بسنت: مہنگی ڈور اور پتنگ نے شہریوں کی خوشیاں چھین لیں

بسنت میں مہنگی ڈور اور پتنگ لاہور
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

ڈور اور گڈے کے ریٹ مقرر نہ ہونے سے بسنت اشرافیہ کا تہوار بن گیا

ڈور، پتنگ اور گڈوں کے ریٹس مقرر نہ ہونے کے باعث اس سال بسنت کی خوشیاں مہنگائی کی نذر ہوتی دکھائی دے رہی ہیں، جس کی وجہ سے درمیانے اور غریب طبقے کے افراد اس روایتی تہوار سے محروم رہنے پر مجبور ہیں۔ لاہور سمیت دیگر شہروں میں پتنگ بازی کے سامان کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس نے شہریوں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق لاہور میں پتنگ بازی کے لیے استعمال ہونے والی ڈور کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مارکیٹ میں دو پیس ڈور کا پناہ 6 ہزار سے 7 ہزار روپے میں فروخت ہو رہا ہے، جو عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔ اسی طرح پتنگ اڑانے کے لیے استعمال ہونے والے گڈے بھی مہنگائی کی لپیٹ میں آ چکے ہیں۔ تاوا گڈا 250 سے 300 روپے جبکہ ڈیڈ تاوا گڈا 500 سے 600 روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب پتنگوں کی قیمتیں بھی آسمان کو چھونے لگی ہیں۔ مختلف سائز اور ڈیزائن کی پتنگیں ایک ہزار روپے سے پندرہ سو روپے تک فروخت ہو رہی ہیں، جو پہلے چند سو روپے میں دستیاب ہوتی تھیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ایک مکمل سیٹ خریدنے کے لیے اب ہزاروں روپے درکار ہیں، جو عام محنت کش یا کم آمدنی والے افراد کے لیے ممکن نہیں رہا۔

لاہور کے مشہور علاقوں موچی گیٹ، باغبانپورہ، اندرون شہر اور دیگر مقامات پر رات کے اوقات میں خریداروں کا رش ضرور دیکھنے میں آیا، تاہم اس رش کا فائدہ عام شہری کے بجائے دکاندار اٹھاتے نظر آئے۔ خریداروں کے رش اور انتظامی نگرانی نہ ہونے کی وجہ سے دکانداروں نے پتنگ، ڈور اور گڈوں کے منہ مانگے دام وصول کرنا شروع کر دیے ہیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ بسنت جو کبھی ہر طبقے کا تہوار ہوا کرتا تھا، اب صرف صاحبِ حیثیت افراد تک محدود ہوتا جا رہا ہے۔ ماضی میں بچے، نوجوان اور بزرگ سب اپنی اپنی چھتوں پر پتنگ اڑاتے نظر آتے تھے، مگر اب مہنگائی نے اس روایت کو بھی متاثر کر دیا ہے۔ کئی خاندانوں نے اس سال بسنت منانے کا ارادہ ہی ترک کر دیا ہے۔

شہریوں نے سوال اٹھایا ہے کہ جب نان اور روٹی جیسی بنیادی اشیائے خورونوش کی قیمتیں مقرر کی جا سکتی ہیں تو پتنگ، ڈور اور گڈے کی قیمتوں کا تعین کیوں نہیں کیا جا رہا؟ ان کا کہنا ہے کہ اگر ضلعی انتظامیہ بروقت ریٹس مقرر کرے اور عملدرآمد کو یقینی بنائے تو نہ صرف مہنگائی پر قابو پایا جا سکتا ہے بلکہ شہری بھی اس تہوار سے بھرپور لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔

شہریوں نے ضلعی انتظامیہ کی عدم توجہ پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے نہ تو قیمتوں کی نگرانی کی جا رہی ہے اور نہ ہی ناجائز منافع خوری کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ دکاندار من مانے نرخ وصول کر رہے ہیں اور عام آدمی پس کر رہ گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بسنت نہ صرف ایک تفریحی تہوار ہے بلکہ اس سے وابستہ کئی چھوٹے کاروبار بھی ہوتے ہیں۔ اگر قیمتوں میں بے قابو اضافہ جاری رہا تو یہ تہوار رفتہ رفتہ ختم ہوتا چلا جائے گا، جس سے ثقافتی روایات کو بھی نقصان پہنچے گا۔ ان کے مطابق حکومت کو چاہیے کہ پتنگ بازی کے سامان کی قیمتوں کے حوالے سے واضح پالیسی بنائے تاکہ نہ صرف شہریوں کا استحصال روکا جا سکے بلکہ اس تہوار کو محفوظ اور منظم طریقے سے منایا جا سکے۔

شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ فوری طور پر پتنگ، ڈور اور گڈوں کے ریٹس مقرر کرے، ناجائز منافع خوری کے خلاف کارروائی عمل میں لائے اور بسنت کو ایک بار پھر عام آدمی کا تہوار بنایا جائے۔ بصورت دیگر مہنگائی اور عدم توجہ کے باعث لوگ بسنت منانے سے محروم رہیں گے اور یہ رنگا رنگ روایت صرف یادوں تک محدود ہو کر رہ جائے گی۔

مختصراً، پتنگ بازی کے سامان کی بڑھتی ہوئی قیمتیں بسنت کی خوشیوں پر گہرے سائے ڈال رہی ہیں۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ تہوار طبقاتی تقسیم کا شکار ہو جائے گا، جہاں صرف خوشحال طبقہ ہی اس روایت سے لطف اندوز ہو سکے گا، جبکہ غریب اور متوسط طبقہ ایک بار پھر محرومی کا شکار رہے گا۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]