بھی زیرِ حراست شخص کی صحت کے حوالے سے باقاعدہ ریکارڈ رکھنا اور ضرورت پڑنے پر اسپتال یا ماہرین سے رجوع کرنا ایک قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔
ذرائع کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی مجموعی صحت کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے اور ان کے وائٹل سائنز مستحکم بتائے جاتے ہیں۔ تاہم آنکھوں کے معاملے پر مزید تفصیلی معائنے کی ضرورت محسوس کی گئی، جس کے پیش نظر خصوصی طبی آلات جیل کے اندر پہنچائے گئے ہیں۔ اگر ڈاکٹروں کی ٹیم مزید ٹیسٹ تجویز کرتی ہے تو متعلقہ حکام اس پر بھی غور کریں گے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی کے علاج سے متعلق پیش رفت انتظامی اور طبی سطح پر ایک مربوط عمل کی عکاسی کرتی ہے۔ ہوم ڈیپارٹمنٹ کو مکمل ریکارڈ کی فراہمی، ماہرین کی آمد، اور جدید طبی آلات کی دستیابی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں ڈاکٹروں کی حتمی رپورٹ اور سفارشات کے بعد مزید اقدامات کا فیصلہ متوقع ہے، جس سے اس معاملے کی آئندہ سمت کا تعین ہوگا۔

